05:48 am
  سری لنکا میں دہشت گردی اور بھارتی سازشیں

سری لنکا میں دہشت گردی اور بھارتی سازشیں

05:48 am

مذہبی اقلیتوں کے اجتماعات کو ہدف بنانے کی حکمت عملی سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے حملوں  میں ایک واضح قدر ِ مشترک کے طور پر  اُبھر کے سامنے آئی ہے۔  دوسری قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں ممالک  چھوٹے اور پرُامن ہیں ۔  نیوزی لینڈ نے  ہمیشہ خود کو پر تشدد معاملات سے دور رکھا البتہ سری لنکا کے وجود پر ماضی کی  دہشت گردی کے  زخم مندمل تو ہو چکے ہیں لیکن اُن کے نشان ابھی بھی باقی ہیں۔  تامل
  مذہبی اقلیتوں کے اجتماعات کو ہدف بنانے کی حکمت عملی سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے حملوں  میں ایک واضح قدر ِ مشترک کے طور پر  اُبھر کے سامنے آئی ہے۔  دوسری قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں ممالک  چھوٹے اور پرُامن ہیں ۔  نیوزی لینڈ نے  ہمیشہ خود کو پر تشدد معاملات سے دور رکھا البتہ سری لنکا کے وجود پر ماضی کی  دہشت گردی کے  زخم مندمل تو ہو چکے ہیں لیکن اُن کے نشان ابھی بھی باقی ہیں۔  تامل  ٹا ئیگرز  کی دہشت گرد  تحریک کے خلاف فتح کے اعلان کے دس برس بعد مسیحی برادری پر  حالیہ حملوں کے ہونے تک سری لنکا مجموعی طور پر پرامن تھا ۔ کرائسٹ چرچ حملوں میں مسلم برادری کو ہدف بنانے کے وحشیانہ عمل میں بظاہر تو چند افراد ملوث دکھائی دیئے لیکن یہ سانحہ مغرب میں عشروں سے جاری مسلم دشمن رویئے کا نتیجہ تھا ۔
 داعش کی جانب سے  ان حملوں کا بدلہ لینے کے دعوے  سامنے آنے کے بعد یہ امکان موجود تھا کہ حملے  جن ملکوں میں کئے جائیں گے وہ کسی نہ کسی اعتبار سے  عالمی طاقتوں کی رسہ کشی میں خاص اہمیت کے حامل ہو ں گے ۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو  نقشہ اُٹھا کے مشرق وسطیٰ ، افغانستان اور پاکستان میں گذشتہ پندرہ برسوں کے دوران ہونے والے دہشت گرد حملوں کا ہدف بننے والے علاقوں پر نشان لگا لیں ۔ پھر ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیموں اور ترجمانوں کی فہرست بنا لیں ۔ ایک بات واضح ہو جائے گی کہ ان تمام علاقوں اور اُن کے  ارد گرد امریکہ بہادر کے مفادات وابستہ دکھائی دیں گے ۔ ان حملوں کی ذمہ داری لینے والے نامعلوم افراد جن تنظیموں سے اپنی وابستگی کا اعلان کرتے ہیں امریکہ بہادر جلد یا بدیر ان تنظیموں کو عالمی فورمز پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے دہشت گرد قرار دلوانے کے بعد ساری دنیا میں اُن کو ہوا بنا کے پیش کرتا ہے ۔
کچھ ہی عرصے بعد امریکہ یا اُس کے اتحادی انہی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف نورا کشتی شروع کردیتے ہیں ۔ میچ فکسنگ کی طرح یہ جنگ بھی فکسڈ یا پہلے سے طے شدہ ہوتی ہے۔ ہمارے مغرب زدہ طبقے خصوصاً لبرل ٹوڈی صحافیوں کو یہ بات آسانی سے ہضم نہیں ہو گی لہٰذا بات آگے بڑھانے سے پہلے داعش کے معنی خیز پھیلائو کے متعلق تین اہم بیانات اپنی یاد داشت میں ٹٹولنے کی کوشش کیجیے ۔ پہلا بیان قریباً پانچ برس پہلے اقوام متحدہ کے سابق سربراہ کوفی عنان کی جانب سے سامنے آیا تھا جب ایک بین الاقوامی فورم پر موصوف نے اعتراف کیا تھا کہ اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے عراقی افواج کی بربادی کے نتیجے میں داعش نے جنم لیا ۔ اسی بحر میں دوسری غزل سابق امریکی صدر باراک اوبامہ نے اپنے آخری ایام صدرات میں مرکزی ریاستی خطاب کے دوران پیش کی تھی ۔ صدر موصوف نے برملا اعتراف کیا تھا کہ  مشرق وسطیٰ میں داعش کی پیدائش اور دہشت گردی کا پھیلائو امریکی غلط کاریوں کے نتیجے میں ہوا ہے لہٰذا ریاست ِ امریکہ افغانستان میں ایسی غلطیاں نہیں دھرائے گی ۔ افغانستان میں کیا ہو رہا ہے یہ ہم امریکہ کے مرغِ دست آموز  سابق صدر حامد کرزئی کی زبانی کئی مرتبہ سُن چکے ہیں۔ حامد کرزئی نے ببانگ دہل یہ انکشاف ایک سے زائد مرتبہ کیا کہ امریکہ داعش کے اڈوں پر ہتھیار اور دیگر اسباب مسلسل فراہم کرتا ہے ۔
اصل بات کی جانب لوٹتے ہیں ۔ موجودہ حالات میں سری لنکا کا جرم بھی وہی ہے جو پاکستان کا ہے۔ سری لنکا خطے میں چین کی جانب واضح جھکائو رکھتا ہے ۔ یہ بات امریکہ بہادر اور اُس کی ڈگڈ گی پر ناچنے والے بندر بھارت کو پسند نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اب دہشت گردی کے عفریت نے سری لنکا کا رُخ کر لیا ہے ۔ مسیحی برادری کو ہدف بنا نے کے لیے مشکوک مسلم تنظیم کا نام استعمال کر کے عالمی سطح پر پہلے سے بنی فضا کو بھی استعمال کرنے کی کوشش کی گئی اور تامل باغیوں سے ٹانکا جوڑ کے سری لنکا میں تامل سنہالی تنازعے کی راکھ تلے دبی چنگاریوں کو بھی ہوا دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ بھیانک کھیل چونکہ اجیت دوول جیسے چانکیائی سوچ رکھنے والے ہندستانی جعلی جیمز بانڈکے ہاتھوں رچایا جا رہا ہے لہٰذا ایک جانب  پاکستان پر بھارتی میڈیا کی جانب سے حملوں کا جھوٹا الزام دھر کے سری لنکا کے ساتھ دوستانہ تعلقات خراب کرنے کی بھونڈی کوشش بھی کی گئی اور ساتھ ہی را کی جانب سے حملوں سے کچھ دیر پہلے  پیشگی اطلاع فراہم کر کے سری لنکا کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش بھی کی گئی ۔ حسب سابق بھارتی فریب کاری کی ہانڈی ایک مرتبہ  پھر بیچ چوراہے میں پھوٹ گئی ۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق حملوں  کے ماسٹر مائنڈ ہاشم زہران کا بھارتی ریاست تامل ناڈو  آنا جانا لگا رہتا تھا۔ بھارتی جیمز بانڈوں  کے پاس سری لنکا کی جانب سے اٹھائے گئے  اس سوال کا کوئی جواب نہیں کہ تین ماہ قبل جب ہاشم زہران نے تامل ناڈو کا پھیرا لگایا توتمام دستیاب اطلاعات کے باوجود را نے  نہ تو  اسے گرفتار  کیا  اور نہ ہی اس کی اطلاع سری لنکن ایجنسیوں کو دی؟ بات واضح ہو گئی کہ بھارت کی سرزمین سری لنکا میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہوئی ۔
دہشت گردوں کو تربیت ، مالی امداد اور پناہ سمیت تمام سہولت کاری بھارت سرکار کے جعلی جیمز بانڈ نے تامل ناڈو میں فراہم کی ۔ پاکستان پر تھوکا بھارت کے اپنے منہ پر آن گرا ہے ۔ سری لنکن صدر نے با ضابطہ طور پر اعلان کیا کہ پاکستان  جیسے قابل اعتماد دوست کا  ان دہشت گرد حملوں سے کوئی تعلق نہیں ۔ ضرورت پڑنے پر سر ی لنکا تفتیش و تحقیقات میں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں سے حسب سابق باقاعدہ تعاون بھی لے گا ۔ شائد بہت سے قارئین اس امر سے واقف نہ ہوں کہ سری لنکا میں چھبیس برس جاری رہنے والی دہشت گردی کی سر پرستی بھارت نے کی تھی ۔

 

تازہ ترین خبریں