08:44 am
آئی ایم ایف ، پاکستان کی اکانومی اور سی پیک

آئی ایم ایف ، پاکستان کی اکانومی اور سی پیک

08:44 am

پاکستان کی ماضی کی تمام حکومتوں نے اٹھارہ سے زائد مرتبہ آئی ایم ایف جاکر قرضہ لیا ہے اور اس کو اتارا بھی ہے‘ قرضہ لینا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن قرضے کی رقم بنیادی طورپر اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ معاشرتی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے استعمال کی جاتی ہے‘ لیکن پاکستان کی حکومتوں نے آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر اس کو ترقیاتی کاموں میں صرف نہیں کیا ہے بلکہ یہ پیسہ کرپشن کی نظر ہوگیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ترقی پذیر ممالک میں ان چند ممالک میں شمار ہوتاہے جنہوںنے آئی ایم ایف سے سب سے زیادہ قرضہ لیا واپس بھی کیا، لیکن ترقی کے آثار معدوم رہے۔ اب عمران خان کی حکومت دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جارہی ہے‘ سابق وزیرخزانہ اسد عمر نے کسی حدتک آئی ایم ایف کو پاکستان کے لئے قرضہ دینے کے لئے راضی کرلیا تھا، لیکن انہیں ان کے عہدے سے سبکدوش کردیا گیاہے، ان کی جگہ حفیظ شیخ کو وزارت خزانہ کا عہدہ دیا گیاہے، اس امید کے ساتھ کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسد عمر کی موخر شدہ گفتگو کو آگے بڑھا ئیں گے اور نرم شرائط پر پاکستان کے لئے قرضہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ حفیظ شیخ کا تعلق کسی زمانے میں ورلڈ بینک سے رہاہے۔ وہ پی پی پی کی حکومت میں بھی شامل رہے تھے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ پاکستان کی کمزور معیشت کیلئے واقعی ایسے اقدامات اٹھائیں گے جس کے ذریعہ موجودہ صورتحال میں نمایاں تبدیلی وقوع پذیر ہوسکے۔


 اس دفعہ آئی ایم ایف کا موڈ ہی کچھ اور ہے وہ پاکستان کو قرضہ دینے کے لئے تیار ہے (جس کی راہ اسد عمر نے استوار کی تھی) لیکن وہ پاکستان کی حکومت سے یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ آئی ایم ایف کا پیسہ چین سے لئے گئے قرضے کی واپسی کے لئے تو استعمال نہیں ہوگا؟ آئی ایم ایف کا یہ سوال انتہائی معنی خیز ہے اور پاکستان کو بلیک میل کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان نے چین سے جو آسان شرائط پر قرضہ لیا ہے اس کی واپسی فوری نہیں ہے، اور نہ ہی چین نے فوری واپسی کا مطالبہ کیاہے۔ دراصل آئی ایم ایف بھی امریکہ کی طرح چین اور پاکستان کی دوستی کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتاہے۔ خصوصیت کے ساتھ امریکہ سی پیک کے خلاف ہے۔ سی پیک کے خلاف امریکہ ‘ بھارت‘ اسرائیل کی گٹھ جوڑکسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔  چنانچہ آئی ایم ایف پاکستان کو قرضہ دینے کے سلسلے میں چین سے متعلق جو سوال کررہاہے۔ اسکی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
چین وہ واحد ملک ہے جس نے حالیہ برسوں میں سی پیک کے حوالے سے پاکستان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ تقریباً 62بلین ڈالراس کثیر رقم سے بلوچستان کے علاوہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کیا جارہاہے جس کی حالیہ مثال تھر کول پاور پلانٹ ہے، جس میں سی پیک کا واضح کردار ہے۔ یہ منصوبہ پبلک پرائیوٹ اشتراک کی بہترین مثال ہے جس کے ذریعہ نیشنل گرڈ کو تین سو میگاواٹ بجلی میسر ہوسکے گی۔ اس ہی طرح سی پیک میں کئی اکنامک زون کی تعمیر بھی شامل ہے جبکہ مغربی روٹ راہداری پر تیزی سے کام شروع ہوگیاہے۔ سعودی عرب سی پیک میں شامل ہوکر دس بلین ڈالر کی کثیر رقم کی مدد میںآئل ریفارینری تعمیر کرے گا۔ پورٹ قاسم پر سی پیک کی مدد سے ایک بجلی گھر نے بھی کام شروع کردیاہے۔ اس طرح بڑے وثوق سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ سی پیک پاکستان کیلئے ایک Game Ghangerثابت ہورہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کی سامراجی طاقتیں اس منصوبے کو سبوثاژ کرنا چاہتی ہیں۔ بھارت اس میں پیش پیش کے، نریندرمودی اس سلسلے میں کھلم کھلا اعلان کرچکاہے۔ اس لئے آئی ایم ایف پاکستان کو قرضہ دینے کے سلسلے میں اس حقیقت کو ملحوظ خاطررکھنا چاہئے کہ اس کا دیا گیا قرضہ پاکستان کی معیشت کی بحالی کے سلسلے میں استعمال ہوگا۔ پہلے بھی ہوا تھا، اور اب بھی ہوگا۔ آئی ایم ایف کو سی پیک کے سلسلے میں زیادہ فکر مند نہیں ہونا چاہئے۔  یہ منصوبہ چین اور پاکستان کے درمیان معاشی تعلقات کو مستحکم کرنے کے سلسلے میں طویل مذاکرات کے بعد طے پایاہے۔ اس منصوبے کے ذریعہ چین کو بھی بے پناہ فوائد حاصل ہونگے اور اس خطے میں واقع دیگر ممالک بھی اس منصوبے میں شامل ہوکر بھر پور فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ پاکستان یا دیگر ترقی پذیر ممالک مجبوراًآئی ایم ایف کے پاس قرضہ لینے جاتے ہیں تاکہ ان کے اقتصادی حالات میں بہتری آسکے۔  اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے سیاست دانوں کی اکثریت کرپٹ ہوتی ہے۔ سیاستدان میں عوام کی خدمت کرنے نہیں آتے ہیں بلکہ وہ مختلف حیلے بہانوں سے ناجائز دولت اکٹھی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی فلاح وبہبود اور ترقی کا کام دھرا کا دھرا رہ جاتاہے چنانچہ ملک کی اقتصادی ضروریات پوری کرنے کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانا ناگزیر ہوجاتاہے جبکہ ان کی سخت شرائط مان کر قرضہ حاصل کیا جاتاہے۔ جس کو بعد میں سود کے ساتھ واپس کرنا پڑتاہے یہ صورتحال کسی بھی نقطہ نظر سے مناسب نہیں ہے اور نہ ہی یہ طریقہ کار ملک اور عوام کے مفاد میں ہے لیکن مرتا کیا نہ کرتا، چنانچہ یہ سیاست دانوں کا کام ہے کہ وہ آئی ایم ایف سے قرضے کی رقم ملک کی ترقی اور عوامی بہبود کے لئے استعمال کریں نہ کہ اپنی ذات کیلئے جیسا کہ ماضی کی حکومتوں نے کیاہے۔
مجھے امید ہے کہ عمران خان ایسا نہیں ہونے دیں گے کیونکہ مالی معاملات کے پس منظر میں ان پر کوئی الزام نہیں ہے۔ وہ یقینا ملک کو موجودہ ناگفتہ بہ حالات سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن معروف کرپٹ سیاست دان ان کی راہ میں روڑے اٹکا کر ان کی حکومت کو چلنے نہیں دے رہے ہیں۔ یہ صورتحال اگر ایسی ہی رہی تو ملک میں کوئی ’’نیا طوفان‘‘ اٹھ سکتاہے جو کرپٹ سیاست دانوں کے لئے جہنم ثابت ہوگا۔ مہاتر محمد نے اپنے حالیہ دورے پاکستان میں صحیح کہاہے کہ اگر حکومت میں کرپٹ سیاست داں شامل ہوں تو ملک نہ تو اقتصادی طورپر ترقی کرسکتاہے اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی ٹھوس سماجی تبدیلی رونما پذیر ہوسکتی ہے۔ ذراسوچئے!

 

تازہ ترین خبریں