08:47 am
اے نا پسندیدہ مہمان، مت آئو

اے نا پسندیدہ مہمان، مت آئو

08:47 am

پچھلے سال جب صدر ٹرمپ برطانیہ کے مختصر دورے پر آئے تھے تو ان کا جی نہیں بھرا تھا۔ مخالف مظاہرین کی وجہ سے انہیں ہیلی کاپٹر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا پڑا، پھر نہ تو شاہی بکنگھم محل میں ملکہ کی ضیافت میں مدعو کئے گئے، نہ شاہی بگھی میں لندن کی سڑکوں پر جلوہ افروز ہوئے اور نہ انہیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا موقع ملا جیسے کہ ان سے پہلے صدر اوباما اور صدر بش کو یہ اعزاز دیا گیا۔


اب صدر ٹرمپ کے بے حد اصرار پر اور بریگزٹ کے بعد امریکہ سے تجارتی معاہدہ کی خواہش اور امید کی وجہ سے وزیر اعظم ٹریسا مے، ٹرمپ کو دوبارہ برطانیہ کے سرکاری دورہ کی دعوت دینے پر مجبور ہوئی ہیں۔
اعلان کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ‘ ملکہ ایلزبتھ کی دعوت پر تین جون سے تین روزہ سرکاری دورہ پر برطانیہ کا دورہ کریں گے۔ جواز اس دعوت کا یہ پیش کیا گیا ہے کہ جون میں دوسری عالم گیر جنگ کے ڈی ڈے کاجشن منایا جائے گا جس میں برطانیہ کے گہرے دوست امریکہ کے صدر کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔تھریسامے کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس دورہ سے برطانیہ اور امریکہ کے خاص تعلقات کی تجدید ہوگی لیکن اس اعلان کے فوراً بعد حزب مخالف لیبر پارٹی اور ٹرمپ کے مخالفین نے ٹرمپ کو صلواتیں سنانی شروع کردی ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کی حکومت اس بات پر سخت ناراض ہے کہ اس دورہ کے بارے میں اس سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ گزشتہ سال جب ٹرمپ دو روز کے لئے اسکاٹ لینڈ گئے تھے جہاں ان کے گولف کے میدان ہیں، تو اسکاٹ لینڈ کی حکومت کو ان کے تحفظ کے لئے چھ ہزار پولس تعینات کرنی پڑی تھی اور  23 لاکھ پونڈ خرچ کرنے پڑے تھے۔
War on Want کے ڈائریکٹر اسد رحمان نے کہا ہے کہ ٹرمپ کایہ دورہ برطانیہ کے عوام کی بڑی تعداد کے لئے شدید ناراضگی کا باعث ہوگااور توقع ہے ڈھائی لاکھ سے زیادہ عوام ٹرمپ کے خلاف لندن کی سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ لیبر پارٹی کے ممتاز ممبر پارلیمنٹ اسٹیون ڈاوٹی نے ٹرمپ کے دورہ کے خلاف عوامی دستخطوں کی مہم شروع کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ یہ دورہ منسوخ کردیا جائے کیونکہ ٹرمپ نسل پرست اور انتہا پسند شخص ہیں جو برطانیہ میں ناپسندیدہ مہمان ہوں گے۔ ایک اور لیبر رہنما ڈیوڈ لیمے نے ٹرمپ کو بے ایمان، دروغ گو اور خود پسند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں ملکہ کی ضیافت میں شرکت کا اعزاز دینا ناانصافی ہوگی۔
دارالعوام کے اسپیکر جان برکو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ٹرمپ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کی دعوت نہیں دی جائے گی۔یہ اعزاز اس سے پہلے امریکہ کے تین صدور کو حاصل رہا ہے۔ ان کا واضح طور پر کہنا تھا کہ ٹرمپ نسل پرست ہیں اور خواتین کے ساتھ بد تہذیبی سے پیش آتے ہیں۔  یہ برطانیہ کی اقدار کے منافی ہے اور ایسے شخص کو پارلیمنٹ میں دعوت دے کر اعزاز نہیں دیا جا سکتا۔
روزنامہ گارڈین نے ٹرمپ کے دورہ برطانیہ کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ٹرمپ برطانیہ کے دوست نہیں ہیں۔ انہوں نے بار بار برطانیہ کے سیاست دانوں پر حملے کئے ہیں اور خاص طور پر لندن کے مئیر صادق خان کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ گارڈین نے لکھا ہے کہ ٹرمپ خطرناک دروغ گو ہیں جنہیں نسل پرست اپنوں میں شمار کرتے ہیں۔
ٹرمپ کے دورہ کے مخالفین نے وہ بڑا سا ٹرمپ کی شکل کا غبارہ جھاڑ پونچھ کر باہر نکال لیا ہے جس نے گذشتہ سال ٹرمپ کے دورہ میں ان کا تعاقب کیا تھا۔

 

تازہ ترین خبریں