09:12 am
’’المیہ سری لنکا‘ ‘آئی ایس آئی پر الزامات  مودی کی ضرورت!

’’المیہ سری لنکا‘ ‘آئی ایس آئی پر الزامات مودی کی ضرورت!

09:12 am

’’یورشیا فیوچر‘‘ کے نئی دہلی میں مقیم کالم نگار اینڈریو کوربکو کا حال ہی میں ایک انگریزی  اخبار میں 25 اپریل کو شائع شدہ طویل کالم ’’سری لنکا المیہ میں پاکستان مخالف بھارتی میڈیا کا واضح استعمال‘‘ سامنے آیا تو سوچا  دنیا بھر کے قارئین کو متوجہ کرنا پرمغز اور حقائق سے موافق یہ تازہ تجزیاتی بیانہ پیش کیا جائے۔ کال نگار اینڈریو کوربکو نے کا موقف ہے کہ بالآخر بھارتی میڈیا نے سری لنکا المیہ کو بھی پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا کام کر رہی ڈالا ہے ویسے تو یہ کبھی نہ کبھی ہونا ہی تھا۔ بھارتی میڈیا نے بہت تیزی سے پڑوسی ملک کی آئی ایس آئی کو سری لنکا المیے سے وابستہ کر دکھایا ہے۔ جس تیزی سے بھارتی میڈیا نے یہ ناممکن کام عملاً کر دکھایا ہے اس سے سری لنکا افسردہ معاملے کو بھارتی سیاسی خود ساختہ مثبت بیانے کے مقاصد کے لئے بھی ایک اظہاریہ بنا دیا گیا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ساتھ ہی یہ بھی دیکھ  لیا جائے کہ ایک ماہ مدت پر مبنی طویل بھارتی انتخابی عمل میں اس کا استعمال کتنا مفید رہے گا۔


وزیراعظم مودی کے لئے دنیا کے سامنے آتا نہایت سستا بھارتی منظر۔ کالم نگار وکی تجاپا نے کس پراسرار حکمت عملی کے ساتھ کچھ عرصہ پہلے ہی ’’ون انڈیا‘‘ میں ایک مضمون لکھا تھا کہ آئی ایس آئی نے کیسے سری لنکا کو اپنے ہائی کمیشن کے ذریعے انتہا پسند بنا دیا ہے۔ ماضی کے اس مضمون کو لکھنے والے نے وقت ضائع کیے بغیر فوراً ثابت کر دیا کہ سال بھر پہلے انڈیا کی نیشنل انویسٹی یشن ایجنسی کی تحقیقات سے سامنے یہ بات آئی تھی کہ سری لنکا جزیرہ پر موجود پاکستانی ڈپلومیٹ نے بھی جنوبی انڈیا میں ممبئی طرز کے  دہشت گردانہ حملے کا منصوبہ بھی بنا رکھا ہے۔ تجزیہ نگار اینڈ ریو کوربکو توجہ دلاتے ہیں کہ اس بات کو فراموش نہ کریں کہ اس مذکورہ مضمون میں جھوٹ پر مبنی حکمت عملی کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ درحقیقت یہ بھی تبصرہ کیا جاسکتا ہے کہ ممبئی حملہ کے نتائج میں جو بھارت نے اپنے بنے بنائے خیال کو واضح طور پر استعمال کیا تھا یہ ہے کہ پاکستان کی آئی ایس آئی اس کے پیچھے ہے۔ یوں آئی ایس آئی کو آسانی سے علاقائی چھپا ہوا دشمن بناکر پیش کر دیا تھا تاکہ جنوبی ایشیا میں آئی ایس آئی کے بارے میں اگر کوئی معمولی سا  بھی خدشہ اور شبہ موجود ہو تو اس کو مزید اجاگر کیا جائے ویسے دوسری طرف اس سے  یہ بھی تو منطقی طور پر سامنے آتا ہے کہ انڈیا کی ’را‘ ایجنسی سری لنکا المیہ کے پیچھے ہوسکتی ہے تاکہ تاریخی طور پر موجود پاک سری لنکا نہایت مضبو ط تعلقات کو بہت کمزور کر دیا جائے۔
کہانی کو پراسرار اور مشکل بناکر پیش کرنا۔ اس خاص مقصد کے پیچھے یہ موقف استعمال ہو رہا ہے کہ  پاکستان ہی ریاستی طور پر دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ملک ہے۔ لہٰذا بھارتی میڈیا نہایت تیزی سے سری لنکا المیہ کو پاکستان سے جوڑ رہا ہے اس کے ساتھ پھیلائی گئی پہلی اس غلط کو بھی تو سامنے رکھیں کہ آئی ایس آئی ہی بدھو نیشنلسٹ آرگنائزیشن (بدھو بالا سینا) کی مالی طور پر مدد کرتی ہے۔ دلچسپ بات کہ اس غلط خبر کا ذریعہ بھی ’را‘ سے جاملتا ہے کہ آئی ایس آئی بدو بالا سینا کی مالی مددگار ہے۔
جبکہ مضمون نگار نے یہ بھی نظریہ پیش کیا ہوا ہے کہ پاکستانی ڈپلومیٹ نے ہی ممبئی طرز کے اس جنوبی ایشیائی  سری لنکا کے حملے کو منظم کرنے میں بی ایس (بدھو بالا سینا) کی مدد کی ہے تاکہ اس کے نتیجے میں جب مسلمان مخالف تشدد ظہور میں آئے گا تو نتیجتاً آئی ایس آئی پھر مسلمانوں کو استعمال کرنے کا اپنا پرانا نظریہ کامیاب بنالے گی۔ یوں یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ کسی بھی طرح سے اسلام آباد کو سری لنکا کے ایسٹر خود کش بم دھماکے کا ذمہ دار بنا دیا جائے جبکہ یہ جو بہت ہی مشکل کہانی بیان کی جارہی ہے یہ تو بہت ہی حیران کن ہے جبکہ علاقائی طور پر باہر کی دنیا میں موجود اس بھارتی میڈیا مشکل کہانی کے پڑھنے والوں کو بھی بھارت کے اندرونی سیاسی مقاصد کے لئے بھی استعمال کرلیا جائے گا۔ بیان شدہ یہ کہانی عوام کے جذبات کو ابھارنے کا بھی ایک ذریعہ ہے تاکہ وہ پاکستان مخالف مزید ہو جائیں۔ یوں بھارتی عوام کے شدید تر پاکستان مخالف جذبات کا استعمال آسانی سے ہو جائے گا۔  سیاسی طور پر ووٹ ہتھیانے کے لئے نئے سیکنڈلز کی تخلیق۔ اس بات کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ایک ماہ پر مشتمل انتخابی عمل میں وزیراعظم مودی کی آئندہ کی سیاسی زندگی کا انحصار ہے چنانچہ انتخابی جیت کا زیادہ تر د ارومدار موجودہ منظرنامے کو نیشنل سیکورٹی معاملات سے وابستہ کرکے اور بہت زیادہ اہمیت دیکر سیاسی استعمال کرنا ہے۔ قارئین سامنے رکھیں کہ فروری کے آخر میں پاکستان کے ہاتھوں دوبدو اچانک لڑائی کے منظرنامے میں بھارت کی کافی توہین ہوچکی ہے حالانکہ یہ لڑائی خود بھارت نے پاکستان سے شروع کی تھی۔ بالی ووڈ کی فلموں میں استعمال ہوئے سرجیکل سٹرائیک طرز کو جب مودی کے بھار ت نے استعمال کرلیا تو نئی دہلی کے  د شمن نے بھارت کے گرائے گئے جہازوں کے ایک پائلٹ کو زندہ پکڑلیا تھا جبکہ اسلام آباد نے اس پکڑے ہوئے بھارتی پائلٹ کو فوراً  آزاد کرکے امن کا  اپنا واضح کردار بھی پیش کر دیا تھا۔
 بالآخر وزیراعظم مودی کی اپنی ہی ایک وزیر خارجہ نے بھی اپنی ہی حکومت کے بیانیے کو یہ کہہ کر جھٹلا دیا تھا کہ بالاکوٹ میں نہ کوئی مارا گیا نہ ہی زخمی ہوا۔ مودی جیسا سیاسی شخص جو خود کو نیشنل سیکورٹی کا معمار کردار بتاتا ہو اس کے لئے بالاکوٹ میں وقوع پذیر شرمندگی کے واقعات کس قدر اہم ہیں؟ لہٰذا ضروری ہو جاتا ہے کہ بھارتی عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے نئے سیکورٹی سیکنڈلز تخلیق کرلیے جائیں تاکہ انتخابی عمل کے دوران ان تخلیق شدہ سیکنڈلز کے استعمال سے وہ خود کو پھر سے مضبوط کرتے۔ اس کے ساتھ ہی اس پھیلائے گئے بھارتی موقف کو بھی سامنے رکھیں کہ پاکستان روس و چین کی مدد سے بھارت کے ساتھ پوری دنیا کے خلاف بھی ہائبرڈ وارز مسلط کیے ہوئے  ہے۔

 

تازہ ترین خبریں