09:13 am
سیاستدانوں کی بد تہذیبی اور اسلامی تعلیمات

سیاستدانوں کی بد تہذیبی اور اسلامی تعلیمات

09:13 am

اسلام میں گالی دینے کا شرعی حکم گالی سنگین جرم اورگناہ کبیرہ ہےاور کسی کو بھی برے نام سے پکارنے کی ممانعت ہے ۔پشاور میں حالیہ جلسے میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیر اعظم نواز شریف سمیت تمام مخالفین کو مختلف القابات سے نوازا اور اس سلسلے میں جنگل کے بادشاہ کے بارے ایک پنجابی لوک کہانی کا سہارا بھی لیا، اس سے پہلے بنوں میں مولانا فضل الرحمان اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اکرم خان درانی نے بھی  اپنے اپنے ہنر کا اظہار کیا تھا، اپنے ہم عصر سیاستدانوں کو الٹے سیدھے ناموں سے پکارنا پاکستانی سیاست میں کوئی نئی بات نہیں۔اس سلسلے میں پیپلزپارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو تو ید طولی حاصل تھا، شعلہ بیانی پر آتے تو مخالفین کو ایسے ایسے القاب دیتے کہ لوگ دیکھتے ہی رہ جاتے۔


  1970ء اور 1977ء کے عام انتخابات میں پاکستان میں فیس بک یا دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس تو نہیں تھیں، اس لئے سیاسی جماعتوں کے حامی اخباروں کے کارٹونسٹس مخالف سیاسی رہنماؤں کے قابل اعتراض خاکے چھاپے جاتے تھے ۔اسی طرح ور بے نظیر بھٹو کی کمزور اردو کی وجہ سے بڑی مضحکہ خیز اصطلاحات عام ہوئیں۔پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت میں راجہ ریاض نے شہباز شریف کو مغل شہزادے اور ضدی بچے کا خطاب دیا، اسی دور میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے نواز شریف اور شہباز شریف کو ڈینگی برادرز کا نام دیا۔ 2013ء کے انتخابات میں اس روایت نے مزید زور پکڑا، ن لیگ کے رہنماؤں کو گیدڑ، کاغذی شیر اور سرکس کے شیر کہا گیا تو جواباً انہوں نے بھی اناڑی کھلاڑی کہنا شروع کردیا۔تحریک انصاف کے حامی اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید بھی مزاحیہ خطابات دینے سے باز نہیں آتے، پاکستان کی ایک اہم شخصیت کے نام کے ساتھ انہوں نے دہی بھلے کو ایسے منسلک کیا کہ اب ہر کوئی اس بات کو حقیقت ہی سمجھتا ہے، وہ پیپلزپارٹی کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے سے پہلے تک بلاول بھٹو کو بلو رانی کے نام سے پکارتے رہے ہیں، خیبر پختونخوا کے ایک سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی کو ایزی لوڈ کے نام سے پکارا جاتا رہا، دھرنے اور اب پانامہ لیکس کے بعد سیاستدانوں کے ایک دوسرے پر رقیق حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔
یہ سب کچھ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے سیاسی قیادت کا اخلاقیات سے دور پار کا بھی کوئی واسطہ نہیں رہا ہے۔دوسری طرف اسلام کی تعلیمات کو دیکھیں تو اس دین متین نے انسانیت کو شرف بخشا ہے ۔اسلام ایک مہذب دین ہے اس لیئے اس نےگالی کو سنگین جرم اورگناہ کبیرہ قرار دیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کریں تو یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ اسلام میں تو ایک غیر مسلم کو گالی دینا جائز نہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں گالم گلوچ کو بطور ہتھیاراور آخری حربہ استعمال کیا جاتا ہےجو تعلیمات دین اسلام اور تعلیمات محمدی ﷺ کی سراسر منافی ہے۔ یہ کسی صورت میں اسلام اور اہلسنت کی آبیاری نہیں الٹا دین کا نقصان ہے۔آپ کے کسی سے لاکھ علمی اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن ان کا علمی انداز میں محاسبہ کرنا ہی علمی اختلافات کاہمیشہ دلیل سے جواب ہے۔
گالی کی تعریف:زبان کا بے ہودہ،غلط اور ناجائز استعمال خواہ کسی بھی شکل میں ہو”گالی کہلاتا“ہے۔ لغت کے مطابق گالی بدزبانی اور فحش گوئی کا نام ہے۔الغرض اسلام تحمل و برداشت اور رواداری کا وہ نمونہ فراہم کرتا ہے جو دنیا کا کوئی معاشرہ فراہم نہیں کر سکتا. قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے اہل ایمان کو یہاں تک حکم دیا ہے کہ غیر مسلموں کے جھوٹے معبودوں (بتوں) کو بھی گالیاں نہ دو۔ ارشاد ہوتا ہے : ترجمہ : اور (اے مسلمانو!) تم ان (جھوٹے معبودوں) کو گالی مت دو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں پھر وہ لوگ (بھی جواباً) جہالت کے باعث ظلم کرتے ہوئے اللہ کی شان میں دشنام طرازی کرنے لگیں گے۔‘‘(انعام، 6: 108)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جن بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ان میں سے زبان ایک بہت بڑی نعمت ہے، زبان قلوب و اذہان کی ترجمان ہے، اسکا صحیح استعمال ذریعہ حصول ثواب اور غلط استعمال وعید عذاب ہے، یہی وجہ ہے کہ احادیث نبویہ ﷺ میں“اصلاحِ زبان” کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت میں نبی اکرم ﷺ نے گالی گلوچ کو منافق کی نشانی قرار دیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:"منافق کی چار نشانیاں ہیں۔جب بولے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے،امین بنایا جائے توخیانت کرے اور جب جھگڑا ہوجائے توگالی گلوچ پر اتر آئے ۔مسلم شریف کی روایت ہے کہ جب دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کریں تو گناہ ابتدا کرنے والے پر ہی ہوگا،جب تک کے مظلوم حد سے نہ بڑھے۔ایک طرف تو نبی اکرم ﷺ نے گالی گلوچ سے منع کیا اورفرمایا کہ گالی گلوچ کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہوگااور دوسری طرف اخلاقی طور پر یہ بھی ہدایت کی ہے کہ گالی کا جواب گالی سے نہ دیا جائے،اس لیے کہ اس طرح کرنے سے دونوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔
کسی مسلمان کی دل آزاری کرنا بہت سخت گناہ ہے اور گالی کے ذریعے انسان کو شدید تکلیف ہوتی ہے کوئی اس تکلیف کا اظہار کر دیتا ہے اور کوئی صبر کا گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے ۔ مذہب اسلام نے صرف مسلموں کو نہیں بلکہ غیر مسلموں کو بھی گالی دینے سے منع فرمایا ہے۔اور اگر کوئی اہل ایمان کو گالی دے توکس قدر سخت گناہ ہوگا اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
  صحیح بخاری کی حدیث ہے،پیغمبر اسلام ﷺنے فرمایا:مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے ۔
غیر مسلم شہری کو زبان یا ہاتھ پاؤں سے تکلیف پہنچانا، اس کو گالی دینا ،مارنا ،پیٹنا یا اس کی غیبت کرنا اسی طرح ناجائز اور حرام ہے جس طرح مسلمان کے حق میں ناجائز اور حرام ہے ۔”الدرالمختار“میں یہ اصول بیان ہوا ہے کہ :”غیر مسلم کو اذیت سے محفوظ رکھنا واجب ہے اور اس کی غیبت کرنا بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح مسلمان کی غیبت کرنا۔“رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ترجمہ : جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے(اسے چاہئے یا تو) وہ بھلائی کی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔اہل ایمان کی گفتگو بہترین اورپر تاثیر ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ فضولیات سے احتراز کرتے ہیں کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا:ترجمہ : فضول باتوں کو چھوڑ دینا ، آدمی کے اسلام کی اچھائی کی دلیل ہے ۔

 

تازہ ترین خبریں