07:54 am
وزیراعظم کا پاکستان پر الزام

وزیراعظم کا پاکستان پر الزام

07:54 am

کیا واقعی نئے پاکستان کو ایران جیسے انقلاب کی تلاش ہے؟ کیا عمران خان پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر ڈھالنے کے دعوئوں سے یوٹرن لے چکے ہیں؟ پاکستان کی سرزمین ایران کے خلاف کسی قیمت پر استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ صرف ایران ہی نہیں بلکہ کسی بھی ملک کے خلاف سرزمین پاکستان کو استعمال ہونے سے روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

پاکستانی قوم کو اس بات پر فخر ہے کہ پڑوسی برادر ملک ایران کے اندر دہشت گردی کے لئے کبھی کسی پاکستانی جماعتی یا گروہ نے پاکستان کی سرزمین کو استعمال نہیں کیا‘ بلکہ جاننے والے جانتے ہیں کہ ایرانی حکومت کے خلاف سب سے بڑے مسلح گروہ  جند اللہ کے سربراہ کو طیارہ اتار کر جو گرفتار کیا گیا تھا یہ اطلاع بھی اس وقت کی پاکستانی حکومت نے ہی ایرانی حکومت کو دی تھی۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان  جوکہ  وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے ایران کے دورے پر گئے تھے انہوں نے وہاں کھڑے ہوکر یہ اعتراف کن معلومات کی بنیاد پر کیا کہ ’’دہشت گرد گروہ پاکستان کی سرزمین استعمال کرکے ایران میں داخل ہوکر اسے نقصان پہنچاتے ہیں‘‘ پاکستانی قوم عمران خان کے اس بیان سے نہ صرف حیرت زدہ ہے  بلکہ صدمے سے بھی دوچار ہے۔
71 سال ہوگئے پاکستان کو قائم ہوئے ان 71سالوں میں کتنے پاکستانی تھے کہ جو تہران یا ایران کے دیگر صوبوں اور شہروں میں دہشت گردی کرتے ہوئے ایرانی فورسز نے گرفتار کیے؟
پاکستان پر ایران میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کی تہمت لگانے والے وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ پاکستانی قوم کو اعتماد میں لینے کے لئے ان سوالات کا  جواب دیں اور ساتھ ہی مندرجہ ذیل سوالوں کا بھی کہ کلبھوشن یادیو ’’را‘‘ کے نیٹ ورک سے جڑے ہوئے دہشت گردوں کے ذریعے پاکستانیوں کو مارنے اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے کون سی سرزمین استعمال کرنے کا دعویٰ کیا تھا؟ اسی ضمن میں ایران میں دیئے گئے بیان کے بارے میں وزیراعظم آفس نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔وزیراعظم نے اپنے بیان میں غیر ریاستی عناصر کی بات کی، غیر ریاستی عناصر نے بیرونی پشت پناہی پر پاکستان کی سرزمین استعمال کی۔بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا معاملہ بھی اسی تناظر میں ہے اور اسی انداز میں ایران اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی تاہم وزیراعظم عمران خان پورے خطے کے امن کے لیے کوشاں ہیں۔ترجمان وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر دیکھنا غلط تشریح ہوگی اور اس طرح سے کرنا کسی طور بھی پاکستان کی خدمت نہیں ہوگی۔
وزر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ کیوں کہا تھا کہ اورماڑہ میں10 پاک نیوی‘ ایک کوسٹل گارڈز اور تین پاک فضائیہ کے جوانوں کو شہید کرنے والے بلوچ دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور  اور کیمپ ایران کی سرحد کے اندر قائم ہیں۔ گزشتہ دنوں کراچی سے سی ٹی ڈی پولیس نے چھ دہشت گرد گرفتار کیے۔ سی ٹی ڈی انچارج راجہ عمر خطاب نے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ چھ خطرناک دہشت گرد برادر پڑوسی ملک ایران کے تربیت یافتہ تھے اور انہوں نے فرقہ وارانہ بنیادوں پر کراچی میں 50 کے لگ بھگ علماء‘ مذہبی اسکالرز  اور دیگر شہریوں کو قتل کیا؟
وزیراعظم عمران خان ایران کا دورہ مکمل کرکے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں انہیں قوم کو بتانا چاہیے کہ جن دہشت گردوں نے فورسز کے 14 جوانوں کو شہید کرکے ایران میں قائم کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے ان دہشت گردوں کی گرفتاری کے لئے انہوں نے کیا اقدامات کیے؟ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایران کی سرحد کے اندر قائم بلوچ دہشت گردوں کے جن کیمپوں کا ذکر کیا  تھا۔ عمران خان دورہ ایران کے موقع پر ان کیمپوں کو بند کرنے کی بات کی یا نہیں؟ اور اگر کی تو ایران نے اس کا کیا جواب دیا؟
یا تو عمران خان اپنے وزیر خارجہ کے ایران کے حوالے سے دیئے جانے والے حالیہ بیان کی مذمت کرکے اسد عمر کی طرح انہیں بھی فارغ کر دیں یا پھر تسلیم کریں کہ انہوں نے دوسرے ملک میں جاکر ایران میں ہونے والی دہشت گردی میں پاکستان کی سرزمین کے استعمال کرنے کا جو اعتراف کیا وہ  غلط تھا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے ایران میں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان پر الزام لگانے کے عمل کے خلاف اس قدر بھرپور احتجاج کیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنا پڑا۔
سیدھی سی بات پاکستان ہمارا پیارا ملک ہے۔ میرے پیارے پاکستان نے اپنے 70 ہزار سے زائد فرزندوں کی لاشیں اٹھائی ہیں۔ یہاں کی مسجدوں‘ بازاروں‘ امام بارگاہوں نے درجنوں نہیں سینکڑوں بم دھماکوں کے دکھ برداشت کیے ہیں۔ اسی حال میں ہزار گنجی میں ہزارہ برادری کے درجنوں بے گناہ جوان دہشت گردی کا نشانہ بنا دیئے گئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اورماڑہ میں فورسز کے 14 جوان لاشوں کو تڑپایا گیا‘ یہ سب قربانیاں اس لئے نہیں دی گئی کہ یہاں غیروں کے انقلاب اور نظاموں کے تجربات کیے جائیں گے۔ پاکستان اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے حاصل کیا گیا تھا اور اس کا مقدر بالآخر اسلامی نظام ہی بنے گا۔ پاکستان میں بسنے والے سنی ہوں یا شیعہ‘ یہ سب پاکستانی ہیں۔ متحد ہیں اور انشاء اللہ پاکستانی قوم یہاں فرقہ واریت کو کبھی سر اٹھانے نہیں دے گی۔ مجھے آج ایران  سے کوئی شکوہ نہیں کرنا۔ سیانے کہتے ہیں کہ   ’’اگر اپنی مرغی اچھی ہو تو وہ دوسرے کے گھر جاکر انڈہ ہی کیوں دے‘‘؟

 

تازہ ترین خبریں