07:49 am
بھارتی ایٹمی حیثیت کا ممکنہ استعمال

بھارتی ایٹمی حیثیت کا ممکنہ استعمال

07:49 am

نریندر مودی نے کہا کہ بھارت نے ایٹمی ہتھیار دیوالی کے لئے نہیں رکھے ہوئے۔ محبوبہ مفتی نے  فوری   جواب دیا ہے کہ  پاکستان نے بھی ایٹمی ہتھیار عید کے لئے نہیں رکھے ہوئے۔ حال ہی میں بھارتی وزیراعظم مودی انتخابی مرحلے میں ایٹمی طاقت ہونے کا ذکر کر چکے ہیں جبکہ انتخاب میں تیسرا مرحلہ شروع ہے۔ چوتھا مرحلہ مئی کا دوسرا اور تیسرا ہفتہ ہوگا۔ پاکستان پر انتخابی سیاسی مقاصد کیلئے اگر بھارت نے حملہ کرنا ہے تو اس کا امکانی وقت 6مئی سے 23مئی کے درمیان ہوسکتا ہے۔ اگر ہم سقوط ڈھاکہ سے پہلے کے سیاسی حالات کا جائزہ لیں تو صدر ایوب خان کے ایوان صدر سے اخراج کے بعد اورجنرل یحییٰ خان کے اقتدار میں آنے کے بعد کے فیصلہ سازی کے معاملات کا جائزہ لیں تو سقوط ڈھاکہ کو حقیقت بناتے بھارتی عسکری حملہ آور وجود کے فاتحہ بننے کے اسباب سے سمجھ میں آجاتے ہیں۔ بھارتی عسکری حملہ آور وجود کو  پاکستان کے اندر سیاسی عدم استحکام کے ہمہ گیر وجود نے ہی ممکن اور آسان بنا دیا تھا۔ اگر پاکستان میں جنرل یحییٰ خان کا اقتدار نہ ہوتا‘ یا ہوتا مگر فیصلہ سازی کا سارا بوجھ غیر سنجیدہ جنرل یحییٰ خان اوران کے چند حواریوں کے پاس نہ ہوتا بلکہ بیورو فیصلہ ساز ہوتا تو شاید سیاسی عدم استحکام بھی یوں طلوع نہ ہوتا۔ مگر تلخ حقیقت یہی ہے کہ سیاسی عدم استحکام نہ صرف شدید تر تھا بلکہ بالآخر بے قابو ہوگیا جس سے وزیراعظم اندرا گاندھی نے مکمل سیاسی اور جنگی فائدہ اٹھایا اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا ڈالا تھا۔

اس تلخ تجربے کو سامنے رکھے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے انتخابی مرحلے میں بھارت کے ایٹمی طاقت کے تذکرے کو خالی خولی سیاسی ضرورت سے زیادہ مستقبل کی ممکنہ عسکری سیاسی حکمت عملی کا نام دینا پڑے گا۔ ہندتوا کا وجود تو ماضی عبید سے چلا آرہا ہے مگر یہ محض نظریہ تھا۔ سیاسی وجود اسے بی جے پی کے ذریعے ملا۔ ایڈوانی جیسے انتہا پسند اس مذہبی ہندو نظرئیے کو ذاتی اقتدار کے لئے استعمال کرتے رہے تھے مگر ایڈوانی اس کے باوجود بھی وزیراعظم نہ بن سکے مگر بطور وزیر داخلہ انہوں نے جنرل مشرف اور وزیراعظم واجپائی  میں ممکن ہوتے معاہدہ امن کو آگرے میں ناممکن بنا دیا تھا۔ ہندتوا فلسفے کے استعمال سے کے ایل ایڈوانی نے برصغیر کے لئے مطلوب امن کو ناممکن بنا کر ہندتوا کے پاکستان کے لئے عزائم آشکار کر دئیے تھے۔ جہاں ایڈوانی بھارتی سیاست میں ’’ہندتوا‘‘ کو لاچکے تھے۔ اس سے اگلا مرحلہ گجرات کے وزیراعلیٰ مودی نے استعمال کیا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف مورچہ زن‘ پاکستان دشمنی میں سیاسی اور مذہبی طور پر مبتلا‘ سماجی و معاشرتی طورپر گائو ماتا ہندو نظرئیے کے احیاء سے بھارتی مسلمانوں کے رزق اور سماجی مقام کا دو ٹوک انہدام‘ بھارت کی تاریخ میں مسلمان ہندو فسادات کی تلخ حقیقت موجود ہی ہے۔ مگر جس طرح سیاسی اور حکومتی سطح سے ریاستی سطح تک مسلمانوں سے دشمنی اور تذلیل بھارت میں اپنائی گئی ہے وہ وزیراعظم مودی کا ہندتوا عہد ہے۔ لہٰذا وزیراعظم مودی کا ایٹمی طاقت ہونے کا ذکر اور اس کے استعمال کی خواہش کا اظہار محض سیاسی بیان بازی یا انتخابی ضرورت نہ سمجھیں۔ واجپائی شاعر اور نرم مزاج تھے۔ تب بھی انہوں نے پاکستان کو نیچا دکھانے کے لئے ایٹمی دھماکے کئے تھے۔ حالانکہ  اس کی بھارت کو ضرورت نہ تھی۔ جب واجپائی جیسا نرم مزاج شاعر سیاسی حکمران غیر مطلوب طور پر ایٹمی دھماکے کر دیتا ہے تو عملاً وہ پاکستان کے لئے دوٹوک راستہ ایجاد کر دیتا ہے۔ اسی راستے کو وزیراعظم مودی مکمل طور پر اپنا چکے ہیں۔ اوپر ہم نے سقوط ڈھاکہ کے المیے کو وقوع پذیر کرنے میں پاکستان کے اندر کے سیاسی عدم استحکام کا ذکر کیا ہے۔ ماضی کے سیاسی عدم استحکام کو سامنے رکھ کے وزیراعظم مودی کے ایٹمی طاقت کے استعمال کے نعرے پر غور کریں تو یہ دھمکی چین‘ یا کسی اور پڑوسی ملک کے لئے ہرگز نہیں صرف پاکستان کے لئے ہے۔
دوسری طرف نظر آرہا ہے کہ تحریک انصاف کو پارلیمان میں اکثریت دستیاب ہی نہیں ہے۔ انہوں نے جس طرح وزیر خزانہ اسد عمر کو تبدیل کیا ہے اور کابینہ میں ردوبدل ہوا ہے اس سے تحریک انصاف کے اندر کی کمزوری اور عدم استحکام کی نشاندہی ہوگئی ہے۔ پنجاب و سرحد میں وزرائے اعلیٰ کے معاملات آسانی سے عدم استحکام کی طرف بھی جاسکتے ہیں۔ وزیراعظم نے معاشی استحکام کے لئے وزیر خزانہ اسد عمر کو رخصت کیا ہے۔ بظاہر یہ ان کا فیصلہ نہیں بلکہ ان پر مسلط شدہ فیصلہ ہے۔ مشیر خزانہ کی آمد آئی ایم ایف کی سخت شرائط‘ پاکستان  پر امریکی شدید دبائو تاکہ افغانستان میں امریکی کھیل کو کامیاب بنائے۔ امریکہ کا دوٹوک اسٹریٹجک بھارت سے اتحاد اور انتخابی عمل میں بھارت کے موجودہ وزیراعظم کا عوامی حمایت کے لئے ایٹمی حیثیت کو استعمال کا اشارہ؟ یہ ناپسندیدہ امکانات پاکستان کے لئے ہیں شدید ترین مالی بحران اور کچھ سیاسی بحران بھی مئی جون میں ہمیں دکھائی دے سکتا ہے۔ مئی کے پہلے نصف حصے اور جون کے اوائل میں سیاسی معاملات ممکن ہے وزیراعظم کے کنٹرول سے باہر جاتے ہوئے بھی دکھائی دیں۔  جولائی‘اگست میں مزید سیاسی عدم استحکام اگر وقوع پذیر ہو جائے تو ہمیںتعجب نہ ہوگا۔
روحانی شخصیات اور بزرگ ماہرین نجوم کو خدشہ ہے کہ نومبر‘دسمبر‘ جنوری مستقبل کے وہ ماہ ہیں جن میں بطور خاص  جنوری 2020ء میں پاک بھارت تباہ کن جنگ ممکن اور وقوع پذیر وجود دکھائی دیتی ہے۔ میری استدعا  ہے کہ سیاسی اور معاشی استحکام کا تدارک کرنے کے بارے میں سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ موجودہ حکومتی انہدام سے جو سیاسی  اور  معاشی عدم استحکام وابستہ ہے اس سے جو کمزور ترین پاکستانی وجود طلوع ہوگا وہ بھارت کو  پاکستان  پر حملہ آور ہونے کا راستہ دکھائے گا۔ اللہ تعالیٰ برصغیر کو کسی بھی قسم جنگ اور اس کی  تباہ کاریوں سے محفوظ فرمائے۔ (آمین) مشرقی سرحد کے ساتھ ساتھ پاک افغان اور پاک ایران سرحدوں سے معاملات سے وابستہ خرابیوں کو متوقع مسلط ہوتی بھارتی جنگ کی روشنی  میں ضرور سامنے رکھنا ہوگا۔

 

تازہ ترین خبریں