05:49 am
غور فرمائیے !سارے ثبوت حاضر ہیں

غور فرمائیے !سارے ثبوت حاضر ہیں

05:49 am

بلاول کو وزیراعظم نے ’’صاحبہ‘‘ کہا تو پیپلزپارٹی میں زلزلہ بپا ہوگیا‘ لیکن شہلا رضا نے  فاتح عرب و عجم‘ کاتب وحی حضرت سیدنا امیر معاویہؓ کے حوالے سے نازیبا جملے کہہ کر پوری امت مسلمہ کے دلوں  پر وار کیا...مگر آصف علی زرداری ہوں یا بلاول زرداری کسی کے کانوں پر جوں بھی نہ رینگی‘ اس گستاخی کے خلاف میں کروڑوں مسلمانوں میں ردعمل پیدا ہوا تو خوف کی
بلاول کو وزیراعظم نے ’’صاحبہ‘‘ کہا تو پیپلزپارٹی میں زلزلہ بپا ہوگیا‘ لیکن شہلا رضا نے  فاتح عرب و عجم‘ کاتب وحی حضرت سیدنا امیر معاویہؓ کے حوالے سے نازیبا جملے کہہ کر پوری امت مسلمہ کے دلوں  پر وار کیا...مگر آصف علی زرداری ہوں یا بلاول زرداری کسی کے کانوں پر جوں بھی نہ رینگی‘ اس گستاخی کے خلاف میں کروڑوں مسلمانوں میں ردعمل پیدا ہوا تو خوف کی وجہ سے شہلا رضا کو سوشل میڈیا پر معذرت کا وڈیو کلپ جاری کرنا پڑا۔ کالعدم‘ کالعدم کا ڈھول پیٹ کر غیر ملکی آقائوں کو خوش کرنے کی کوششیں کرنے والے بلاول‘ ذرا اس بات کا جواب بھی دیں کہ جس پارٹی میں شہلا رضا جیسی فرقہ پرور شدت پسند عورت شامل ہو اور ایک عظیم صحابی رسولﷺ کے حوالے سے اس کی نازیبا گفتگو کا پارٹی نوٹس لینے کے لئے بھی تیار نہ ہو تو اس پارٹی کو ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کیسے تسلیم کرلیا جائے؟ افسوس کہ ختم نبوتؐ کا مسئلہ حل کرکے مفکرین ختم نبوت کو کافر قرار دلوانے والے ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی پر شہلا رضا کی وجہ سے آج فرقہ پرستی کا الزام لگ رہا ہے...مگر بلاول اس قدر مجبور اور بے بس لیڈر ہیں کہ وہ شہلا رضا سے باز پرس بھی نہیں کر سکتے۔
میرا یہاں پر اعلیٰ عدلیہ‘ ریاستی اداروں اور پیغام پاکستان کے صاحبان عقل و دانش سے بھی سوال ہے کہ شہلا رضا کے ’’معافی‘‘ والے وڈیو کلپ سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے واقعی جرم کیا تھا۔ اتنے بڑے جرم پر یہ سارے چپ کیوں رہے؟ انہوں نے نازیبا جملوں کی مذمت کیوں نہ کی؟نیشنل ایکشن پلان حرکت میں کیوں نہ آیا؟ کیا پیغام پاکستان فقط کھانے‘ پینے اور 7سٹار ہوٹلوں میں گلچھرے اڑانے تک ہی محدود ہے؟ اگر گستاخانہ جملوں پر شہلا رضا سے معافی عام مسلمانوں  نے گالم گلوچ کے ردعمل سے ہی منگوانی ہے تو پھر تمہاری  ضرورت کیا باقی رہ جاتی ہے؟ تم قومی خزانے پر کیوں بوجھ بنے بیٹھے ہو؟ ہم جو کبھی سلمان تاثیر‘ کبھی مشعال اور کبھی بہاولپور کے پروفیسر کے قتل پر موم بتیاں جلا کر مذہب پسندوں کا ماتم کرتے ہیں۔ عدلیہ اور حکومت کی اس خاموشی سے فائدہ اٹھا کرجب کوئی ممتاز قادریؒ ردعمل کا اظہار کرتا ہے تو پھر ہم شدت پسندی اور اسلام پسندوں کے خلاف چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں‘ ہم سب پیغام پاکستان بیانیے کے ساتھ ہیں۔
لیکن پیغام پاکستان اگر چند غامدیت زدہ ’’دانشوروں‘‘ اور مولویوں کی روٹیوں اور گلچھروں کا نام نہیں ہے تو پھر جب شہلا رضا کے نازیبا جملوں کی وجہ سے سوشل میڈیا پر کہرام مچا ہوا تھا اور پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں میں شدید بے چینی پائی جارہی تھی...اس نازک موقع پر پیغام  پاکستان کے متفقہ بیانیئے کو تار‘ تار کرنے کی کوشش کرنے والی شہلا رضا کے خلاف اکابرین پیغام پاکستان حرکت میں کیوں نہ آئے انہوں نے حکومت اور ریاست کی توجہ اس سنگین معاملے کی طرف کیوں نہ دلوائی؟
یہ وہ  سوالات ہیں کہ جنہیں جب انسان سوچتا ہے تو ذہن چٹخنا شروع ہو جاتا ہے‘ ایک طرف بلاول کی شان اتنی اونچی ہے کہ انہیں اگر ’’صاحبہ‘‘ کہہ دیا جائے تو خود ساختہ بھونچال پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور دوسری طرف امیرالمومنین سیدنا امیر معاویہؓ کی مظلومیت کا یہ عالم ہے کہ جو ایرا‘ غیرا چاہے ان کے حوالے سے رکیک جملے بازی کر ڈالے‘ لیکن نہ  پاکستان‘ نہ عدلیہ‘ نہ حکومت اور نہ ہی موم بتی مافیا اس کا نوٹس لے تو کیوں؟
حالانکہ ’’صاحب‘‘ ہو یا ’’صاحبہ‘‘ دونوں عزت والی  اصطلاحات ہیں...بلاول چونکہ آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ ہیں اس لئے وہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’وزیراعظم نے عورت کو گالی بنا دیا‘‘ خود جو انہوں نے ایمپائر کی انگلی کی پسندیدگی کی بات کی وہ آکسفورڈ کے تعلیمی نصاب کے عین مطابق ہوگا؟
کسی مرد کو ’’صاحبہ‘‘ کہنے سے نہ تو مرد گالی بنتا ہے اور نہ ہی عورت کو ’’صاحب‘‘ قرار دینے سے عورت گالی بنتی ہے‘ ہاں البتہ جان بوجھ کر ایسا کرنے والوں کے اخلاقی دیوالیہ کے ثبوت ضرور مل جاتے ہیں‘ پاکستان کے عوام کو نوٹ کرنا چاہیے کہ یہ جو حکومتوں میں آنے کے شوقین ہیں اور جو حکومت میں ہیں ’’ یہ کردار و گفتار‘‘ کی کس بلندی پر فائز ہیں؟ بلاول کو صاحبہ کہہ دیا جائے تو چیخیں نکلنا شروع ہو جائیں‘ عمران‘ نواز شریف کو کچھ کہہ دیا جائے تو سب سے  سپریم اسمبلی کے اراکین مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں...لیکن ناموس رسالتؐ ‘ یا ناموس صحابہؓ کا معاملہ آجائے تو پھر ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے والے متحد ہو کر تحمل اور برداشت کے راگ الاپنا شروع  کر دیتے ہیں اور الیکٹرانک میڈیا غلاموں کی طرح انہی کی ہاں میں ہاں ملا کرمعاملات کو مزید خراب کر دیتا ہے۔
یہ ساری تکلیف دہ صورتحال اس بات کو واضح کر رہی ہے کہ پاکستان کو ایسے قائدین اور لیڈران کی سخت ترین ضرورت ہے کہ جن کے کردار و افعال و گفتار اسلامی احکامات کے تابع ہوں...قرآن کا حکم ہے کہ کسی دوسرے کو غلط القاب سے مت پکارو‘ کسی کا نام مت بگاڑو‘ لیکن جس ملک کے حکمران‘ دانشور اور سیاستدان اپنے مخالفین کے ناموں کو بگاڑنا بہادری کی علامت سمجھتے ہیں۔ کیا وہ ملک کبھی ترقی کر سکے گا؟
 یہ خاکسار اپنے کالموں میں اکثر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے میں دوسروں سے زیادہ حکمران اور سیاست دان خود شامل ہیں‘ شہلا رضا اس کا ادنیٰ سا ثبوت ہے‘بقول بلاول کالعدم تنظیموں کے پیچھے تو اسٹیبلشمنٹ ہے۔ لیکن شہلا رضا کے پیچھے کون ہے؟ اگر کالعدم تنظیموں کے ساتھ رابطے رکھنے پر وزیروں سے استعفیٰ مانگا جاسکتا ہے تو مقدس ترین شخصیت کی توہین کرنے والی سے استعفیٰ مانگنا کس کا کام ہے؟

 

تازہ ترین خبریں