09:17 am
علاقائی سپرپاوربننے کابھارتی خواب چکناچور

علاقائی سپرپاوربننے کابھارتی خواب چکناچور

09:17 am

اس سے قبل27فروری کو پاکستان سے عسکری سطح پرمناقشے کے نتیجے میں دوبھارتی دولڑاکا طیاروں کی تباہی اورایک پائلٹ کی گرفتاری نے اقوام عالم کے سامنے علاقائی سپرپاور ہونے کاسارابھرم ختم ہوہی چکاتھا ،  عالمی برادری کے سامنے شرمندگی کابوجھ ابھی ختم نہیں ہواتھاکہ امریکہ کی طرف سے ایف سولہ طیاروں کے بارے میں بھارت کا ایک اورجھوٹ دنیاکے سامنے آگیاجس کے بعدخودبھارت کے تجزیہ کاراورصحافی یہ کہنے لگے ہیں کہ بھارت کوعلاقے میں جوبالادستی کسی نہ کسی طورمیسرتھی‘مودی کی حماقت سے اس کابھی جنازہ نکل گیاہے۔ وہ ختم ہوتی جارہی ہے۔بھارت کو اپنے پڑوسیوں کا وہ اعتماد حاصل نہیں رہاجو چندبرس پہلے تھااور اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ خطے میں بہت کچھ تبدیل ہو چکاہے اوران تبدیلیوں کامقابلہ کرنے میں مودی کو رسوائی کے سوااورکچھ نہیں ملا۔


دو تین برس سے معاملات کچھ عجیب شکل اختیار کرگئے ہیں۔ خطے میں چین کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ جنوبی ایشیاء  کے بیشتر ممالک میں چینی قیادت کے نقوشِ قدم آسانی سے دیکھے جاسکتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ چین نے خود کو بڑے پیمانے پر منوانے کی  بھرپور  تیاری کررکھی ہے۔وہ غیرمعمولی حد تک فعال ہو چکا ہے ۔   بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں علاقائی سپرپاورکی حیثیت سے بھارت کی موت واقع ہوچکی ہے اوررہی سہی کسرحالیہ پاک بھارت معرکہ آرائی سے سامنے آگئی ہے جس کے بعدعسکری لحاظ سے ایک نیاطاقتور پاکستان سامنے آیاہے جس نے خودکونہ صرف ساری دنیاکے سامنے خودکو منوا لیاہے بلکہ بھارت کوخاصاعبرتناک سبق بھی سکھادیاہے۔اس حقیقت سے بھی انکارممکن نہیں کہ بھارت کے پڑوس بنگلہ دیش،سری لنکا،نیپال،بھوٹان اورمالدیپ میں رونماہونے والی تبدیلیوں نے ملاجلا ماحول پیداکردیا ہے۔ بنگلہ دیش میں بھارت نوازحکومت ہے،نیپال کے بارے میں ایسانہیں کہاجاسکتا۔جس طرح پاکستان نے سری لنکامیں دہشت گردی ختم کرنے میں اس کی مددکی ہے اس کے بعدسے سری لنکاکامعاملہ بھی نمایاں طورپربھارت کے حق میں نہیں ۔ مالدیپ میں صدرعبداللہ یامین نے اپوزیشن سے تعلقات کشیدہ ہو جانے  پرہنگامی حالت نافذ کررکھی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بھوٹان میں اب ایک انتہائی تواناآوازاٹھ رہی ہے کہ بھارت پرانحصارکم کیاجائے۔
مودی کی انتخابات جیتنے کیلئے میڈیامیں اربوں روپے کی سرمایہ کاری بھی پسپائی اختیارکرتی جارہی ہے اوراب پرنٹ،ٹی وی اورآن لائن (سوشل میڈیا)سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ بھارت اپنے پڑوسیوں سے(یعنی ان کی حمایت اورمحبت)محروم ہوتا جارہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ تاثربھی تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے کہ جہاں چین ہرمعاملے میں بھارت سے کہیں زیادہ طاقتورہے، اب وہاں خطے میں پاکستان پربھی غیرمعمولی حدتک بھروساکیاجاسکتا ہے۔مین اسٹریم اورسوشل میڈیا میں کچھ لوگوں کی باتوں سے یہ تاثربھی سامنے آرہا ہے کہ بھارت گِھرتا جارہا ہے،ڈوب رہا ہے اوریہ کہ چین اورپاکستان کااشتراک ہرمعاملے میں اس سے بازی لے جاتا دکھائی دے رہا ہے۔اس حوالے سے تمام معاملات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔بھارت کادعویٰ تھاکہ اس نے اپنے پڑوسیوں کے ہاں جمہوری روایات کو پروان چڑھانے میں غیرمعمولی کامیابی حاصل کی ہے۔
 بنگلہ دیش میں فوجی آمریت ختم کرکے جمہوریت قائم کرنے میں مددکی لیکن بنگلہ دیش کی فوج میں ’’را‘‘کی مددسے سینکڑوں بنگلہ دیش فوجیوں کی ہلاکت نے سارابھانڈہ پھوڑدیااوررہی سہی کسرحسینہ واجدکی آمریت نے پوری کردی ہے۔ نیپال میں بادشاہت کوجمہوریت میں تبدیل کرنے کیلئے بھی ’’را‘‘ کاخونی کردارسب کے سامنے ہے اوراب نیپال تیزی سے چین کے ساتھ اپنے روابط بڑحارہاہے جس نے مودی سرکارکوایک اورناکامی سے دوچارکردیاہے۔کل تک کئی پڑوسی ممالک بھارت نوازکہلاتے تھے،ان ممالک کی سیاست میں بھارت ایک فیصلہ کن عامل کے طورپرکارفرماتھا،بیشتر پڑوسیوں کی سیاست اور اہم سیاسی فیصلوں میں بھارت کواہم عمل دخل تھالیکن اب بھارتی پالیسیوں کومستردکرنے کاعمل شروع ہو چکا ہے۔
بھارت کے بیشترپڑوسی اپنے فیصلے اب خود کرنے کی پوزیشن میں آرہے ہیں۔ان کے بیشتر فیصلوں پربھارت کااثرتقریباًنہ ہونے کے برابردکھائی دے رہا ہے۔ اس سے قبل بہت سے فیصلے حالات کے دبائواو ر مصلحت کے ہاتھوں مجبور بھارتی پالیسیوں سے ہم آہنگ دکھائی دیتے تھے لیکن اب یہ بات روزِروشن کی طرح عیاں ہے کہ علاقائی معاملات میں اب چین اپنا کردار کھل کر ادا کر رہا ہے۔وہ بیشترامورمیں اپنی موجودگی نمایاں  طورپرثابت کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ بنگلہ  دیش، سری لنکااورمالدیپ کی چین نے بھرپورمالی معاونت کی ہے۔تجارت بھی بڑھائی ہے۔سرمایہ کاری کادائرہ بھی وسعت اختیارکررہاہے۔ان ممالک کو چین اسلحہ اور متعلقہ ٹیکنالوجی بھی دے رہا ہے۔ ان تمام ممالک میں چین کے نقوشِ قدم واضح طورپردیکھے جاسکتے ہیں جس کوروکنے کیلئے مودی سرکارامریکہ کے سامنے شب وروز دہائی دے رہاہے۔
بھارت کواب دوڑدوڑکرچین کے برابر آنا پڑ رہاہے اوربنگلہ دیش،سری لنکااورنیپال میں چین ہر اعتبار سے بھارت کانعم البدل بن کرابھراہے جس سے بھارت بہت زیادہ خوفزدہ ہیں۔ جبکہ نیپال اوربھارت کے درمیان اب بھی اوپن بارڈرہے۔کم وبیش دس لاکھ نیپالی ورک پرمٹ کے بغیربھارت میں کام کررہے ہیں۔ بھارت کی حکومت اب بھی ایک لاکھ 27 ہزار گورکھا (نیپالی)سپاہیوں کوپنشن اداکررہی ہے۔
بنگلہ دیش،سری لنکااورمالدیپ میں بھارت نے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانے والے متعدد منصوبے مکمل کیے ہیں۔ نیپال اور بھوٹان کا بھی بہت حد تک بھارت ہی پرانحصاررہا ہے اوربھارت کایہ دعویٰ ہے کہ اس نے بنگلہ دیش سے سرحدی تنازع ختم کرلیاہے اور کم وبیش آٹھ ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی ہے ۔سری لنکا میں ریلوے نیٹ ورک کو جدید دورکے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر غیر معمولی توجہ دی ہے اوراب بھی بنگلہ دیش میں توانائی کے متعدد منصوبوں پر بھی کام ہو رہا ہے،  بنگلہ دیش میں بھارت کے تعلیمی اورثقافتی اثرات بھی غیر معمولی ہیں لیکن پھربھی یہ ممالک تیزی سے چین کے ساتھ اپنے تعلقات کیوں بڑھارہے ہیں؟عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق1971ء اور1990ء  میں بھارتی کردارنے یہ ثابت کیاہے کہ وہ دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت کررہاہے اوراس کے سر پر علاقائی سپرپاوربننے کابھوت سوار ہے ۔ ان دوانتہائوں کے ہاتھوں خطہ عدم توازن سے دوچارہے جس کی بھارت کوبھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

 

تازہ ترین خبریں