08:42 am
حزب الشیطان ٔسورئہ مجادلہ کی روشنی میں

حزب الشیطان ٔسورئہ مجادلہ کی روشنی میں

08:42 am


(گزشتہ سےپیوستہ)
اہل ایمان سے کہا جا رہا ہے کہ جب تمہیں اللہ کے رسول سے کوئی سرگوشی کرنی ہو ، کوئی بات علیحدگی میں کہنی ہو تو اس راز دارانہ بات سے پہلے کچھ صدقہ کرد یا کرو۔ مسلمان اپنے مسائل کے حل کے لیے حضور اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور بعض اوقات تخلیہ بھی چاہتے تھے۔ نبی اکرمﷺ اپنی شرافت اور مروت کی بنا پر کسی کو منع نہ کرتے اور پورا ٹائم دیتے تھے جبکہ آپؐ کی مصروفیات بے پناہ تھیں، اللہ نے آپؐ کو جو اتنا اونچا مشن دیا ہوا تھا،اس کے اور بھی بہت سے تقاضے تھے۔لوگ
حضورﷺ کا زیادہ وقت لینے لگے تھے۔ پھر اِس صورتحال سے  بعض شر پسندعناصر نے بھی فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔ وہ لوگ محفل میں بیٹھے بیٹھے حضورﷺکے کان میں سرگوشی کرتے ۔ مقصد یہ ہوتا تھا کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ ہمارا بڑا مقام ہے، ہم براہِ راست رسول ﷺسے بات کرتے ہیں اور وہ ہماری بات توجہ سے سنتے ہیں۔ اس قسم کے عناصر کی روک تھام کے لیے اور عام مسلمان نے حضورﷺ کا جو زیادہ وقت لینا شروع کر دیا تھا، اُس کے تدارک کے لیے ایک اصولی رہنمائی دی گئی کہ حضورﷺ سے علیحدگی میں گفتگو کا ارادہ ہو تو اس سے پہلے کچھ   صدقہ و خیرات کر دیا کرو۔ یہی تمہارے لیے بہتر بھی ہے اور زیادہ پاکیزہ بھی۔ اس حکم سے اصل مقصود منافقین کے بڑھتے ہوئے رجحانِ سرگوشی کی حوصلہ شکنی تھا۔ مال کی محبت اور حرص و ہوس کی بیماری ان میں عام تھی۔ قرآن حکیم نے یہ پابندی عائد کی تو منافقین اپنی بخالت اور کنجوسی کے سبب آپؐ سے سرگوشیوں سے رک گئے، اور مخلص اہل ایمان بھی  حضورﷺ کے معمولات اور مصروفیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کثرت ملاقات کے معاملے میں  محتاط ہو گئے۔
آگے فرمایا: ’’کیا تم اس سے کہ پیغمبر ﷺکے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو (ڈر گئے) ۔پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اوراللہ نے تمہیں معاف کر دیا تو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے رہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔‘‘
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے سرگوشی کرنے کا رجحان جو بہت بڑھ رہا تھا، صدقہ کا حکم دینے کے بعد وہ دب گیا۔ جب حکم کا مقصد حاصل ہو گیا تو اللہ نے یہ وقتی حکم اٹھالیا۔ جب لوگوں نے اپنی عادت کی اصلاح کر لی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمالی اور حکم دیا کہ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔ ظاہر ہے نماز دین کا ستون ہے اور تعلق مع اللہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔ زکوٰۃ بھی جو ارکان اسلام میں سے ہے اور تزکیہ نفس کا ذریعہ ہے، پھر اس کے ذریعے حقوق العباد کی ادائی کا اہتمام ہوتا ہے۔ پھر یہ کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرو۔ منافقت کا اظہار بالخصوص رسول اللہ ﷺکی اطاعت اور راہ حق میں انفاق نہ کرنے سے ہوتا تھا۔ منافقین پر آپؐ کی اطاعت بہت بھاری تھی۔ اسی طرح انہیں راہ خدا میں مال خرچ کرنا بہت مشکل لگتا تھا۔ جبکہ مومنوں کا وصف ہی اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی اطاعت ہے۔ یہاں اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اطاعت   خوش دلی سے اور بے چوں وچرا مطلوب ہے۔
آگے منافقین کے کردار کا تذکرہ ہے:’’ بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا، وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں اور جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں‘‘
منافقت ایک کردار کا نام ہے ۔منافق کے سر پر سینگ نہیں ہوتے۔ اس کی پہچان اُس کی حرکتوں سے ہوتی ہے۔ زبان سے تو وہ بھی اللہ اور اُس کے رسولﷺ پر ایمان کا دعویٰ کرتا ہے۔منافقین کاایک نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ اس قوم سے دوستی رکھتے ہیں کہ جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا، یعنی یہود۔
(جاری ہے)
مدینہ میں یہود کے تین قبیلے آباد تھے: بنو قریظہ ، بنو نضیر اور بنو قینقاع۔ نفاق کا پودا انہی کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہا تھا ۔ وہی منافقین کی ڈوریںہلاتے تھے،اور وہ ہر معاملے میں اُن سے مشورے کیا کرتے تھے۔ منافقین بظاہر تو یہ کہتے کہ ہم حزب اللہ کا حصہ ہیں مگر ان کی دوستیاں حزب الشیطان کے ساتھ تھیں۔ اور یہی منافقت کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ یہاں یہ بھی واضح کر دیاگیا کہ منافقین بظاہر مسلمانوں کا حصہ ہیں ، لیکن چونکہ ان کی دوستیاں یہود کے ساتھ ہیں،لہٰذا حقیقت میں وہ نہ مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور نہ پورے طور پر یہود کے ساتھ ہیں،بلکہ درمیان میں لٹکے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے مفادات کو دیکھتے ہیں ۔ اگر مسلمانوں سے مفادملے تو ادھر کو جھک جاتے ہیں اور اگر یہود سے مفاد نظر آئے تو اُدھرسرک جاتے ہیں ۔ ان کا کوئی دین ایمان نہیں ہے۔ منافقین کی دوسری بُری صفت یہ بتائی کہ وہ جھوٹ پر قسمیں اٹھالیتے ہیں ۔وہ جھوٹ بولنے اور جھوٹی قسمیں کھانے میں بہت جری ہیں۔ آگے منافقین کے انجام بد کا تذکرہ ہے۔ ’’ اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔یہ جو کچھ کرتے ہیں یقینا برا ہے۔‘‘
آگے فرمایا:’’انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روک دیا ہے۔ سو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔ ‘‘
آنحضورﷺ کے ساتھی سچے اہل ایمان اخلاص کے پیکر تھے۔ منافقانہ کردار سے انہیں سخت ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ لہٰذاوہ منافقین سے یہ پوچھتے کہ یہ تم کیا کر رہے ہو ، کہا ں جا رہے ہو، اسلام دشمن یہود کے ساتھ روابط کیوں رکھتے ہو، کیوں ان کے ساتھ سازشوں میں شریک ہوتے ہو۔منافقین اس کے جواب میں جھوٹی قسم کھا جاتے اور کہتے تھے ،نہیں یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے، ہم تواللہ،اس کے رسولﷺ اور مسلمانوں کے وفادار ہیں۔ ہم تو اپنا(دین اسلام کا )مفاد دیکھ رہے ہیں۔ منافقین کو لاکھ سمجھایا جائے کہ اللہ کا راستہ یہ ہے، اللہ کی خوشنودی اس میں ہے، اللہ اوررسولﷺ پر ایمان اور دین سے وفاداری کا تقاضا یہ ہے، اس طرف آئو،وہ راہ حق پر نہیں آتے بلکہ ایک انچ بھی آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں ہو تے۔
’’اللہ کے (عذاب کے) سامنے نہ تو ان کا مال ہی کچھ کام آئے گا اور نہ اولاد ہی(کچھ فائدہ دے گی) ۔یہ لوگ  اہل دوزخ ہیں۔ اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے‘‘
منافقت کا آغاز مال و اولاد کی محبت سے ہوتا ہے۔ ایک طرف دین کے تقاضے ، اللہ اور رسول ﷺ کا حکم ہوتا ہے اور دوسری طرف مال و اولاد اور دنیا کی محبت راستہ روکے کھڑی ہوتی ہے۔ ایسے میںجو شخص مال واولاد اور دنیا کی محبت کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالنا شروع کر دے، وہ نفاق کے راستے پر چل پڑتا ہے۔لیکن یہاں بتادیا کہ یہ مال اور اولاد جس کی وجہ سے آدمی غلط راستہ اختیار کرتا ہے،  اللہ کے ہاں اُس کے کسی کام نہیں آئے گا، بلکہ یہ اُس کے لیے وبال جان بنے گا۔ یہ بات اور بہت سے مقامات سے معلوم ہو جاتی ہے۔منافقین مسلمانوں میں شامل ہوتے ہیں۔ عہدرسالت مآب میں بھی وہ مسلمانوں کی صفوں میں شامل تھے۔وہ حضورﷺ کے پیچھے نمازیں پڑھتے، آپ ؐکے ساتھ کبھی کبھی قتال کے لیے بھی نکلتے تھے، مگر واضح کر دیا کہ وہ انجام بد سے نہ بچ سکیں گے۔ ان کے لیے جہنم کی آگ ہو گی۔ پھر اس سے کبھی نہیں چھوٹیں گے۔
’’جس دن اللہ ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں (اسی طرح) اللہ کے سامنے قسمیں کھائیں گے اور خیال کریں گے گہ ایسا کرنے سے کام لے نکلے ہیں۔ دیکھو یہ جھوٹے (اور برسر غلط) ہیں۔‘‘
منافقین کی جھوٹی قسمیںکھانے کی عادت آخرت میں بھی نہ جائے گی۔وہاں بھی کوشش کریں گے کہ جھوٹی قسم کھا کر اپنے آپ کو بچالیں۔ وہ سمجھیں گے کہ جیسے جھوٹی قسمیں کھا کر دنیا میں بہتوں کو فریب دیئے رکھا ، اسی طرح آخرت میں بھی اُن کافریب چل جائے گا، مگر وہاں ایسا نہ ہو گا۔ اُن کے اعضاء وجوارح اُن کے جرائم کی گواہی دیں گے، اور ان کے جھوٹ کا پردہ چاک ہو کر رہے گا۔
’’ شیطان نے ان کو قابو میں کرلیا ہے اور اللہ کی یاد ان کو بھلا دی ہے ۔یہ (جماعت) شیطان کا لشکر ہے۔ اور سن رکھو کہ شیطان کا لشکر نقصان اٹھانے والا ہے‘‘
دیکھئے ،شیطان ہر شخص پر حملہ کرتا ہے، وہ کسی کو  بھی نہیں بخشتا۔ انسان کی زندگی کے آخری سانس تک اس کا تعاقب کرتا ہے ۔ دنیا میں اس کے چیلے چانٹے بہت زیادہ ہیںجبکہ اللہ کے مخلص اور وفادار بہت ہی تھوڑے ہیں۔ انسانوں کی عظیم اکثریت کاحال یہ ہے کہ ان پر شیطان نے اپنا تسلط جمارکھا ہے اورانہوں نے شیطان کے آگے سرنڈر کر دیا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ شیطان کو  دشمن سمجھتے، وہ اسی کی طرف لپکتے چلے جاتے ہیں۔ شیطان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اُس نے انہیں اللہ کی یاد بھلادی ہے۔ اللہ کے خیال ہی سے غافل کر دیا ہے۔ اگر کبھی اللہ کا کوئی خیال انہیں آبھی جائے تو شیطان ایسی پٹی پڑھا تا ہے کہ وہ غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ آخر میں واضح کیا کہ منافقین شیطان کی پارٹی کا حصہ ہیں ۔چاہے 50 دفعہ کلمہ پڑھیں، اور حضورﷺ سے محبت کا اقرار کریں اور کہیں کہ ہم مسلمانوں کے مفاد میں یہ سب کچھ کر رہے ہیں، وہ اپنے دعوئوں میں جھوٹے ہیں اوراصل میں شیطان کا گروہ ہیں۔ اور آخرت کی حقیقی ناکامی اسی حزب الشیطان کے حصے میں آئے گی۔  





 

تازہ ترین خبریں