10:46 am
وزیر خزانہ کی تبدیلی

وزیر خزانہ کی تبدیلی

10:46 am

کچھ ہفتوں تک جاری رہنے والی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار اسد عمر  وفاقی وزارت خزانہ سے مستعفی ہوگئے۔ ساتھ ہی انہوں نے کابینہ میں شامل ہونے سے بھی معذرت کرلی اور وزیر توانائی کا قلمدان قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ریکارڈ کی درستگی کے لیے اسد عمر کو شاباش دینا ضروری ہے کیوں کہ انہوں نے انتہائی مایوس کن  حالات سے دوچار  ملکی معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کی۔ المیہ یہ ہے کہ اسد عمر کو حزبِ اختلاف بالخصوص مسلم لیگ ن کی جانب سے نشانہ بنایا گیا اور اس خوف ناک  صورت حال پر واویلا کیا  جس کے اصل ذمے دار وہ خود تھے۔

اسحاق ڈار نے روپے کی اصل سے  زائد قدر برقرار رکھنے کے لیے  7ارب ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ جھونک دیا جس کے باعث معیشت زوال پذیر ہوئی۔ وہ آج کل  ’’شدید علیل‘‘ ہیں اور لندن کی گلیوں میں گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی غیر عملی پالیسیاں اور شریف خاندان کے بلند و بانگ دعوؤں سے نوبت یہاں تک پہنچی کہ تحریک انصاف کو بر سر اقتدار آتے ہی ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے  12ارب ڈالر کا انتظام کرنا تھا۔ انتہائی کمزور معاشی حالات میں اسد عمر کو انتہائی دشوار اہداف حاصل کرنا تھے۔ دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے قرضوں کی ادائیگی کی خاطر رقوم کا انتظام کرنا اور اس کے ساتھ ہی پائیدار نمو کے لیے معیشت کو مستحکم کرنا ان کے ابتدائی چیلنج تھے۔ گزشتہ حکومت 6.6فی صد کا مالیاتی خسارہ چھوڑ کر گئی تھی اور اس کی تباہ کُن پالیسیوں کی وجہ سے ملکی قرضوں میں گزشتہ دس برسوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا اور ملک آئندہ کئی نسلوں تک قرضوں میں جکڑ گیا۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی گزشتہ دو سیاسی حکومتوں میں ملکی قرضے 6 ٹریلین سے بڑھ کر 30ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔ زرمبادلہ سے متعلق انتہائی مشکل حالات میں بھی اسد عمر نے آئی ایم ایف کی جانب سے عائد کی گئی کڑی شرائط کے سامنے ہار نہیں مانی۔ ان تشویش ناک حالات میں فوری طور پر کچھ عملی کوششیں درکار تھیں‘ اسد عمر نے معاشی خلا کو پُر کرنے کے لیے عمران خان کو چین، سعودی عرب، اقوام متحدہ اور دیگر دوست ممالک کے پاس جانے  پر راضی کیا‘ حالانکہ عمران خان اس سے گریز کررہے تھے۔ اسی سے حزب اختلاف کی منافقت کا اندازہ لگائیے کہ انہوں نے ان کاوشوں کو ’’کشکول‘‘ بڑھانے کا نام دیا۔ پاکستان کے دوست ممالک کی جانب سے کی جانے والی ’’برج فنانسنگ‘‘ کی بدولت پاکستان اب آئی ایم ایف کی شرائط پر مذاکرات کے قابل ہوگیا ہے اور اس کی شرائط میں نرمی بھی لائی جاسکے گی۔ اسد عمر اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور کسی سمجھوتے پر بھی تیار نہیں تھے ۔
ان حالات میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں ہی آئی ایم ایف سے رجوع کرنے  اور معاہدے کی شرائط پر تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف واویلا کررہی ہیں۔ ن لیگ نے بڑی آسانی سے یہ فراموش کردیا کہ فروری 2018 ء میں اس کے خیر خواہوں نے ملک کے تیزی سے کم ہوتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے آئی ایم ایف سے چھ یا سات ارب ڈالر حاصل کرنے کی تجویز دی تھی۔ مارچ 2018ء میں سینیٹ انتخابات کی وجہ سے وہ اس معاملے سے غافل رہے اور معاشی حالات مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پروگرام کا حصول آئندہ منتخب ہونے والی حکومت پر چھوڑ دیا۔نگران حکومت آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا اختیار ہی نہیں رکھتی تھی اور اسی لیے یہ معاملہ آخر کار تحریک انصاف کے برسر اقتدار آتے ہی انہیں درپیش ایک  چیلنج میں تبدیل ہوچکا تھا۔
عام حالات میں بھی کسی پارلیمانی جمہوریت میں کابینہ میں اتھل پتھل اور تبدیلی شہ سرخی اور بریکنگ نیوز بنتی ہے۔ مزید یہ کہ کابینہ کا کوئی رکن یا کوئی سینئر بیورو کریٹ اگر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کررہا ہو، یا اس کی کارکردگی نظر نہ آرہی ہو تو اسے تبدیل کردیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بات کا بتنگڑ بنانے کا رجحان عام  ہے، صرف سنسنی پھیلانے کے لیے اسد عمر کی کابینہ سے علیحدگی کو حزب مخالف کی ’’فتح‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا۔ تاریخ کے سرسری جائزے ہی سے پتا چلتا ہے کہ ن لیگ نے کئی وزیر خزانہ تبدیل کیے، اسحاق ڈار(جنہیں احتساب عدالت مفرور قرار دے چکی ہے اور نیب عدالت میں پیش کرنے کے انہیں لندن سے پاکستان لانے کے لیے پُر امید ہے) کے بعد مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ مقرر کیا گیا۔ پیپلز پارٹی اس معاملے میں سب سے آگے رہی اور 2013ء میں اپنے دورِ حکومت کے خاتمے تک وزارت خزانہ کے لیے پانچ مختلف چہرے تبدیل کیے۔ اس دور میں حفیظ شیخ نے سب سے زیادہ یعنی تین سال کے  عرصے تک یہ ذمے داری نبھائی، شوکت ترین 15ماہ اور نوید قمر پانچ ماہ تک اس منصب پر فائز رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ڈاکٹر حفیظ شیخ نے استعفیٰ دیا تو صدر زرداری نے فوراً یہ قلم دان اپنے قابل اعتماد سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے سپرد کردیا جو محض 43 دن وزیر رہے۔ اس پورے عرصے میں زرداری نے صدراتی طرزپر حکومت چلائی اور سلمان فاروقی ڈی فیکٹو وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے طور پر کام کرتے رہے۔ داخلی قرضے ڈرامائی انداز میں بڑھ گئے ملکی معیشت پر جس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔ اس پورے دور میں بھاری رقوم جعلی اکاؤنٹ اور ان سے غیر قانونی غیر ملکی اکاؤنٹس میں گردش کرتے رہیں۔
حفیظ شیخ متاثر کُن کارکردگی کا ریکارڈ رکھنے والے معیشت داں ہیں۔ 2000ء سے 2002ء تک انہوں نے سندھ کے وزیر خزانہ و منصوبہ بندی کی ذمہ داریاں نبھائیں اور سندھ کو خسارے سے نکالا۔  بعدازاں مشرف دور میں وفاقی وزیر برائے نجکاری رہے۔ بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت رکھتے ہیں اور انہیں پاؤں جمانے کے لیے وقت درکار نہیں ہوگا۔ بجٹ آنے میں جتنا وقت بچا ہے اس دوران انہیں اس پر کچھ نہ کچھ کام کرنے کا موقع بھی مل جائے گا۔ حفیظ شیخ کو کئی بھاری پتھر اٹھانا ہوں گے۔ اسی  ماہ  پاکستان آنے والی آئی ایم ایف کی ٹیم سے مذاکرات  ان کا پہلا چیلنج ہوگا۔   گرتی ہوئی معیشت اور بڑھتے ہوئے افراطِ زر کو روکنے کے لیے اگر حفیظ شیخ اپنی مرضی کی ٹیم کا انتخاب کرتے ہیں تو وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں گے۔ اسد عمر کے مشیروں اور معاونین نے اچھے انداز میں ان کا ساتھ نہیں دیا۔ اس سے یہی سبق حاصل کرنا چاہیے کہ اپنے خاص عزائم رکھنے والے اور ’’اسٹیٹس کو‘‘ کے محافظ بیوروکریٹس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ حفیظ شیخ کو نہ صرف اپنے پیش رو وزیر خزانہ کی رخصت کے اسباب سے سبق حاصل کرنا چاہیے بلکہ اسد عمر کی معاونت نہ کرنے والے عناصر سے بھی دور رہنا چاہیے۔
حفیظ شیخ اگر ایسی پالیسیاں نافذ کرنا چاہتے ہیں جن کے نتیجے میں حکومتی اخراجات کم ہوں، محصولات میں اضافہ ہو، خسارے میں کمی آئے، سرمایہ کاری اور شرح نمو میں اضافہ ہو تو اس کے لیے انہیں جہاں سے ممکن ہو مدد مہیا ہونی چاہیے۔ اسد عمر سے مشاورت بھی مفید ہوگی۔ اسد عمر کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں۔  (فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)

 

تازہ ترین خبریں