11:02 am
موبائل فون کارڈ پر کیا گزری!

موبائل فون کارڈ پر کیا گزری!

11:02 am

٭موبائل فون کارڈ پر تمام ٹیکس بحال، حکومت کوتقریباً 90 ارب سالانہ آمدنی ہوگیO وزیراعظم چار روزہ دورے پر چین روانہ O وزیراعظم کے ’بلاول صاحبہ‘ کہنے پر ہنگامہ O آصف زرداری کا سب سے بڑا رازدان ڈاکٹر ڈنشا گرفتار، حمزہ و سلمان شہباز کے رازدان بھی گرفتار O گورنر سرور چودھری کی اپنی فائونڈیشن سے علیحدگی O سندھ اسمبلی میں ہیلمٹ! Oسندھ، گیارہویں کا کیمسٹری کا پرچہ بھی آئوٹ! پانچ پرچے پہلے آئوٹ ہو چکے ہیں۔

٭سپریم کورٹ کے ایک بنچ نے موبائل فون کے کارڈوں پر ٹیکس بحال کر دیا ہے۔ اس ٹیکس کو دس ماہ پہلے سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک بنچ نے ازخود کارروائی سے معطل کیا تھا۔ یہ کیس گزشتہ روز زیر سماعت آیا تو چیف جسٹس نے مختصر فیصلے سے اس حکم امتناعی کو خارج کر دیا اور ٹیکس بحال کر دیا۔ یہ ٹیکس 25 فیصد بنتا ہے۔ اس سے حکومت کو سالانہ سات ارب روپے سے زیادہ آمدنی ہوگی۔ سرکاری وکیل نے عدالت میں بتایا کہ پچھلے سال جون سے اب تک حکومت 90 ارب روپے کی آمدنی سے محروم ہو چکی ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے فیصلہ میں کہا ہے کہ عدالت حکومت کے ٹیکسوں کے معاملہ میں مداخلت نہیں کر سکتی! سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بالکل درست اور واجب ہے کہ ٹیکسوں کا نظام مکمل طور پر حکومت کی صوابدید اور اختیارات کی حدود میں آتا ہے۔ عدالت حکومت کے انتظامی معاملات میں دخل نہیں دے سکتی۔ ظاہر ہے عوام کے لئے ٹیکس کی بحالی خوش گوار ثابت نہیں ہو سکتی جب کہ اک دم 25 فیصد ٹیکس بہت بھاری اور ناقابل برداشت ہے۔ ستم یہ کہ یہ ٹیکس ’شریفوں‘ کے عہد میں عائد کیا گیا، انتہائی بدحالی کی شکار موجودہ حکومت کے لئے 84 ارب سالانہ کی آمدنی کا اضافہ’ ’بُھوت کا پکوان‘‘ ثابت ہو گا، وہ اسے کیسے چھوڑ سکتی ہے؟ قارئین کرام! ’’بھوت کا پکوان‘‘ اُردو محاورہ ہے اس کے معنی اس مال کے ہیں جو بیٹھے بٹھائے مفت میں حاصل ہو جائے! بہر حال 25 فیصد کا تَشَطُّط ٹیکس تَشَتُّت کے شکار بَیٹل عوام کے لئے کیسے قابل قبول ہو سکتا ہے؟ معذرت! آج مجھ پر مُشکل الفاظ نازل ہو رہے ہیں۔ تَشَطُّط (تَ شَ طُّ ط) عربی کا لفظ ہے اس کے معنی ہیں، ’’حَد سے گُزر جانا۔‘‘ تَشَتُّت( تَ شَ تُّ ت) فارسی لفظ ہے اس کے معنی انتشار اور پریشانی کے ہیں۔ ’بَیٹل‘ ہندی زبان سے آیا ہے اس کا مطلب ہے، بد نصیب، کم بخت!۔چلیں اب صرف سادہ اُردو چلے گی! میں 25 فیصد ٹیکس کے انتہائی ناواجب بوجھ پر عوام کے دکھ میں شریک ہوں۔
٭وزیراعظم صاحب کی زبان کوئی نہ کوئی گُل کھلا دیتی ہے۔ ابھی ایران میں ان کے زبانی بیانات سے پیدا ہونے والا اُدھم ختم نہیں ہوا تھا کہ موصوف نے بلاول زرداری کو صاحبہ کہہ دیا اور یہ بھی کہ ’’مولانا فضل الرحمان کی قیمت بہت سستی ہے،  فقط کشمیر کمیٹی کی چیئرمینی اور ڈیزل کا پرمٹ!‘‘۔ مولانا فضل الرحمن اپنے بارے میں بات سے خود نمٹ لیں گے البتہ بلاول کو ’صاحبہ‘ کہنا اچھا خاصا سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔ پیپلزپارٹی اسے یوں اچھال رہی ہے جیسے کوئی زلزلہ آ گیا ہو! بات تو واقعی نامناسب ہے مگر ہمارے ہاں اس سے کہیں زیادہ سخت باتیں ہوتی رہی ہیں۔ پیپلزپارٹی کے ’’نانا ابو‘‘ سربراہ ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں ہائی کورٹ کے سامنے مال روڈ پر انتخابی جلسہ میں ایئرمارشل اصغر خان کو آلو کہا، اور یہ کہ ہم آلو بُھون کر کھا جائیں گے۔ اسی سٹیج پر بوڑھوں کی طرح جھک کر ہاتھ میںچھڑی کے ساتھ رقص کرتے ہوئے نوابزادہ نصراللہ خاں کی نقل اتاری۔ جلسے سے کسی نے چودھری ظہورالٰہی کا نام پکاراتو بھٹو نے کہا 'Who is She?'۔ آگے چلئے۔ جنرل ضیاء الحق نے صحافیوں سے کہا ’’سیاست دان کتے کی طرح دُم ہلاتے میرے پیچھے پھرتے ہیں۔‘‘ بے نظیر بھٹو نے سرعام سپریم کورٹ کو ’کنگرو کورٹ‘ (غلام عدالت) کہا۔ 70ء کے انتخابات میں جماعت اسلامی نے بھٹو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہودی ٹھاہ کا نعرہ لگایا تو پیپلزپارٹی کا جواب آیا ’’مودودی ٹھاہ!‘‘۔ اسی دور میں پیپلزپارٹی کے اخبار مساوات نے محترمہ بیگم ولی خان کی لندن کے ایک سٹور میں خریداری کے بارے میں ناقابل بیان خبریں شائع کیں تو خود اخبار کی چیئرپرسن نصرت بھٹو نے سخت نوٹس لیا۔ صرف چند برس پہلے کی بات ہے چودھری برادرز کی ق لیگ کے مرکزی رہنما سید مشاہد حسین نے پیپلزپارٹی کو ’’بُھٹّو، لُٹّو، پُھٹّو‘‘ پارٹی قرار دیا۔ پیپلزپارٹی نے ق لیگ کو قاتل لیگ کا نام دیا۔ پھر دونوں پارٹیاں ٹِچ بٹنوں کی جوڑی کی طرح ایک دوسرے سے مَن تُو شدی، تُو مَن شُدم ہو گئیں! ویسے ایک بات ضرور ہے کہ لوگ جو کچھ بھی کہتے رہیں، وزیراعظم کے منصب کا تقاضا ہے کہ اس کی گفتگو سنجیدہ، باوقار اور مہذبانہ ہونی چاہئے۔ مگر…! پتہ نہیں ایران کی طرح اب چین میں کیا گل کھلنے لگیں؟
٭میں ایک احتجاج کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کافی عرصہ پہلے ایک جملہ ایجاد کیا کہ ’’کفن کی کوئی جیب نہیں ہوتی۔‘‘ تین روز پہلے نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے یہ جملہ استعمال کر لیا۔ تین روز پہلے میں نے اس کالم میں جملہ استعمال کیا کہ ’’کہاں راجہ بھوج، کہاں گنگو تیلی؟‘‘ یہ جملہ اب سید خورشید شاہ نے استعمال کر لیا ہے۔ یہ زیادتی ہے۔ یہ لوگ میرے استعمال شدہ جملوں کی بجائے اپنے جملے استعمال کریں!
٭سندھ اسمبلی میں ایک خاتون نے کسی بات پر برہم ہو کرمخالف رکن کے سر پر مائیک دے مارا۔ جو نشانے پر نہ لگا۔ اگلے روز وہ رکن سر پرہیلمٹ پہن کر آ گیا کہ اب مار کر دیکھو! مجھے پرانا لطیفہ یاد آ گیا ہے۔ ایک ناکام عاشق دو منزلہ مکان کے نیچے رو رہا تھا۔ ایک راہ گیرنے پوچھا ’کیوں رو رہے ہو؟‘ بولا کہ محبوبہ نے پھول مارا ہے۔ راہ گیر نے کہا کہ یہ تو خوش ہونے کی بات ہے، تم رو رہے ہو؟ اس نے کہا کہ پھول گملے سمیت مارا ہے!!
٭گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اہل اقتدار لوگ ان کے قیمتی مشوروں پر عمل نہیں کرتے۔ورنہ پنجاب اسمبلی میں دو تہائی اکثریت ہوتی۔ گزشتہ روز گورنر ہائوس میں ہنگامی پریس کانفرنس بلائی۔ خبر اُڑ چکی تھی کہ ان کے بلااجازت دو ہفتے کے امریکہ کے دورے پر وزیراعظم عمران خاس نے سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ غالباً اسی باعث گورنر صاحب امریکہ سے واپسی پر لاہورکی بجائے اسلام آباد اور وہاں سے سیدھے بنی گالہ چلے گئے۔ پتہ نہیں وہاں کیا بات ہوئی کہ لاہور پہنچ کر گورنر ہائوس میں ہنگامی پریس کانفرنس بلا لی۔ صحافی لوگ سمجھے کہ استعفا آ رہا ہے، بھاگتے ہوئے گورنر ہائوس پہنچے۔ ٹیلی ویژن سٹیشنوں پر پیشگی بریکنگ نیوز تیار کر لی گئی کہ ’گورنر پنجاب نے استعفا دے دیا ہے۔ صحافی لوگ کاغذ پینسل سنبھال کر استعفے کے اعلان کا انتظار کرنے لگے مگر گورنر صاحب کے الفاظ نے انہیں صدمہ سے دوچار کر دیا کہ کون سا استعفا؟ کیسا استعفا؟ کیوں استعفا؟ میں بدستور گورنر ہوں، گورنر رہوں گا، ہاں بتانے کی بات یہ ہے کہ میں اپنی سرور فائونڈیشن سے الگ ہو گیا ہوں اور یہ کہ میں 1997ء میں برطانوی پارلیمنٹ کا پہلا مسلمان رکن تھا اور…!! ٹیلی ویژنوں کی بریکنگ نیوز دھری رہ گئیں!!
٭سری لنکا میں آٹھ دھماکوں کے بدترین دھماکوں کے بعد صدر مملکت نے تینوں افواج اور پولیس کے سربراہوں سمیت انٹیلی جنس کے چیف کو بھی برطرف کر دیا ہے۔ ان سب پراعتراض ہے کہ انہیں دس روز پہلے خبر مل چکی تھی کہ ایک غیر ملکی تنظیم نے سری لنکا میں بیک وقت بہت سے دھماکوں کا پروگرام بنایا ہے مگر اس وارننگ کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ ان واقعات کی ذمہ داری داعش قبول کر چکی ہے مگر بھارتی میڈیا مسلسل پراپیگنڈا کر رہا ہے کہ یہ دھماکے بھارتی صوبہ تامل ناڈو میں مسلمانوںکی باغی تنظیم ’’جماعت التوحید‘‘ نے کرائے ہیں۔

 

تازہ ترین خبریں