08:43 am
اپوزیشن کا غیر ضروری شور

اپوزیشن کا غیر ضروری شور

08:43 am


2008ء سے اب تک جمہوریت کے تسلسل سے یہی امید کی جارہی تھی کہ سیاستدانوں کے رویوں میں سنجیدگی کا عنصر غالب آجائے گا ۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کی پانچ پانچ سالہ حکومتوں کے بعد ملک اور قوم کے مفادات ان کی ترجیحی فہرست میں اولین درجے پر ہونگے مگر پاکستان تحریک انصاف کو حکومت ملنے کے بعد تو گویا دونوں جماعتوں کے سیاستدان بائولے ہوچکے ہیں۔ ان کی حرکتوں اور بیانات سے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کبھی بھی سنجیدہ نہیں ہونگے۔
ان کے غیر سنجیدہ رویوں سے ملک کو اگر نقصان پہنچتا ہے یا پھر عوامی مسائل سے توجہ ہٹتی ہے تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ذاتی مفادات کے اسیر ان سیاستدانوں سے آئندہ بھی کسی خیر کی توقع نہیں۔
میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی بھی حکومت کے ابتدائی چند مہینوں میں اپوزیشن اور میڈیا نے مل کر اتنا شور ڈالا ہو جتنا وہ اب کر رہے ہیں۔ میڈیا کے ٹاک شوز دیکھیں تو لگتا ہے کہ ملک تباہی کے دبانے پر ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری وزیراعظم عمران خان پر ہے۔ عمران خان کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کیا جاتا ہے اور پھر اسی حرکت کو ملک دشمن اور عوام دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وزیراعظم کے منہ سے لفظ بعد میں نکلتا ہے اور تبصرے پہلے شروع ہو جاتے ہیں۔ ٹاک شوز میں ان ڈھیٹ اور کرپشن میں سرتاپا لتھڑے ہوئے سیاستدانوں کو پی ٹی آئی حکومت کے خلاف بولتے ہوئے دیکھتا ہوں تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ گویا  قیام پاکستان سے اب تک عمران خان ہی حکومت کرتا چلا آرہا ہے۔ دونوں پارٹیاں پانچ پانچ سال حکومت کر چکی ہیں۔ منی لانڈرنگ‘ کرپشن‘ غیر قانونی اثاثے‘ ناجائز جائیدادیں‘ بے نامی اکائونٹس کے چرچے عام ہیں مگر ان کے چہروں پر ندامت اور نہ شرمندگی‘ گویا انہوں نے اپنا حق سمجھ کر ملکی دولت کو بے دردی سے لوٹا۔ کچھ تو کیا ہوتا جس کے آثار باقی ہوتے۔ لیکن ان کو عمران خان کے خلاف باتیں کرتے دیکھیں تو یہی لگتا ہے کہ باقی سب  بے گناہ اور بے قصور ہیں۔ اگر تمام تر مسائل کی جڑ ہے  تو عمران خان ہیں۔ یہ کیوں خوف خدا نہیں کرتے؟ یہ کیوں عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔
اگر تنقید برائے تعمیر ہو تو وہ قابل تعریف بھی ہوتی ہے اور قابل برداشت بھی۔ لیکن اگر تنقید کرنے والے کا مقصد ہی کسی کو ذلیل اور رسوا کرنا ہو تو یاد رکھیں رسوائی ایسے تنقید کرنے والے کو ہی نصیب ہوتی ہے جس بات پر  عمران خان کو ہدف تنقید بنایا جانا چاہیے وہ ہے حکومت کے ابتدائی چند ماہ میں عوامی مسائل میں مہنگائی کی صورت میں اضافہ۔ اس کے علاوہ کابینہ ممبران کا غلط انتخاب۔ ان دو باتوں پر ہر ذی شعور تنقید کرتا ہے اور اس بات کا احساس خود وزیراعظم کو بھی ہے۔ وزیراعظم کو چاہیے تھا کہ وہ اقتدار میں آتے ہی بالخصوص عوامی مسائل کے حل کے لئے باشعور ساتھیوں سے مشورہ کرتے اور ان کے حل کے لئے فوری اقدامات کرتے اور ان اقدامات سے عوام کو باخبر بھی رکھتے۔ مگر شاید حکومت سنبھالتے ہی پہلی بار وزارت اعظمیٰ کا منصب سنبھالنے والے عمران خان گھبرا گئے۔ یا پھر انہوں نے اپنی ٹیم پر بہت زیادہ اعتماد کرلیا اور بزعم خود یہ تصور کرلیا کہ میری ٹیم ان مسائل پر قابو پانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور یہی اعتماد ان کو لے ڈوبا۔
کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی جمہوری حکومت نے اپنے ابتدائی چند ماہ میں کارکردگی کی بنیاد پر کابینہ کے ارکان کو تبدیل کیا ہو؟ نہیں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ مگر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے کسی کی مخالفت کی پرواہ کئے بغیر انتہائی اہم وزراء کو ہٹا دیا یا تبدیل کر دیا۔ اب یہ ایک مثال قائم ہوگئی ہے‘ حکومت کے باقی عرصے میں دیگر وزراء اپنی کارکردگی بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ کارکردگی نہ دکھانے والا وزیر اپنے انجام سے باخبر رہے گا۔ اب امید یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات مزید بہتری کی طرف جائیں گے۔ ان حالات میں میڈیا کو  وزیراعظم کا ساتھ دینا چاہیے مگر ان کی دکانداری کا مسئلہ ہے اور پھر سب سے بڑا ظلم بالخصوص الیکٹرانک میڈیا پر اس حکومت نے یہ کیا ہے  کہ اقتدار سنبھالتے ہی قومی دولت کے ضیاع کو روکتے ہوئے مٹھی گرم کرنے کا سلسلہ بند کر دیا ہے۔ گو کہ یہ فیصلہ قومی اور ملکی مفاد میں درست ہے مگر میڈیا کو اپنا حامی بنانے کے لئے گزشتہ حکومتوں کی پالیسی کو اپنانا ضروری تھا۔ لیکن ملک کے ساتھ مخلص اور قوم کا وفادار وزیراعظم محض اپنی شہرت کے لئے ایسا نہیں کر سکتا۔
مہنگائی کے باوجود عوام کے حوصلے ابھی بھی بلند ہیں‘ وزیراعظم کا پراعتماد لہجہ بتا رہا ہے کہ مشکل وقت رخصت ہونے کو ہے اور یقین ہے کہ موجودہ قیادت ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے میںکامیاب ہو جائے گی۔ مخالفین کا کام شور مچانا اور غیر ضروری تنقید کرنا ہے مگر کپتان اور اس کی ٹیم کی تمام تر توجہ مسائل کے حل کی طرف ہو اور اس کے لئے خلوص‘ لگن اور محنت کی ضرورت ہے۔

 

تازہ ترین خبریں