10:50 am
قرآنی کمپیوٹر بوائز اور قرآن کے معجزے

قرآنی کمپیوٹر بوائز اور قرآن کے معجزے

10:50 am

جامعہ الصفہ کو دیکھنے وہاں کے قرآنی کمپیوٹر طلباء کی زیارت کم و نامور مذہبی اسکالر مفتی زبیر حق نواز سے ملنے کا مجھے اشتیاق تو تھا ہی لہٰذا جب میرے دوست طلحہ رحمانی نے جامعہ کے دورے کا پروگرام مرتب کیا تو اس خاکسار نے فوراً حامی بھرلی‘ بلدیہ ٹائون کو ’’کن کٹوں‘‘ ’’مچھ کٹوں‘‘ اور لسانی دہشت گردوں کی آمجگاہ کے طور پر جانا جاتا تھا‘ ایک بڑی فیکٹری کو اس کے ڈھائی سو مزدوروں سمیت جلائے جانے کے خوفناک واقعہ نے بھی بلدیہ ٹائون کو پوری دنیا میں  بدنام کیا‘ لیکن شہر کراچی کے علاقے بلدیہ ٹائون سعید آباد میں گزشتہ چالیس سالوں سے قائم جامعہ دارالعلوم الصفہ آکر اندازہ ہوا کہ  بلدیہ ٹائون کی اصل پہچان تو دین و دنیا کی تعلیم کو عام کرنے والا  یہ عظیم ادارہ ہے۔ شیخ الجامعہ حضرت مولانا حق نواز کہ جو اس ادارے کے بانی و مہتمم ہیں ان سے ملاقات تو نہ ہوسکی۔ البتہ ان کے ہونہار فرزند ارجمند کہ جو ٹی وی چینلز کی دنیا میں اپنی حق گوئی کی وجہ سے  پاکستان میں بسنے والے کروڑوں مذہب پسندوں کے پسندیدہ ہیں انہوں نے نہ صرف ہمارا بھرپور استقبال کیا بلکہ جامعہ کا مکمل دورہ بھی کروایا‘ ویسے مدارس اور دینی ادارے تو پاکستان میں ہزاروں ہیں‘ لیکن اس ادارے کی منفرد خصوصیات میں سے سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں قرآن کریم کے حفظ کے حوالے سے ایسے طلباء تیار کئے جاتے ہیں کہ جنہیں حفظ کے ساتھ ساتھ قرآن مقدس کے حوالے سے معلومات کا خزانہ قرار دے دیا جائے تو زیادہ صحیح ہوگا۔

یہاں کے طلباء جب سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک میں ہونے والے حسن قرآت کے مقابلوں اور محافل میں شریک ہوئے تو دنیا نے انہیں’’ قرآنی کمپیوٹر‘‘ کا لقب دے ڈالا اور قرآن پاک کی برکت سے انہوں نے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کیا۔ یہ خاکسار قرآن مقدس کے حوالے  وہاں کے طلباء کی ذہانت و ذکاوت اور بے مثال استعداد دیکھ کر ششدرہ رہ گیا‘ وہاں کے طالب علم کو قرآن پاک کی کسی بھی سورت کا نام بتانے کی بجائے صرف نمبر بتا کر اس کی کسی آیت نمبر کا سوال کیا جائے تو وہ بارہ‘ تیرہ سال کا بچہ پوچھے گئے سوال کا جواب ان معلومات کے ساتھ دے گا کہ یہ سوال قرآن پاک کی سات منزلوں میں سے کس منزل میں ہے؟ اور اس منزل میں کل کتنے پارے‘ کتنی سورتیں‘ کتنے رکوع‘ کتنے صفحے‘ کتنی آیات‘کتنے کلمات‘ کتنے حروف ہیں؟ اگر آپ قرآن پاک کے کسی بھی صفحہ کا نمبر ان قرآنی کمپیوٹر بچوں سے پوچھیں۔ مثلاً فلاں صفحہ کی پہلی لائن سنائو تو یہ بچے نہ صرف پہلی لائن سنا دیں گے بلکہ آخری آیت بھی بتا ڈالیں گے‘ اگر قرآنی کمپیوٹر  بچے سے کوئی آیت نمبر کا سوال کرنے کے بعد اگر پیچھے کی طرف پڑھوانا چاہیں تو  یہ بچے بغیر کسی توقف کے پیچھے کی طرف بھی سنانا شرو ع کر دیں گے۔
ایک اندازے کے مطابق قرآن پاک میں کل 18ہزار متشابہات ہیں ان متشابہات میں سے کوئی بھی سوال کیا جائے تو بچے فر‘ فر اس کا جواب دیتے ہیں‘ ان قرآنی کمپیوٹر بچوں کو قرآن مجید کے تمام حروف کی تعداد کا علم ہے‘ یعنی ’’الف‘‘ سے لے کر ’’ی‘‘ تک تمام  حروف  کی تعداد کیا ہے؟ مثال کے طور پر  ’’الف‘‘ قرآن پاک میں کتنی مرتبہ استعمال ہوا؟ ’’ب‘‘ کتنی مرتبہ ؟ ’’ ت‘‘ کتنی مرتبہ؟ اسی ترتیب کے ساتھ ’’ی‘‘ چلے جائیں یہ بچے آپ کو متعلقہ حروف کی تعداد بتاتے چلے جائیں گے۔اسی طرح قرآن پاک میں کتنی زیریں‘ کتنی زبریں‘ کتنے پیش‘ کتنی شدیں اور کتنے ’’نقطے‘‘ ہیں...قرآن پاک میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا حرف کون سا ہے؟ یا سب سے کم استعمال ہونے والا حرف کون سا ہے؟ قرآن پاک میں پختگی اور معلومات قرآن کے حوالے سے طلباء کی بے مثال اور حیرت انگیز ذہانت دیکھ کر انسان کا قرآنی معجزوں  پر یقین اور بڑھ جاتا ہے‘ جامعہ الصفہ کی ایک خاص بات یہاں دیگر شعبوں کے علاوہ سب سے اہم شعبہ ’’ شعبہ قرآن‘‘ ہے جس میں طلباء و طالبات کی ساٹھ سے زائد کلاسیں مصروف عمل ہیں۔
اس خاکسار نے مفتی زبیر حق نواز سے پوچھا کہ آپ کے طلباء کو ’’قرآنی کمپیوٹر بوائز‘‘ کیوں کہا جاتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ان بچوں سے قرآن پاک میں کسی  بھی نوعیت کا کوئی بھی سوال کسی بھی نہج پر کیاجائے... یہ بچے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کا جواب اتنی تیزی سے دیتے ہیں کہ کمپیوٹر کی سرچنگ کو بھی مات دے دیتے ہیں‘ یہ حیرت انگیز خصوصیات دیکھ کر میڈیا اور دیگر ممالک کے ماہرین علم نے ان طلباء کو قرآنی کمپیوٹر بوائز قرار دیا تو حضرات علماء کرام اور اکابرین امت نے اس  بے پناہ مہارت کو قرآن کا معجزہ قرار دیا ہے۔ جامعہ الصفہ میں ابتدائی دینی تعلیم میں درجہ حفظ و ناظرہ سے لے کر عالم کورس میں دورہ حدیث تک درس نظامی کی تعلیم دی جارہی ہے جس میں تقریباً5ہزار طلبہ و طالبات زیر تعلیم  ہیں‘ صرف اس سال جامعہ الصفہ سے حفظ و ناظرہ  مکمل کرنے والے طلباء و طالبات کی تعداد 500سے متجاوز تھی جبکہ دورہ حدیث شریف کی تکمیل کرنے والے طلباء و طالبات کی تعداد 110ہے۔
اب ذرا لنڈے کے لبرلز اور سیکولر شدت پسند متوجہ ہوں کیونکہ ان کے ذوق کی بات لکھنے  لگا ہوں اور وہ یہ کہ اس ادارہ کا شعبہ سکول ’’ صفہ سیکنڈری سکول‘‘ کے نام سے سندھ بورڈ سے باقاعدہ رجسٹرڈ منظور شدہ ہے‘ جہاں مدرسے کے ہونہار طلباء کو میٹرک تک عصری علوم سے بھی آراستہ و پیراستہ کیا جاتا ہے‘ مزید مزیدار بات یہ کہ یہاں طلباء کو میٹرک صرف سائنس کے ساتھ ہی کروایا جاتا ہے‘ یہاں کے طلباء صرف ’’قرآنی کمپیوٹر بوائز‘‘ ہی نہیں بلکہ میٹرک طلباء کی اکثریت اے ون اور اے گریڈ سے امتحانات میں کامیابی حاصل کرتی ہے اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ جس صوبہ سندھ کا نام نقل کی دنیا میں اول نمبر کا حقدار ہے۔ اس صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں میٹرک کے امتحانی سینٹرز میں جامعہ الصفہ کے طلباء جب امتحان دینے کے لئے پہنچتے ہیں تو ساتھ ہی ان کے اساتذہ بھی وہاں پہنچ کر امتحانی سینٹرز کے ذمہ داران کو پوری جرات کے ساتھ شیخ الجامعہ مولانا حق نواز کا یہ پیغام پہنچاتے ہیں کہ ان کی جامعہ کے ان طلباء کی کڑی نگرانی کی جائے۔
مفتی زبیر حق نواز نے ایک سوال کے جواب میں قوم کے ان ہزاروں بچوں اور ب چیوں کو زیور تعلیم سے ’’مفت‘‘ آراستہ کیا جاتا ہے بلکہ رہائشی طلباء کی کفایت بھی مدرسہ کے ذمہ ہے‘ اب میرا لنڈے کے لبریز اور موم بتی مافیا شدت پسندوں کو چیلنج ہے کہ وہ کوئی ایسا ایک انگلش ادارہ دکھائیں کہ جہاں بچوں کو مفت تعلیم دی جا رہی ہو؟

 

تازہ ترین خبریں