05:50 am
پاک افغانستان دوستی

پاک افغانستان دوستی

05:50 am

افغانستان حکومت کا اصرار ہے کہ کابل کی دہلی کے ساتھ  تجارت کے لئے واہگہ اٹاری سرحد کھول دی جائے ۔اسی صورت میں  پاکستان کو تاجکستان تک راہداری فراہم کی جائے گی۔اس کے لئے عالمی بینک اور آئی ایم ایف بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔مگر بھارت کی پاکستان دشمنی کی وجہ سے ایسا فی الحال ناممکن ہے۔ اس وجہ سے پاکستان کو درہ خیبر
افغانستان حکومت کا اصرار ہے کہ کابل کی دہلی کے ساتھ  تجارت کے لئے واہگہ اٹاری سرحد کھول دی جائے ۔اسی صورت میں  پاکستان کو تاجکستان تک راہداری فراہم کی جائے گی۔اس کے لئے عالمی بینک اور آئی ایم ایف بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔مگر بھارت کی پاکستان دشمنی کی وجہ سے ایسا فی الحال ناممکن ہے۔ اس وجہ سے پاکستان کو درہ خیبر اقتصادی راہداری کے لئے 50کروڑ ڈالرز کا منصوبہ ختم کرنا پڑا۔تا ہم عالمی بینک نے پاکستان میں 2019ء کے لئے رعایتی شرائط پر ایک ارب 60کروڑ ڈالر کے منصوبے کی تیاری کا اعتراف کیا ہے۔ افغانستان میں بیرونی مداخلت کی وجہ سے پاکستان کی وسط ایشیائی ممالک تک تجارتی راہداری کی منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہے۔ جو قومیں اپنے فیصلے خود نہیں کرتیں ان کے فیصلے ان کے مفاد کے برخلاف ہوتے ہیں۔جیسے امریکہ ، چین اور روس اب افغانوں کے مستقبل کے فیصلے ماسکو میں بیٹھ کر صاد فرما رہے ہیں۔ دوحہ قطر میں طالبان کے 10رکنی وفد کے ساتھ افغان حکومت کا 50خواتین سمیت 350رکنی وفد مذاکرات کرنا چاہتا تھا۔ جس سے طالبان نے انکار کیا۔  پاکستان کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان اور افغانستان مضبوط دینی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہیں۔
دینی رشتہ اتحاد و اتفاق کا بڑا ذریعہ ہے۔ پاک افغان سرحد کی دونوں جانب پختون قوم آباد ہے۔ اس قوم پر ہمیں اس لئے بھی فخر ہے کہ اس میں باہمی تعاو ن اور مروت کا سمندر موجزن رہتا ہے۔ پشتو یا پختو کے چکر سے بے نیاز ہو کر بات کی جائے تو یہ پٹھان قوم کا طرئہ امتیاز ہے کہ اس کا ایک فرد کسی جگہ روزگار یا کاروبار کے لئے قدم رکھے تو وہ اپنے ساتھ مزید کئی احباب کو جمع کر لیتا ہے۔ کسی جگی پٹھان بھائی نے ایک سٹور کھولا  تو دیکھتے ہی دیکھتے وہاں خان مارکیٹ بن جاتی ہے۔راولپنڈی یا لاہور ہی نہیں مظفر آباد میں بھی یہ منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ بڑی خوبی ہے۔ جسے بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔ ورنہ ایسی بھی قومیں ہیں کہ وہ دوسرے کی جڑیں کاٹنے میں مصروف رہتی ہیں اور اپنا وقت ضائع کر دیتی ہیں۔  
ایک برادر ی کے فرد نے مثال کے طور پر کہیں کوئی کاروبار شروع کیا تو وہ اپنے ساتھ کسی رشتہ دار کو بھی شامل کرتا ہے۔کوئی کسی  کا رزق ہضم نہیں کر سکتا۔ دوسرے کے منہ سے نوالہ چھین لینے کی سوچ زمانہ جاہلیت کی یاد دلاتی ہے۔ افغان قوم اپنانوالہ بھی دوسرے کو پیش کرنے سے گریز نہیں کرتی۔ افغانستان میں شمالی اور جنوبی اتحاد کی تفریق اس قوم کی تقسیم کی کوشش تھی۔ جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے۔  اس دنیا میںتنہا ترقی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ اس کے لئے اجتماعی کاوش ناگزیر  ہے۔ افغانستان ان ممالک کو پاکستان پر کیسے ترجیح دے سکتا ہے جو اس کی سرحد سے ہزاروں میل دور ہیں۔
طالبان کا معاملہ پیچیدہ ہے۔ اس میں اب دو سے زیادہ نظریات در آئے  ہیں۔ پاکستان کا ایک مکتبہ فکر پاکستانی اور افغان طالبان میں فرق بیان کرتا ہے۔ دوسرا اس کے برعکس موقف رکھتا ہے۔ لیکن اس پر سب کا اتفاق رہا ہے کہ پاکستان میں تشدد کی حمایت اسلام دشمنی ہے۔ اسے جہاد نہیں کہا سکتا ہے۔ افغانستان میں بھی عوامی مقامات پر دھماکے جہاد کے زمرے میں نہیں آ سکتے۔ البتہ غیر ملکی قابض فوج کے خلاف جدوجہد کو اکثر لوگ جائز قرار دے چکے ہیں۔ صرف مغربی این جی اوز کے پروردہ ہی اس سے انکاری ہیں۔ افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا حملہ دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی تھی۔ یہی دہشت گردی عراق میں بھی کی گئی۔ بیرونی  جارحیت اور فوجی قبضہ عراق پر ہو یا ایران پر ، یا کشمیر ، فلسطین میں،یہ ریاستی  دہشت گردی ہے۔ اس کی مذمت اور اس قبضے کے خاتمے کی جدوجہد جائز ہوگی ۔ یہی آزادی کی جدو جہد  ہے۔ جس کا اظہارکشمیری اور فلسطینی  بھی کر رہے ہیں۔ یہ نفرت کا اظہار اور آزادی کا جذبہ ہے۔ جو افغانوں کی رگ و پے میں سرایت کر گیا ہے۔امریکہ اب چاہتا ہے کہ طالبان کو بھی سٹیک ہولڈرز تسلیم کر لے۔ طالبان کو القاعدہ اور داعش کے سامنے لا کھڑا کر دے۔
 اس وقت امریکہ اور افغان حکومت طالبان سے بات چیت کر رہی ہے۔ قطر میں طالبان کا سفارتی دفتر قائم ہو چکاہے۔ امریکہ کا طالبان کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہونا حکمت عملی ہی ہے۔ ظاہرہے  وہ پاکستان کو امن عمل سے باہر دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان نے کبھی طالبان قیدیوں کو رہا کر کے خیر سگالی کا پیغام دیا۔  امریکہ کو یہ پیغام نہیں پہنچ سکا  کہ پاکستان کے تعاون  کے بغیر یا اسلام آباد کو نظر انداز کر کے خطے میں کوئی بھی مفاہمتی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی ہے۔ زلمے خلیل زاد کا دورہ پاکستان بھی اسی کی کڑی ہے۔ امریکہ شکست کھا کر افغانستان سے فرار ہو رہا ہے۔ محفوظ راہداری کے لئے بات چیت کر رہا ہے۔ مگر افغانستان میں بھارت کا اثر ورسوخ بڑھانے کا مطلب افغانوں سے امریکی انتقام کی سازش کی حکمت عملی ہے۔
امریکہ افغانستان میں بھارت کو بالا دستی دے کر پاکستان کی قربانیوں کا مذاق اڑا نا چاہتا ہے۔ افغان سرحد سے پاکستانی حدود میں فائرنگ اور سرحدی خلاف ورزیاں اسی حکمت عملی کا حصہ رہی ہیں۔اس  اشتعال انگیزی  کے باوجود پاکستان سنجیدہ ہے۔  پاکستان نے پہلے بھی افغان امن کونسل کی در خواست پر طالبان رہنمائوں کو رہا کیا تھا۔ تا کہ وہ مذاکرات کے عمل میں شامل ہو سکیں۔خطے سے سب  بیرونی قابضین چلے جائیں گے۔ یہاں کے مسائل پاکستان اور افغانستان کو مل کر ہی حل کرنا ہوں گے۔ اگر افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی تو یہ دو طرفہ تعلقات میں دراڑ ثابت ہو گی۔  بیرونی طاقتیں یہی  چاہتی بھی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پابندیوں کے بجائے تعاون اور وفود کے تبادلوں اور تجارت میں فروغ کی ضرورت ہے۔دونوں ممالک میں کشیدگی کے بجائے فراخدلانہ بات چیت کی ضرورت ہے۔
سرحدوں پر عوام کے آنے جانے یا اخبارات پر پابندی کے بجائے اسلحہ اور منشیات کی ترسیل پر پابندی امن و دوستی کے لئے مفید ہو سکتی ہے۔افغانستان میں امن، ترقی اور خوشحالی سب سے زیادہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔عمران خان حکومت بھی افغانستان کی ترقی چاہتی ہے۔ افغانستان بھی امریکی یا بھارتی بالادستی کو ایک طرف رکھ کر  پاکستان کی مثبت کوششوں کا جواب مثبت انداز میں دے۔بیرونی مفادات کے برخلاف دونوں ممالک ایک دوسرے کے لئے ٹرانزٹ کیمپ بن سکتے ہیں۔

 

تازہ ترین خبریں