11:00 am
امریکی استثنیٰ بیکار

امریکی استثنیٰ بیکار

11:00 am

ایران کومزیدبیلسٹک میزائل تجربات سے روکنے کیلئے امریکی طیارہ برداربحری بیڑے جان سی سٹینس کی خلیج آمدسے امکان ہے کہ چاہ بہاربندرگاہ کو امریکی پابندیوں سے استثنیٰ دلانے کی بھارتی امیدیں دم توڑجائیں گی۔اس بندرگاہ نے وسط ایشیائی ریاستوں اوربھارت کے مربوط معاشی روابط میں معاون کا کرداراداکرناتھا۔ یہ بحری  بیڑہ ایسے وقت خلیج پہنچا جب ٹرمپ انتظامیہ 2015کی نیوکلیئرمعاہدہ سے علیحدگی کے بعد ایران پرسخت معاشی پابندیاں عائدکرنے کے بعد ایرانی قومی فوج کودہشتگرد قراردے چکی ہے،جس سے ممکنہ فوجی محاذآرائی کا خطرہ بہت بڑھ چکا ہے۔ بیڑے کی دوماہ کیلئے آمد کے ساتھ ہی چاہ بہارمیں پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹرپرخودکش حملہ ہوا جس میں 2   افرادہلاک 40زخمی ہوئے۔سعودی اور ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی سنی جہادی گروپ انصارالفرقان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی،ایران دعوی کرتاہے کہ اس گروپ کوسعودی عرب کے علاوہ امریکااوراسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔

سعودی اخبارشرق الاوسط نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیاکہ حملہ ایرانی حکومت کے خلاف بلوچ اقلیت کے بڑھتے غصے کاعکاس ہے کیونکہ ایرانی حکومت نے چاہ بہارسے ہزاروں بلوچ خاندان بے دخل کرکے وہاں فارسی بولنے والے آبادکیے تاکہ آبادی کاتناسب تبدیل کیا جاسکے ۔ علاوہ ازیں ایرانی حکومت شام اور عراق میں لڑنے والے افغان شیعوں کو شہریت دے کرچاہ بہارمیں آبادکررہی ہے۔اخبارنے دعویٰ کیاکہ ایران مخالف بلوچ تحریکوں نے تہران کے خلاف اپنی کاروائیاں تیزکردی ہیں جوکہ بلوچوں کی آبائی علاقوں سے بے دخلی اورتنہائی کاشکاربنائے جانے کامنصوبہ روکنے کی ایک کوشش ہے۔سعودی عرب جوکہ ایران کے ساتھ محاذ آرائی کی امریکی پالیسی کا حامی ہے،شیعہ مخالف انتہا پسند سنی تنظیموں اورپاکستانی بلوچستان کے سرحدی اورایرانی صوبے سیستان وبلوچستان جہاں چاہ بہارواقع ہے،کے ایران مخالف مدرسوں کوبھاری فنڈنگ کرتارہاہے۔
 جنگجوں کے مطابق اس فنڈنگ کامقصد لسانی اقلیتوں میں بے چینی پیداکرکے ایران کوغیرمستحکم کرناتھا۔امریکی حکام کے مطابق بحری بیڑے کی خلیج موجودگی ایرانی بیلسٹک میزائل تجربات کاجواب ہے۔امریکی پابندیوں کی ایک وجہ ایران کوبیلسٹک میزائل تجربات سے بازرکھنا ہے۔ایرانی حکام کااصرارہے کہ ان کامیزائل پروگرام دفاعی نوعیت کاہے۔ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیوکے مطابق ڈیٹرنس بحال کرنے میں ناکامی خطے میں کشیدگی کوبڑھانے کاپیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔طیارہ بردارامریکی بیڑے کی آمداورایران میں سعودی امریکی سرپرستی میں سیاسی تشدد کے امکانات کے باعث خلیج میں فوجی کشیدگی کاخطرہ ہی نہیں بڑھابلکہ افغانستان کی پیچیدہ صورتحال کے باعث چاہ بہارکی بھارتی سرمایہ کاری کوایران کے خلاف پابندیوں سے استثنیٰ ملنے کاامکان بہت معدوم ہوگیاہے۔ ایرانی اوربھارتی حکام کوخدشہ ہے کہ امریکا کی بڑھتی فوجی موجودگی اورکشیدگی میں اضافے سے چاہ بہارکوبھارت اوروسط ایشیاکے مابین تجارتی مرکز میں  تبدیل کرنے کی کوششیں بری طرح متاثر ہوسکتی ہیں،یہاں تک کہ امریکی استثنی بھی بیکار ہوجائے گا۔
یہاں یہ جاننابھی ضروری ہے کہ اگر امریکہ اوردیگرایٹمی قوتیں میزائل ٹیکنالوجی رکھنے کاحق رکھتی ہیں توایران پرکس منہ سے پابندی  لگانے کامطالبہ کرتے ہیں؟اس وقت اسلحہ سے متعلق ایک امریکی تحقیقی ادارے کے مطابق دنیامیں بارہ ہزارسے زائد جوہری اسلحے ہیں۔ ان میں سے تین ہزار اسلحوں کے علاوہ یہ تمام اسلحے تسلیم شدہ جوہری قوتوں کے پاس ہیں ۔ واشنگٹن کے آرمزکنٹرول ایسوسی ایشن کے اندازہ کے مطابق چھ ہزارامریکہ کے پاس پانچ ہزارروس کے پاس،350فرانس کے پاس،300چین کے پاس اور220سے کچھ کم برطانیہ کے پاس ہیں۔یہ پانچوں ممالک 1968 میں جوہری عدم توسیع کے معاہدے(این پی ٹی) کے تحت جوہری قوت تسلیم کیے گئے تھے۔امریکہ نے1945میں ہی جوہری صلاحیت حاصل کرلی تھی جبکہ روس نے1949 میں،برطانیہ نے 1950میں ،فرانس نے 1960اور چین نے 1964میں حاصل کی تھی۔امریکاکے بارے میں یہ بھی کہاجاتا ہے کہ اس کے پاس تین ہزارجوہری وارہیڈز ریزرومیں ہیں جبکہ روس کے پاس گیارہ ہزارکے قریب نان آپریشنل اسلحوں کا ذخیرہ ہے۔
 امریکہ کے جوہری پروگرام پرحال ہی میں منعقدہ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے اوہیوسے ری پبلکن امریکی کانگریس میں ڈیوڈ ہوبسن نے کہا کہ جب ہم ایران اورشمالی کوریا جیسے ممالک سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ جوہری اسلحوں کوترقی دینے کے اپنے پروگرام سے بازآجائیں توامریکہ کی جانب سے نئے جوہری اسلحوں کی آزمائش کے اقدامات ایک منافقانہ حرکت ہوگی۔ دی آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کااندازہ ہے کہ بھارت  45سے 95کے درمیان،پاکستان 30 سے50 کے درمیان اوراسرائیل 75سے 200 کے درمیان نیوکلیئر وارہیڈزرکھتاہے۔سی آئی اے کاکہناہے کہ شمالی کوریانے بھی ایٹمی جوہری سرگرمیوں سے متعلق کثیرالملکی مذاکرات   سے الگ ہونے کااعلان کردیاہے،کے پاس ایک یا دو جوہری بم ہیں۔اے سی اے کا کہنا ہے کہ پیانگ یانگ کے پاس اسپینٹ نیوکلیئرایندھن بھی کافی  مقدارمیں موجودہیں جس سے وہ کم ازکم چھ جوہری بم تیارکرسکتا ہے۔

 

تازہ ترین خبریں