07:56 am
سندھ میں امتحانات کا ڈراما!

سندھ میں امتحانات کا ڈراما!

07:56 am

٭’میں استعفا نہیں دوں گا‘گورنر پنجابO نوازشریف: خاندانی ہسپتال میں 5 واں معائنہ، رہائی کو 31 دن گزر گئے، علاج شروع نہیں ہوا۔O سندھ اسمبلی میں ہنگامہO آصف زرداری کا 12 واں، شریف خاندان کا 5 واں منی لانڈرنگ فرنٹ مین گرفتار، اہم انکشافات O جعلی انعامات کے فراڈ عام ہو گئے O لاہور میں 11 ارب کی منی لانڈرنگ، بینکوں کے 9 ملازمین گرفتار O وزیراعظم کی زبانی گفتگو کا مسئلہ بڑھ گیا Oاطہر شاہ خاں جیدی کے لئے دُعائے صحت O سری لنکا: دھماکوں میں ہلاکتیں 321 ہو گئیں O سندھ: انٹرمیڈیٹ امتحانات، 5واں پرچہ بھی آئوٹ۔O کل دوسرا دن تھا، صبح 9 بجے سے دوپہر ایک بجے تک بجلی بند!۔


٭ایک ہنگامہ برپا ہے کہ وزیراعظم نے ایران میں یہ کیوں کہا کہ پاکستان سے بھی ایران میں دہشت گرد آتے رہے ہیں۔ وزیراعظم کی بات تو درست ہے البتہ یہ کہ دوسرے ملک میں جا کر اپنے ملک کے خلاف کوئی بات کرنا بالکل غلط روائت ہے۔ مگر وزیراعظم صاحب کو کون سمجھائے؟ ان کے گرد کوئی ایسا صاحب دانش موجود ہی نہیں جو انہیں معقول اور غیر معقول باتوں کا فرق سمجھا سکے! وزیراعظم نے پہلے دن سے زبانی تقریریںکرنے کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔بلا سوچے سمجھے، جو دل  میں آئے کہہ دیتے ہیں۔ بھارت کے پاکستان دشمن وزیراعظم مودی کی کامیابی کی خواہش کا اظہار کر دیا اس پر مقبوضہ کشمیر کی حریت پسند قیادت بھڑک اٹھی۔ خارجہ پالیسی کا عالم یہ کہ ایران کے دورے پر روانہ ہونے سے ایک روز پہلے ایرانی سفیر کو بلا کر سخت قسم کی ڈانٹ ڈپٹ والا مراسلہ پکڑا دیا۔ اس پر ایران میں جیسی ’’پرتپاک‘‘ پذیرائی ہوئی وہ سب کے سامنے ہے۔ ایک طرف اعلان ہوتا ہے کہ نیب مکمل طور پر آزاد ادارہ ہے، اس پر حکومت کا کوئی دبائو نہیں اور اگلے ہی روز وزیراعظم ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا، زرداری اور نوازشریف کو جیل جانا ہو گا! جیل کون بھیجے گا؟ نیب، کوئی عدالت یا حکومت؟؟
٭گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے گزشتہ روز گورنر ہائوس میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کا اعلان کیا۔ تاریخ میں کسی گورنر کی پریس کانفرنس کی شائد کوئی مثال ملتی ہو۔ صرف ایک امکان یہ ہو سکتا ہے کہ گورنر نے اپنا عہدہ چھوڑنا ہو تو ایسا اقدام ہو سکتا ہے۔ میڈیا میں خبر گردش کر رہی تھی کہ گورنر صاحب اچانک دو ہفتے کے لئے امریکہ چلے گئے تھے اس پر وزیراعظم عمران خان بہت ناراض ہیں۔ دوسری طرف جہانگیر ترین نے بھی گورنر محمد سرور کے خلاف تحریک تیز کر دی تھی۔ اس پس منظر کے ساتھ عام قیاس آرائی ہو رہی تھی کہ چودھری محمد سرور ایک بار پھر اس عہدہ سے استعفا دے رہے ہیں۔ مگر ہوا یہ کہ چودھری محمد سرور نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کیسا استعفا؟ کیوں استعفا؟ میں گورنر ہوں، گورنر رہوں گا! عمران خان کا ساتھی ہوں، ساتھ رہوں گا! اس کے بعد گورنر صاحب نے چند رسمی باتیں کیں! قارئین پوچھ سکتے ہیں کہ کچھ بھی نہیں ہونا تھا تو ہنگامی پریس کانفرنس کی کیا ضرورت تھی؟ میں کیا بتا سکتا ہوں؟ ہر کام انوکھا ہو رہا ہے تو ایک اور انوکھی بات سہی!
٭قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کا تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف اور سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کا پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف ہنگامہ! دونوں جگہ گالم گلوچ، غیر مہذبانہ الفاظ۔ کوئی کام نہ ہوسکا مگر بھاری تنخواہیں اور الائونس وصول کر لئے گئے۔ اسمبلیاں قومی خزانے اور وسائل کے لئے دیمک کی شکل اختیار کر گئی ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف بولتے وقت بدتمیزی کی انتہا ہو جاتی ہے۔ یہ لوگ قوم کو کیا درس دے رہے ہیں؟ اسمبلیوں میں آنے کے لئے کسی تعلیم، تہذیب، تمیز کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس وقت زیادہ دکھ ہوتا ہے جب ایک دوسرے کے خلاف بدتمیزی کے کھیل میں خواتین بھی شامل ہو جاتی ہیں۔ ان باتوں پر کیا لکھا جائے؟ یہ لوگ خود کو عوامی نمائندے قرار دیتے ہیں۔ انہیں کیا کہا جائے؟ ذمہ دار تو خود عوام ہیں جو ان لوگوں کو ووٹ دے کر اسمبلیوں میںبھیجتے ہیں۔ ہر بار یہی کچھ ہوتا ہے پھر گلہ شکوہ کیا؟
٭نوازشریف کے جیل میں پانچ فوجی و غیر فوجی میڈیکل بورڈوں کے معائنے ہوئے۔ ان بورڈوں میں ملک کے اعلیٰ ترین ڈاکٹر شامل تھے۔ ان بورڈوں کی رپورٹوں میں ایک بات پر اتفاق تھا کہ’’مریض‘‘ کو کوئی بے قابو قسم کی خطرناک بیماری لاحق نہیں۔ سپریم کورٹ نے گھر پر علاج کے لئے چھ ہفتے کی عارضی رہائی دے دی۔ واضح حکم ہے کہ چھ ہفتے بعد6 مئی کو پھر سے حود گرفتاری دینی ہو گی ورنہ پولیس گرفتار کر نے کیلئے جائے گی۔ نوازشریف کی رہائی کو 31 دن گزر چکے ہیں، صرف 11 دن باقی رہ گئے ہیں۔ ابھی تک کوئی ’خطرناک‘ چیز سامنے نہیں آئی تاہم حسب توقع باتیں ابھرنا شروع ہو گئی ہیں کہ کوئی ایسی بیماری لاحق ہو چکی ہے جس کا علاج صرف ملک سے باہر ہو سکا ہے۔ یہ جواز ایک مطالبہ اور پھرتحریک کی صورت میں آئندہ چند روز میں زور پکڑ سکتاہے۔ اس بارے میں شریف خاندان کا ’’شریف میڈیکل کمپلیکس‘‘ بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے اور سپریم کورٹ میں اس ہسپتال کی رپورٹوںکے ساتھ درخواست کی جا سکتی ہے کہ بیمار کی حالت زیادہ خراب ہو گئی ہے اسے فوری علاج کے لئے لندن لے جانا ضروری ہو گیا ہے۔ اس پر سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے تاہم منصوبہ زیرعمل آنے کے لئے بالکل تیار ہے۔
٭قومی اسمبلی کے اجلاس میں بلاول کے الزامات کے جواب میں سابق وزیرخزانہ اسدعمر کی نکتہ بہ نکتہ تقریر پڑھ لی ہوگی۔ اس میں اسد عمر نے بلاول کو یاد دلایا کہ موجودہ حکومت کے مقابلہ میں پیپلزپارٹی کا دور کتنا ’’شاندار‘‘تھا۔ ہر طرف شہد اور دودھ کی نہریں بہہ رہی تھیں، کوئی شخص زکوٰۃ لینے والا نہیں تھا۔ ہر شخص کی جیبیں بھری ہوئی تھیں (خود بلاول کی جیب میں پانچ کروڑ تھے، انتخابی گوشوارہ!) چلیں بلاول جانے اور اسد عمر جانے! آیئے دوسری باتیں کرتے ہیں۔
٭اب تک منی لانڈرنگ کیس میں زرداری خاندان کے 12 اور شریف خاندان کے پانچ فرنٹ مین گرفتار ہو چکے ہیں۔ بیشتر گرفتار شدگان منی لانڈرنگ کا اعتراف کر چکے ہیں اور ان دونوں خاندانوں کے خلاف شکنجہ کستا چلا جا رہا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ کسی وقت بھی سامنے آ سکتا ہے۔ اب تک شریف خاندان کی تین ارب روپے کی مبینہ منی لانڈرنگ سامنے آچکی ہے۔ زرداری خاندان کا ایک فرنٹ مین ندیم بھٹو تو تحقیقات کے دوران زاروقطار رونے لگا کہ حضور پانچ بچوںکا غریب باپ ہوں، زرداریوں کے نوڈیرو ہائوس کا انچارج ہوں، مجھے معلوم نہیں کہ میرے اکائونٹ میں اچانک 74 لاکھ روپے کہاں سے آ گئے تھے؟ زرداری خاندان نے اس شخص کو پہچاننے سے ہی انکار کر دیا۔
٭سندھ میں میٹرک کے بعد انٹرمیڈیٹ کے امتحانات بھی پرچے افشا ہونے اور کھلی نقل گردی کے شکار ہو گئے۔ میٹرک کے امتحانات میں تو کھلے عام حل شدہ پرچے بکتے تھے اور امتحانی ہال میںاعلانیہ نقل ہوتی تھی۔ طلبا موبائل فون پر پرچے کی تصویر باہر بھیجتے تھے اور باہر سے فوراً جوابات آنے شروع ہوجاتے تھے۔ حالت یہ تھی کہ امتحانی ہال کے باہر طلبا کو نقل کرانے والے افراد اسلحہ لئے کھڑے ہوتے تھے۔ میڈیا میں یہ باتیں سامنے آتی رہیںتو انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں میڈیا کی کوریج پر پابندی لگا دی گئی۔ اس کے بعد جو ہونا تھا وہ ہو رہاہے۔ گزشتہ روز تک انٹرمیڈیٹ کے سائنس، ریاضی اور دوسرے مضامین کے پانچ پرچے آئوٹ ہو چکے تھے۔ کوئی روک ٹوک نہیں۔ صرف یہ کیا گیا کہ ایک بورڈ کے ایک دو حکام کو فارغ کر دیا گیا ہے اور بس! پتہ نہیں سندھ میں کوئی حکومت ہے یا نہیں! ایسے اور ان کے نتائج کی کیا اہمیت ہو سکتی ہے! اس پر کیا تبصرہ کیا جا سکتا ہے؟

 

تازہ ترین خبریں