09:18 am
بھارتی ائیرفورس نے ناکامی تسلیم کرلی

بھارتی ائیرفورس نے ناکامی تسلیم کرلی

09:18 am

پاکستان پر حملہ: ہم سے غلطیاں ہوئیں‘ بھارتی ائیرفورس کی قیادتO پنجاب اسمبلی ہنگامہ‘ تین ارکان معطلO رمضان سے پہلے شدید مہنگائی‘ لیموں480 روپے کلوO سندھ حکومت‘ گندم کی نئی قیمت‘ رمضان میں ریلیف واپس O جماعت اسلامی ‘ تنظیم میں تبدیلیO قومی اسمبلی صرف150 ارکان کو ترقیاتی فنڈ جاری O تیل سستا ہو رہا ہے ‘ ٹرمپ‘ پاکستان میں مزید مہنگا ہونے والا ہے Oبیجنگ میں نواز شریف کے ساتھ بھی یہی استقبال ہوا تھا O مقبوضہ کشمیر: مزید دو کشمیری شہید۔


٭ بھارتی اخبارات ‘ ہندوستان ٹائمز‘ انڈین ایکسپریس‘ ٹائمز آف انڈیا وغیرہ کی یکساں خبر‘ کہ بھارت کی ائیرفورس کے اعلیٰ کمانڈروں کے ایک اجلاس میں اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ پاکستان کے علاقہ بالاکوٹ پر بھارتی فضائیہ کے حملے میں کچھ واضح خامیاں اور غلطیاں سامنے آئی ہیں ان میں بڑی خامی تو یہ ہے کہ بھارتی حکومت بالاکوٹ میں دہشت گردوں کی جس عمارت کی تباہی اور350 لاشوں کا دعویٰ کر رہی ہے اس کی بھارتی فضائیہ کے پاس کوئی تصاویر نہیں۔ کہا گیا ہے کہ رات کے اندھیرے میں تصویریں اتارنے کے آلات ہی نہیں تھے۔ اس کے معنی ہیں کہ بھارتی طیارے ناکارہ ہیں ان کا دور کرنا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ انٹیلی جنس کے ذریعے اگلے روز ان کے  دن کے وقت تصاویر بنائی جاسکتی تھیں مگر ایسا نہیں ہوا۔ کمانڈروں کے اس اجلاس میں دوسرے بہت سے اعتراضات کیے گئے۔ دریں اثناء گزشتہ روز بھارت کی انتخابی مہم کے چوتھے مرحلے میں کانگریس کے رہنمائوں نے نریندر مودی کو بالکل جھوٹا ڈرامہ باز قرار دیا جو بھارتی فضائیہ کی فرضی کامیابیاں بیان کرکے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
٭ مجھے کچھ لیموں لینے تھے ۔ دکان پر گیا۔ قیمت بتائی گئی480 روپے کلو! 20 روپے کا ایک لیموں! دنیا بھر میں مذہبی تہواروں پر اشیائے صرف کی سستی سیل شروع ہو جاتی ہے۔ ہماری بدنصیبی کہ یہاں ہر سال رمضان کی آمد پر قیمتیں دوگنا سے بھی زیادہ کر دی جاتی ہیں۔ اس سے بڑی کرپشن اور کیا ہوسکتی ہے؟ صبح شام کرپشن! پوری قوم عذاب سے  دوچار ہے‘ کرپشن کے خلاف نعرے لگانے والے کہاں ہیں؟ ملک میں کوئی حکومت ہے؟ میں نے صرف لیموں کی قیمت بتائی ہے‘ تمام سبزیوں کی یہی حالت ہے۔65 روپے والی ڈبل روٹی80 روپے میں‘85روپے والا کوکا کولا وغیرہ100 روپے میں! کس کس چیز کا ماتم کریں۔ ملک کی قومی اسمبلی کا واحد اور سب سے بڑا مسئلہ  یہ ہے کہ ایک نوجوان کو ’’صاحبہ‘‘ کیوں کہا گیا؟ دوسرا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ نواز شریف کو لندن کیسے بھیجا جائے؟
٭ سری لنکا میں حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ تینوں افواج اور پولیس کے سربراہ برطرف ہوچکے ہیں‘ کرفیو اٹھالیا گیا ہے اور انکشاف ہوا کہ گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں دھماکے بھارت کے صوبہ تامل ناڈو کی ایک تنظیم ’’التوحید‘‘ نے کئے ہیں جو داعش سے وابستہ ہے۔ اس کا مرکزی ماسٹر مائنڈ مارا جاچکا ہے۔ بھارت نے بھرپور پروپیگنڈہ شروع کیا تھا کہ یہ دھماکے پاکستان کے دہشت گردوں نے کئے ہیں۔ اب بھارت پر الزام آیا ہے تو بھارتی میڈیا خاموش ہوگیا ہے۔
٭اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان نے قومی اسمبلی کو چوروں کا اڈا اور اس کے ارکان کو ترقیاتی فنڈز دیئے جانے کو قومی خزانے پر ڈاکہ قرار دیا۔ اسلام آباد کے دھرنے سے پہلے اور بعد میں سات ماہ تک اسمبلی سے غیر حاضر رہے‘ مضحکہ خیز استعفے پر بھی دیئے‘ پھر ایک روز تحریک انصاف کے سارے ارکان بھاگتے ہوئے اسی ’’چوروں کے اڈے‘‘ میں آبیٹھے اور قانون اور ضابطوں کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے سات ماہ کی پوری تنخواہیں بھی وصول کرلیں۔ اس کا کوئی اخلاقی اور اصولی جواز نہیں بنتا تھا اور  اب؟ قومی اسمبلی کے تحریک انصاف کے 50 ارکان کو24 ارب روپے کا ’’ترقیاتی فنڈ‘‘ تقسیم کر دیا گیا ہے۔ فی رکن16 کروڑ روپے؟ کہا گیا ہے کسان ارکان کے اضلاع کے ڈپٹی کمشنران کے ترقیاتی کاموں کی نگرانی کریں گے! قومی سرمائے کی اس وسیع لوٹ مار کا کیا جواز پیدا کیا گیا ہے۔ ہر وقت وسیع پیمانہ پر تبادلوں اور معطلیوں کی زد میں گھرے ڈپٹی کمشنروں کی جرات ہوسکتی ہے کہ ارکان اسمبلی کی تجوریوں کا جائزہ لے سکیں کہ کتنی بھر گئی ہیں؟ قومی خزانے کی ریوڑیوں کی طرح  اپنوں میں اندھا دھند جس تقسیم کو تحریک انصاف کی قیادت ڈاکہ قرار دے رہی تھی‘ اب وہی ڈاکہ خود مار رہی ہے! اس پر کیا بات کی جائے؟ آئین میں اسمبلیوں کا کام صرف قانون سازی تک محدود ہے‘ گلیوں ‘ سڑکوں اور غسل خانوں کی تعمیر ومرمت سے ارکان اسمبلی کا کوئی تلعق نہیں! مگر اندھے کی ریوڑیوں کی طرح ایک ایک رکن میں سولہ‘ سولہ کروڑ روپے کی شاہانہ بخشش! وزیراعظم صاحب! کسی نے بتایا کہ بازار میں لیموں480 روپے کلو بک رہے ہیں۔
٭ آج کل گلی گلی میں کتاب میلے شروع ہیں۔ تمام کالج‘ پریس کلب‘ یونیورسٹیاں اس کام پر لگی ہوئی ہیں۔ لاہور میں بیک وقت تین کتاب میلے! ایک بڑا سہ روزہ کتاب میلہ اسلام آباد‘  قومی خزانے سے صرف5کروڑ روپے کے اخراجات کا اندازہ! ایک میلہ کراچی میں ‘ ایک پشاور میں۔ پنجاب یونیورسٹی نے کھلے میدان میں سہ  روزہ میلے کا اعلان کیا۔ اسے تیسری بار معطل کرنا پڑا ہے کہ سرکاری سیکورٹی  کھلے  عام میلے کی اجازت نہیں دے رہی! ان میلوں میں کتابوں کی فروخت پر30 سے 50 فیصد رعایت دی جاتی ہے۔ یہ رعایت عام مارکیٹ میں کیوں نہیں دیتے؟ وہاں لوٹ مار مچی ہوئی ہے! کتابوں کے ناشرین ان میلوں میں رعایت پر بھی بھاری منافع کمالیتے ہیں‘ عام مارکیٹ میں کیا عالم ہوتا ہوگا؟
٭وزیراعظم عمران خان کی بیجنگ میں آمد پر وہاں کی بلدیہ کے ڈپٹی میئر کے استقبال پر شور مچ رہا ہے۔ انٹرنیٹ پر دکھایا جارہا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کا بھی اسی بلدیاتی عہدیدار نے اسی طرح استقبال کیا ھتا۔ اس وقت کوئی نہیں بولا تھا بلکہ یہ کہ آصف زرداری نے اپنے پہلے صدارتی سال میں بیجنگ اور دوسرے چینی شہروں کے چار ذاتی (براستہ دبئی) دورے کیے‘ ان میں  کسی بلدیاتی امیدوار نے بھی خیر مقدم نہ کیا‘ صرف پاکستانی سفیر ہوائی اڈے پر موجود ہوتا تھا۔ مگر پھر دورہ سرکاری قرار پاتا۔ کسی ملک کے صدر کا کسی دوسرے ملک میں کیا ذاتی کاروبار ہوسکتا ہے؟ یہ بات نیب والے بہتر بتاسکتے ہیں۔ نواز شریف کا انداز دوسرا تھا۔ امریکہ یا سنگاپور میں  جانا ہوتا تھا تو لندن کا راستہ اختیار کیا جاتا۔ وہاں نجی مصروفیات کے دوران پاکستانی سفارت خانہ کسی برطانوی وزیر سے ملاقات کرا دیتا تھا یوں یہ دورہ سرکاری ہو جاتا اور سارے اخراجات قومی خزانے کو ادا کرنے پڑتے۔ اس ملک کو کس کس طرح لوٹا گیا!

 

تازہ ترین خبریں