05:47 am
مودی کی حماقت

مودی کی حماقت

05:47 am

ان دنوں ٹی وی اسٹوڈیو کی آرام دہ کرسی میں دھنسے ہوئے(بخشی جیسے)بھارتی ریٹائرڈجنرل سیکورٹی کی صورتحال کا تجزیہ کرنے کے نام پرملک کوجنگ کی بھٹی میں جھونکنے کی کوشش کررہے ہیں،جس میں پاکستان کے خلاف فرضی جنگ سے متعلق جنون کو پروان چڑھانااب لت میں تبدیل کردیاہے،جن کازمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔اس حقیقت سے کوئی انکارنہیں کرسکتاکہ عمران خان نے ابھی نندن کورہاکرکے امن کوایک اورموقع دیاہے اس کے باوجودایسا لگتا ہے کہ مودی کسی نہ کسی سطح پرکوئی اورمہم جوئی کرنے کے موڈمیں ہے ۔ایک طرف مودی کی ٹیم ہے جو معاملات
ان دنوں ٹی وی اسٹوڈیو کی آرام دہ کرسی میں دھنسے ہوئے(بخشی جیسے)بھارتی ریٹائرڈجنرل سیکورٹی کی صورتحال کا تجزیہ کرنے کے نام پرملک کوجنگ کی بھٹی میں جھونکنے کی کوشش کررہے ہیں،جس میں پاکستان کے خلاف فرضی جنگ سے متعلق جنون کو پروان چڑھانااب لت میں تبدیل کردیاہے،جن کازمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔اس حقیقت سے کوئی انکارنہیں کرسکتاکہ عمران خان نے ابھی نندن کورہاکرکے امن کوایک اورموقع دیاہے اس کے باوجودایسا لگتا ہے کہ مودی کسی نہ کسی سطح پرکوئی اورمہم جوئی کرنے کے موڈمیں ہے ۔ایک طرف مودی کی ٹیم ہے جو معاملات کوکہیں سے کہیں لے جانے کیلئے بے تاب ہے اوردوسری طرف ٹی وی اسٹوڈیومیں بیٹھے ہوئے نام نہاد دفاعی تجزیہ کارہیں جوملک کی سلامتی کولاحق خطرات کوحدسے بڑھا چڑھا کرجنگی جنون کوہوادے رہے ہیں۔ٹی وی اینکربھی جنگی جنون کوہوادے رہے ہیں مگرانہیں جنگ کی ہولناکی کااندازہ نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بھارتی فوج جدید ترین اسلحے سے بہت حد تک محروم ہے۔بروکنگز انڈیانے ایک رپورٹ میں لکھاہے کہ میڈیا پر موجود اسٹریٹجک کمیو نٹی محض جذبات کی رومیں فوج کے حوالے سے کچھ زیادہ ہی بڑھ چڑھ کربول رہی ہے۔ 1960ء کے عشرے میں اس وقت کے امریکی صدرآئزن ہاورنے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیاتھاجب انہوں نے دیکھا کہ قومی سلامتی کے امورکے حوالے سے کچھ زیادہ ہی بڑھ چڑھ کراورخالص غیرحقیقت پسندانہ اندازسے بہت کچھ کہا جارہاہے توایسی باتیں کرنے والوں کے خلاف کارروائی کاانتباہ کیا۔
بروکنگز انڈیانے اپنی رپورٹ میں لکھاہے کہ اِن لوگوں (ٹی وی اینکراوردفاعی امور کے نام نہادتجزیہ کاروں)کوکچھ اندازہ ہی نہیںکہ وہ کس لیڈرکا ساتھ دے رہے ہیں۔معروف برطانوی جریدے دی اکنامسٹ نے مودی کوایک ایسالیڈرقرار دیا ہے جو قیامت سے کھیل رہاہے۔پاکستان کے خلاف فضائی حملے کی صورت میں مودی نے جومہم جوئی کی وہ اس بات کو بھرپور انداز سے واضح کرنے کیلئے کافی ہے۔
1961ء میں آئزن ہاورنے اِس خطرناک حقیقت پرشدیدتشویش کااظہارکیاتھاکہ مذموم مقاصد کے حامل لوگ بہت زیادہ طاقت حاصل کرچکے ہیں۔ انہوں نے اہم ریاستی امور پر اثراندازہونے والوں کو ملک کیلئے سب سے بڑاخطرہ قراردیاتھا۔یہ معاملہ واشنگٹن جیسے دارالحکومت کاتھاجہاں تمام معاملات بہت زیادہ کنٹرول میں رہاکرتے ہیں۔اب ذرا سوچیے کہ نئی دہلی جیسی ڈھیلی ڈھالی جگہ کیامعاملہ ہوگا۔بھارتی پالیسی سازوں کے دل ودماغ اِس وقت ان لوگوں کے کنٹرول میں ہیں ،جوملک کی بنیادی زمینی حقیقتوں کاواقعی ادراک کیے بغیربے سوچے سمجھے بہت کچھ بیان کر رہے ہیں۔ بھارت میں چندبرسوں کے دوران یہ تصور،بظاہر کسی جوازکے بغیر،پیدا ہی نہیں کیا گیابلکہ پروان بھی چڑھایا گیاہے کہ امریکہ کی مددسے بھارت خطے میں بھرپوربالا دستی پاکرسپرپاورکادرجہ اختیارکرلے گا اوریہ سب کچھ اس لیے ضروری ہے کہ امریکی قیادت اب کسی بھی قیمت پرچین کوہرانے کا نہیں بلکہ محض containکر نا چاہتی  ہے،جہاں ہے وہ وہیں رہے،آگے نہ بڑھے۔
آج کی دنیامیں میڈیاوالے وہی کچھ کہتے ہیں جس کیلئے انہیں فنڈنگ کی جاتی ہے۔اگر اسلحہ ساز ادارے  موزوں طریقے سے فنڈنگ کریں توایسا ماحول پیدا کرنے میں بھرپور کامیابی حاصل ہوتی ہے جس میں ہرطرف صرف جنگ اورتباہی کی بات کی جارہی ہو۔ بھارت کامعاملہ بہت عجیب ہے۔حکومتی صفوں سے باہر دفاعی امورسے متعلق خفیہ اسٹیبلشمنٹ تیزی سے تقویت پاتی جارہی ہے۔اس کے نتیجے میں کتنانقصان ہوسکتاہے اس کاکسی کودرست اندازہ نہیں۔جمہوریت اورامن دونوںہی کوداوپرلگادیاگیا ہے۔2016ء میںنیو یارک ٹائمزنے ایک رپورٹ میں بتایاتھا کہ کئی ممالک میں ایسے تھنک ٹینک کام کررہے ہیں جودراصل مغرب کے بڑے اسلحہ سازاداروں کے پروردہ ہیں۔ان تھنک ٹینکس کو بڑے پیمانے پرفنڈملتے ہیں۔اس فنڈنگ کی بنیاد پروہ پورے کے پورے معاشرے کوجنگ پسندی کی طرف دھکیلتے ہیں۔بھارت جیسے معاشروں میں یہ معاملہ اور بھی خطرناک شکل اختیارکرگیاہے جہاں تحقیق کے نام پرمحنت کرنے والے اب ایجنڈوں پرکام کررہے ہیں۔ کل تک جوریسرچ اسکالرتھے وہ اب بہت حدتک لابسٹ کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ نیویارک ٹائمزنے یہ معاملہ واشنگٹن کے حوالے سے بیان کیا تھاجہاں بیشترمعاملات اچھے خاصے کنٹرول میں ہواکرتے ہیں۔ایسے میں سوچاجاسکتا ہے کہ نئی دہلی میں کسی بھی بات کوغلط مقصدکیلئے استعمال کرنا کس حد تک آسان ہوگا۔
بھارت جیسے معاشروں میں حکومت، کارپوریشنز اوردانشوروں پرمشتمل ایک ایسااتحادقائم ہو چکا ہے، جو قومی مفادات کوبھی داوپرلگا رہاہے۔اس حوالے سے آئزن ہاورکابیان کردہ خدشہ بالکل درست ثابت ہو اہے۔ ٹرمپ کے دورمیں یہ سب کچھ مزیدپریشان کن ہے۔ایک ایساماحول پروان چڑھایاگیا ہے جس کے نتیجے میں پورا ملک شدید خوف اورمایوسی کے پنجے میں ہے اورنفرت خوب پروان چڑھ رہی ہے۔1984ء میں امریکہ کے بہترین سفارتکارجارج ایف کینن نے کہا تھا کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ کے مفروضے کواس قوم کے اعصاب اورحواس پرایساسوارکردیاگیاہے کہ اب یہ لت کی حیثیت اختیارکرگیاہے۔
بھارت میںبھی تویہی ہورہاہے۔پاکستان کے  خلاف جنگ کے مفروضے کوایک ایسی لت کی شکل دے دی گئی ہے جس میں پوری قوم مبتلاہے۔مودی کی حالیہ حماقت سے جموں و کشمیر کا مسئلہ ایک مرتبہ پھربین الاقوامی فورمزپرسرفہرست آگیاہے لیکن بھارتی پالیسی ساز کشمیریوں  کے حقیقی مسائل دانش مندی سے حل کرنے کے بجائے طاقت کے ذریعے انہیں کچلنے کی راہ پرگامزن ہیں۔اجے شکل مین اسٹریم میڈیا کے ان چند مصنفین میں سے ہیں جنہوں نے پہلے پہل اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ ’’بھارتیہ جنتاپارٹی نے ملک میں بڑے پیمانے  پرمسلم مخالف ایجنڈابروئے کارلاتے ہوئے انہیں غیر محب وطن قرار دینے پرکمرکس لی ہے۔مشکل یہ ہے کہ جب کشمیری اپنے حقوق کیلئے احتجاج کرتے ہیں تو انہیں ملک دشمن قراردے دیاجاتاہے،غدارٹھہرایاجاتاہے۔ان کے مسائل حل کرنے کی بجائے انہیں مزید الجھایا جاتا ہے۔ اس مجرمانہ سیاست میں میڈیا بھی برابرکامجرم ہے۔ بھارت کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے گزشتہ ماہ پاکستان سے منہ کی کھائی ہے۔ ایسے میں آئزن ہاور کے اس مشورے پرعمل کیاجائے کہاختلافات کو اسلحے سے نہیں بلکہ ذہانت اورشائستگی سے دورکیا جانا چاہیے۔ کشمیر کے معاملے میں بھارت کو انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ اسی صورت دونوں ممالک میں سول سوسائٹی کی بقاکی راہ ہموار ہو گی۔‘

 

تازہ ترین خبریں