07:48 am
اللہ کی کبریائی اور انذار آخرت

اللہ کی کبریائی اور انذار آخرت

07:48 am


(گزشتہ سےپیوستہ)
 اگلی آیات میں فرمایا جارہا ہے کہ ’’اور اپنے کپڑوں کو صاف رکھنے کا اہتمام کیجئے۔‘‘
نجاست دو طرح کی ہوتی ہے:(1)حسی نجاست‘ اور (2)معنوی نجاست۔ حسی نجاست یہ ہے کہ جسم یا کپڑوں پر کوئی گندگی لگی ہوئی ہو‘اس سے تو بچنا ہی ہے۔ لیکن ایک معنوی نجاست ہے جس کا ذکراگلی آیت میں آ رہا ہے: ’’اور ہر قسم کی گندگی سے دور رہیے۔‘‘
یہاں مراد شرک ہے اس لیے کہ سب سے بڑی گندگی شرک ہے۔

باقی سارے غلط افکار درجہ بدرجہ اس کے تحت آجائیں گے۔چنانچہ ہر نوع کی گندگی سے کامل گریز ‘ اسے ختم کرنا اور اس سے بچ کر رہنا بہت ضرور ی ہے۔ ’’اور زیادہ لینے کے لیے کسی پر احسان نہ کیجیے۔‘‘
 یعنی آپؐ جو دعوت کا کام کریں گے اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کریں گے تو اس کے بدلہ کا نہ سوچیں۔ آپﷺ کا رویہ یہ تھا کہ آپ کے پاس اگر کچھ بھی ہوتا تھا تو آپؐ غریبوں‘ناداروں‘ضرورت مندوں اورمحتاجوں میں خرچ کر دیتے تھے۔اس سے بھی بڑا احسان آپؐ کا یہ ہے کہ آپؐ لوگوں کو راہ راست دکھا رہے تھے اور انہیں جہنم کے عذاب سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ بہرحال یہاں فرمایا جارہا ہے کہ آپ جو بھی خیر کے کام کریں تو اس کے بدلے میں آپ کوبھلائی کی اُمید نہیں ہونی چاہیے یعنی سارے کام بس اللہ کی رضا کے لیے ہوں۔ جس کو ہمارے ہاں محاورے میں کہا جاتا ہے کہ’’ نیکی کر دریا میں ڈال‘‘۔یہ سب سے اونچا مقام ہے کہ دوسروں سے کوئی توقع نہ ہو۔ اگرچہ تعلیم یہ ہے کہ تمہارے ساتھ کوئی حسن سلوک کرے تو جواباً تم بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرو۔ یہ اپنی جگہ ہے‘ لیکن جو کسی کے ساتھ بھلائی یا احسان کر رہا ہے تواس کی عظمت یہی ہو گی کہ وہ جواباً کسی بھی احسان کی توقع میں یہ کام نہ کرے‘بلکہ صرف اللہ کے لیے کرے۔ ’’اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔‘‘
 ایک ترجمہ اس کا یہ کیا گیاہے کہ اس راستے میں جو مشکلات و تکالیف آئیں گی تو آپؐ اپنے رب کی خاطر ان کو برداشت کیجیے‘ صبر کیجیے۔ دوسرا ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ اپنے رب ہی سے اُمید رکھیے۔ یعنی اپنے اعمال کے بدلہ کی توقع اپنے رب سے ہی رکھیے۔ وہی آپؐ کو دے گا اور وہی دے سکتا ہے ‘کوئی اور دے ہی نہیں سکتا۔
اگلی آیات میں قیامت کی ہولناکیوں کا تذکرہ ہے:’جب صور میں پھونکا جائے گا۔تو وہ دن بہت سخت دن ہو گا۔کافروں پر وہ ہلکا نہیں ہو گا۔‘‘
اصل میں یہ وہی اندر کی بات ہو رہی ہے کہ اس دن سے خبر دار کیجئے جس دن دوبارہ اُٹھائے جائو گے اور اس دن پھر وزنِ اعمال ہو گا اور پھر آخری انجام کا تعین ہو گا۔ کافروں کے لیے وہ دن بہت بھاری ہو گا۔
حضوراکرم ﷺ کے ابتدائی دورکے خطبوںمیں سارا زورانذارِ قیامت پر ہی ہوتا تھا ۔نبی اکرمﷺ  کی دعوت کے ابتدائی دَور کا ایک خطبہ ’’نہج البلاغہ‘‘ میں نقل کیا گیا ہے‘ بطورِ مثال ملاحظہ ہو۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’لوگو! تم جانتے ہو کہ رائد (قافلہ کا رہبر و رہنما) اپنے قافلے کو کبھی دھوکہ نہیں دیتا۔ اللہ کی قسم! اگر (بفرضِ محال) میں تمام انسانوں سے جھوٹ کہہ سکتا تب بھی تم سے کبھی نہ کہتا‘ اور اگر تمام انسانوں کو فریب دے سکتا تب بھی تمہیں کبھی نہ دیتا۔ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں! میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف خصوصاً اور پوری نوعِ انسانی کی طرف عموماً      اللہ کی قسم! تم سب یقینا مر جائو گے جیسے (روزانہ) سو جاتے ہو‘ پھر یقینا اٹھائے جائوگے جیسے (ہر صبح) بیدار ہو جاتے ہو۔ پھر لازماً تمہارے اعمال کا حساب کتاب ہوگا اور پھر لازماً تمہیں پور ا پورا بدلہ ملے گا‘ اچھائی کا اچھا اور برائی کا برا‘ اور وہ جنت ہے ہمیشہ کے لیے یاآگ ہے دائمی۔‘‘
یعنی یہ نہیں ہے کہ تھوڑے درجے کی ناکامی ہو بایں طور کہ کامیاب لوگ زیادہ اونچی سطح کی زندگی گزار لیں اور ناکام لوگ ذرا نیچی سطح کی زندگی گزار لیں اور ان کے پاس بھی ضروریات کا سامان موجود ہو۔ایسا ہر گز نہیں ہے‘بلکہ وہاں کی ناکامی ابدی ہے اور وہاں کی کامیابی اور نا کامی میں زمین وآسمان سے بھی زیادہ فرق ہوگا۔لہٰذا اس نا کامی سے بچنے کی کوشش کرو۔

 

تازہ ترین خبریں