08:48 am
نیب ختم، نوازشریف اِن لندن!

نیب ختم، نوازشریف اِن لندن!

08:48 am

٭نیب کو ختم کرنے کا منصوبہ، حکومت اور اپوزیشن متفق O نوازشریف، لندن جانے کی درخواست O جڑانوالہ: وکیل نے کرسی مار کر جج کا سرپھاڑ دیا O نندی پور 19 کروڑ کا تیل چوری، 34 ملزم نامزد O پشاور: صدر صوبائی ن لیگ امیر مقام کی 16 جائیدادوں کا انکشاف O چین نے 25 ہزار کلو میٹر رفتار والا میزائل تیار کر لیا۔ O زرداری کے دور میں پانچ وزیرخزانہ تبدیل ہوئے O پٹرول مزید 10 روپے مہنگا ہونے کا امکان۔
٭تمام اخبارات میں لیڈ سٹوری چھپی ہے کہ نیب کو اختیارات سے محروم کر کے اسے مفلوج اور بے اثر کرنے کے بارے میں حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ اس کی وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر نے تصدیق کر دی ہے۔ ن لیگ بھی متفق ہو گئی ہے۔ ان پارٹیوںکی تجاویز جمع ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق آئندہ کسی قسم کی عام لوٹ مار کا کوئی محاسبہ نہیں ہو سکے گا، نیب صرف 50 کروڑ روپے سے زیادہ معاملات کی تحقیقات کر سکے گا، اس بارے میں بھی اعلیٰ حکام سے اجازت لینا پڑے گی۔ کسی کی گرفتاری اور پلی بار گیننگ کے لئے پہلے عدالت سے اجازت نامہ لینا ضروری ہو گا۔ یہ تجاویز منظور ہو کر قانون بن گئیں تو لوٹ مار کے موجودہ بے شمار مقدمات ختم اور تمام سیاسی و غیر سیاسی گرفتار شدہ رہا ہوسکتے ہیں! ایک دوسرے کا سر پھاڑنے کے لئے ہر وقت تیار سیاسی رہنمائوں میں ہر وقت گالم گلوچ کے باوجود تنخواہیں بڑھانے اور لوٹ مار کے تحفظ پر ہمیشہ اتفاق رائے رہتا ہے۔ اس وقت عالم یہ ہے کہ پیپلزپارٹی، ن لیگ، تحریک انصاف کے بڑے بڑے قائدین نیب کے شکنجے میں آ چکے ہیں، عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں، ضمانتوں کی درخواستیں دے رہے ہیں۔ ان پر کھربوں کی لوٹ مار سے بیرون ملک درجنوں بڑے بڑے اثاثے بنانے کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔ کچھ جیل میں ہیں، کچھ جیل میں جانے والے ہیں۔ ان لوگوں کو لوٹ مار کی دولت کے انبار ہاتھوں سے نکلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ قید و جرمانہ کی اذیت الگ! ستم یہ کہ یہ لوگ آپس میں رشتہ دار بھی ہیں۔ایک گھر کے دو بھائی ایک سرکاری صوبائی گورنر، دوسرا اپوزیشن لیڈر! ان لوگوں کے ملک سے باہر جانے پر پابندیاں لگ چکی ہیں اور…اور ہو یہ رہا ہے کہ ملک کو انتہائی بے رحمانہ طور پر لوٹنے والی ان بے رحم لوگوں کو عبرت کی مثال بنانے کی بجائے ان کے محاسبہ کو ہی کالعدم کیا جا رہا ہے! الامان! مجھے قائداعظم یاد آ رہے ہیں! کیا وہ ایسے لوگوں کو برداشت کر سکتے تھے؟ انہوں نے تو کابینہ کے اجلاس میں وزیروں کو سرکاری چائے پیش کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔ اپنے کھانے کا بل خود ادا کرتے تھے۔ اور یہ لوگ! پہلی بار محاسبہ ہونے لگا ہے تو چیخنے لگے ہیں۔ آپس میں مل رہے ہیں۔ تجاویز اکٹھی ہو رہی ہیں کہ نیب سے جان چھڑا کر کس طرح مزید لوٹ مار کی راہ ہموار کی جائے! کیا بنے گا عمران خاں کے نعرے کا کہ کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا؟
٭وہی ہوا جس کا اس کالم میں بار بار امکان ظاہر کیا جا رہا تھاکہ نوازشریف کو بیماری کی آڑ میں ملک سے باہر لے جانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ تین روز پہلے لکھا گیا تھا کہ نوازشریف کی رہائی اور دوبارہ جیل جانے میں صرف 11 دن باقی رہ گئے ہیں، اب تک 31 دنوں میں گھر والوں نے کوئی علاج نہیں کرایا (بیماری؟) اب عدالت سے رجوع کیا جائے گا کہ پاکستان میں یہ بیماری پانچ میڈیکل بورڈوں کے کم از کم 30 ممتاز ترین فوجی اورسول ڈاکٹروں کی سمجھ میں نہیں آ ئی۔ خاندانی ہسپتال، شریف میڈیکل کمپلیکس میں بھی پانچ معائنے ہو چکے ہیں، عجیب نادر قسم کی بیماری ہے کہ کوئی سراغ نہیں مل رہا، البتہ لندن کے جس ڈاکٹر نے پہلے علاج کیا تھا صرف وہی سراغ لگا کر علاج کر سکتا ہے لہٰذا ضروری ہو گیا ہے کہ اس نہائت انوکھے مریض کو لامحدود عرصے کے لئے لندن بھیج دیا جائے جہاں ان کا بھائی اور دو بیٹے پہلے ہی موجود ہیں۔ اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ مریض کی عبوری ضمانت کو لامحدود عرصے کے لئے مستقل قرار دے کر ملک سے باہر جانے پر پابندی ختم کر دی جائے۔ اس بارے خاندان نے سپریم کورٹ میں درخواست دینے کا فیصلہ کیا ہے ممکن ہے یہ اب تک دائر بھی ہو چکی ہو۔اس بارے عدالت جو بھی فیصلہ کرے، میں نوازشریف کے گھر والو ںکو ایک اہم مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی درخواست کے آخر میں یہ بات ضرور لکھیں کہ جناب والا! نوازشریف کو مستقل طور پر باہر بھیجنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حکومت مریض ملزم کو بار بار عدالت میں لانے کی بھاری سکیورٹی، ن لیگ کے جمع کئے جانے والے مظاہرین سے ہاتھا پائی، جیل سے مختلف ہسپتالوںمیں لانے لے جانے اور جیل میں ملاقاتیوں کی قطاروں سے نمٹنے اور اعلیٰ خوراک فراہم کرنے کے بھاری اخراجات کی زحمت سے بچ جائے گی۔ درخواست میں مزید مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ آصف زرداری، بلاول زرداری، فریال تالپور ان کے زیرحراست 14 فرنٹ مینوں، علیم خان، شہباز شریف، حمزہ شہباز وغیرہ کو مستقل طور پر لندن،دبئی یا نیویارک بھیج دیا جائے، عوام بہت خوش ہوں گے!!
٭عمران خان نے بلاول کو’صاحبہ‘ کہا، اس پر ہنگامہ ہو رہا ہے۔ بلاول نے جواب میں کہا ہے کہ ’’عمران خان سمجھتی ہے!!‘‘ شیخ رشید نے فردوس عاشق اعوان کو ’صاحب‘ کہا وہ ہنس پڑیں! (؟) شیخ رشید نے مزید کہا کہ ’’بلاول چڑچڑا ہو گیا ہے، چیکو جیسی شکل بنائی ہوئی ہے‘‘ چیکو ایک پھل کو کہتے ہیں مگر اس کی شکل تو خاصی معقول ہوتی ہے؟
٭اخبارات میںایک اور سیاسی پارٹی کی خبر شائع ہو رہی ہے۔ اس کے لئے اسلامی جمعیت طلبا، جماعت اسلامی، مسلم لیگ ن اور ق لیگ سے ہوتے ہوئے ایک فوجی حکومت کے وزیراطلاعات محمد علی درانی مبینہ طور پر بھاگ دوڑ کر رہے ہیں خبر کے مطابق نئے کارکنوں کی بجائے موجودہ پارٹیو ںکے ناراض ارکان اور ان لوگوں اور ارکان اسمبلی کی باقیات کی پارٹی بنائیں گے جو ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی سرکردہ قیادتوں کے جیل جانے کے بعد بے سہارا رہ جائیں گے!! اس پر کیا لکھا جائے؟
٭نیب کی تحقیقات کے مطابق ن لیگ پختونخوا کے صدر اورسابق وزیرامیر مقام کی 16 بڑی بڑی جائیدادوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ان کی عنقریب گرفتاری کا امکان ہے! مرزا غالب یاد آ رہے ہیں کہ ’’  بُوئے گُل، نالہ دِل، دُودِ چراغ محفل! جو تیری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا!‘‘
٭آصف زرداری کی حکومت کے پانچ وزرائے خزانہ: حفیظ شیخ (3 سال)، شوکت ترین (15 ماہ) نوید قمر( 5 ماہ) سلیم مانڈوی والا (43 دن) سلمان فاروقی (2 ماہ 17 دن)
٭امریکہ کے سائنس دان حیرت زدہ تھے کہ چین نے آواز سے پانچ گنا زیادہ رفتار والے (6225 کلو میٹر فی گھنٹہ) میزائل بنا لئے ہیں جنہیں روکنا ممکن نہیں ہو گا۔ اب مزید انکشاف ہوا ہے کہ چین نے 25 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار والا میزائل بھی تیار کر لیا ہے۔یہ رفتار آواز کی عام رفتار سے تقریباً 25 گنا زیادہ ہے۔ اس رفتار پر دنیا بھر کے سائنس دان حیران ہو رہے ہیں۔
  ٭جڑانوالہ: ایک مقامی عدالت کے سینئر سول جج سے حسب مرضی فیصلہ نہ ملنے پر وکیل نے کرسی مار کرجج کا سر پھاڑ دیا۔ کرسی گرنے سے عدالتی میز کا شیشہ ٹوٹ گیا خود کرسی بھی ٹوٹ گئی۔ جج شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ جڑانوالہ کچہری کے دوسرے ججو ںنے کام بند کر دیا۔ وکیل بھاگ گیا اس کے خلاف دہشتگردی سمیت چھ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اس کی تلاش جاری ہے۔ نوجوان وکیلوں نے ایک عرصہ سے عدالتوں میں دہشت اور وحشت کا سماں پیدا کر رکھا ہے۔ اس سال فروری میں لاہور میں ایک وکیل نے جج کو تھپڑ مار دیا تھا۔ یہ وہا پھیلتی جا رہی ہے۔

 

تازہ ترین خبریں