09:14 am
اللہ خیر کرے

اللہ خیر کرے

09:14 am

 گذشتہ دنوں اسلام آباد جاناہواوہا ں ہماری ملاقات بیروزگاہونے والے اہل صحافت سے ہوئی جو احتجاج کر رہے تھے کیمپ لگائے بیٹھے انصاف کی آس  اور بیروزگاری کے خاتمے کی امید کررہے تھے ان سے معلوم ہوا کہ پاکستان کے طول و ارض میں کس قدر اہل صحا فت آج مشکل میں مبتلا کردیے گئے ہیں ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہواحکمرانوں نے ہمیشہ صحافت اوراہل صحافت کو چوتھاستون قرار دیاہے آج اسی چوتھے ستون کومنظر سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے حکمران مسند نشین ہونے سے قبل تک اسی چوتھے ستون کے زیربار احسان ہونے کاکلمہ خیر کہتے نہیں تھکتے تھے۔


 حکمران وقت عمران خان صاحب نے اپنے پہلے قومی خطاب میں بڑی فراخ دلی سے اہل صحافت کاشکریہ ادا کیا تھا۔اس میں دورائے نہیں کہ جس طرح اخبارات اور برقی ذرائع نے رات ودن تحریک انصاف کی تشہیر ومدد کی وہ دور کی بات نہیں اس تمام تعاون کا صلہ اہل صحافت کو بیروزگاری کی صورت میں دیاجارہا ہے جوصحافی کل تک جی جان سے سردھڑ کی بازی تحریک انصاف کی کامیابی کے لیے لگائے ہوئے تھے وہ بھی آج جب کہ صرف چند ماہ ہی گزرے ہیں تحریک انصاف کے رویوںسے نالاں وناامید ہوکر حکومت اور حکمرانوں کیخلاف صف آرا ہوچکے ہیں۔ ایک طرف تو ایک کروڑ نوکریوں کااعلان کیاگیا وہیں فوری طور پر اہل صحافت کوبیروز گار کردیا گیاہے۔
 اخبارات اور برقی ذرائع ابلاغ کیخلاف کوشش کی جارہی ہے کہ کس طرح انہیں اپنی مرضی کا تابع کرلیاجائے۔ شاید وہ لوگ جو ان ہی ذرائع ابلاغ کے کاندھوں پرچڑھ کر مسند اقتدار پربراجمان ہوئے ہیں۔ یہ تو نہیں سمجھ رہے کہ جن کاندھوں نے انہیں سربلند کیا ہے کہیں وہ کسی اور کو اس مسند تک لانے کے لیے ان کیخلاف نااستعمال ہوسکیں ناصرف صحافی مالکان اخبارات مالکان ٹی وی کے ذرائع آمدن پرقدغن لگائی جارہی ہے ہرروز نئے سے نیا حربہ آزمایا جارہاہے۔
 مالکان ذرائع ابلاغ کی آمدن روکنے کے لیے پہلے اشتہارات روکے گئے پھرڈالر مہنگا کرکے انہیں مجبور کردیا گیاکہ وہ آمدن واخراجات کو قابو رکھنے کیلئے بہت سے افراد کوبیروز گارکردیں تاکہ وہ اپنی بیروزگاری کے خلاف مالکان کے خلاف صف آرا ہو کرا انہیں حکومت کے سامنے سرنگوں ہونے پر مجبورکرسکیں ۔شاید حکمران خوف کاشکارہیں کہ اخبارات اور نیوز ٹی وی کہیں ا ن کی کوتاہیوں کوحسب عادت حسب معمول طشت ازبام کرکے حکومت کرنامشکل ناکردیں یہی وجہ ہے کہ اہل صحافت پر لفافہ صحافت کاالزام لگایاجارہاہے بس نہیں چل رہا کہ کیسے تہس نہس کیاجائے کیسے ہرقسم کے ذرائع ابلاغ سے جان چھڑائی جائے یہ وہ گفتگوہے جو سننے کو ملی۔
وہیں کچھ لوگوں کاکہنا تھا کہ عمران خان اکیلا کیا کیا کرسکتا ہے دراصل ا ن کے اردگرد کچھ ناسمجھ جو ٹکرائواور حکومت کرو کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں عمران خان کو ایسے ساتھیوں سے جلداز جلد جان چھڑالینا چاہیے ورنہ وہ مشکل میں پھنس سکتے ہیں۔ دراصل عمران خان کی تمام تر توجہ ملک کی معاشی مشکلات پرقابو پانے پرہے یہی وجہ ہے کہ وہ تمام دوست ممالک سے مدد حاصل کرنے میں مصروف ہیں جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی ہورہے ہیں۔ امید ہے کہ جلد ہی بڑی بڑی خوش خبریاں ملیں گی۔ یہ بات درست ہے عمران خان اکیلے ہی جی جان سے کھیل رہے ہیں۔ ا ن کی ٹیم ا ن کاساتھ نہیں دے رہی ۔ان کے ساتھی ا سی چراغ کو بجھانے کی کوشش کررہے ہیں جس نے ان کے اقتدار کے راستے کوروشن کیا۔
عمران خان کوفوری طور پر اور ہرسطح پرتمام ذرائع ابلاغ کے معاملات پرتوجہ دینی چاہیے ۔ایک صحت مند معاشرے کے لیے صحت مندصحافت بہت ضروری ہوتی ہے۔کیاعمران خان اوران کی ٹیم یہ سمجھ رہی ہے کہ اس بار توموقع خلائی مخلوق کی مدد سے مل گیا ہے آگے جانے کیاہو موقع ملے ناملے ۔اب دیکھنایہ ہے کہ دورہ چین کے بعد حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں کیوں کے اب حکمرانی کے تمام عہدے غیر منتخب افراد کوسونپ دے گے ہیں جنہوں نے ناحکومت سے نا ملک وقوم سے کسی قسم کی وفاداری آئین کی پاس داری کاکوئی حلف نہیں اٹھایا۔اللہ خیر کرے۔ آمین !

 

تازہ ترین خبریں