05:51 am
عمران خان کس کے نقشِ قدم پر چلیں؟

عمران خان کس کے نقشِ قدم پر چلیں؟

05:51 am

گزشتہ برس  ہونے والے عام انتخابات میں عمران خان کے خواب تعبیر سے ہمکنار ہوئے اور اب وہ حکومت چلا رہے ہیں۔ عمران خان سے لوگوں کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ اُنہوں نے گزشتہ 22 برسوں میں بے شمار ایسے دعوے کئے ہیں جنہیں نصرتِ الٰہی کے بغیر پورا نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا نصرت الٰہی کے حصول کے لئے اُنہیں 14 صدیاں پیچھے جانا پڑے گا
گزشتہ برس  ہونے والے عام انتخابات میں عمران خان کے خواب تعبیر سے ہمکنار ہوئے اور اب وہ حکومت چلا رہے ہیں۔ عمران خان سے لوگوں کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ اُنہوں نے گزشتہ 22 برسوں میں بے شمار ایسے دعوے کئے ہیں جنہیں نصرتِ الٰہی کے بغیر پورا نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا نصرت الٰہی کے حصول کے لئے اُنہیں 14 صدیاں پیچھے جانا پڑے گا اور حضرت رسول اکرمؐ کے قدموں میں بیٹھے ہوئے آپ کے عظیم الشان صحابہؓ کی تقلید کرنا ہو گی۔ صحابہؓ میں سے سبھی کو عنانِ اقتدار تو نہیں ملی مگر جن کو عنانِ اقتدار ملی وہ دنیا کے عظیم حکمرانوں اور عادل حکمرانوں میں شمار کئے جانے لگے۔ اُنہی عدل کے شہزادوں میں سے ایک عادل شہزادے کا نام حضرت عمر فاروقؓ بھی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اُن کے نقش پا پر عمل کرتے ہوئے عمران خان، نصرت الٰہی کے فیض سے فیض پا سکتے ہیں۔
سیدنافاروق اعظم ؓوہ ہستی ہیں جن کے دور خلافت میں اسلام ایک جیتے جاگتے نظام حیات کی شکل میں سامنے آیا۔ کائنات میں کتنے ہی عمر ہوئے ہیں مگر جب بھی کوئی شخص یہ کہے کہ ’’عمر نے کہا‘‘تو ہر سننے والا فوراً سمجھ جاتا ہے کہ یہ حضرت عمرؓ بن خطاب کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے۔ کسی دوسرے کی جانب خیال جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتااور یہ بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی شخص سیدنا عمرفاروقؓ کو تو جانتا ہو مگر ان کے دور خلافت سے آگاہ نہ ہو۔ انسانی تاریخ کی طویل گزر گاہوں میں حکمرانوں اور جہان بانوں کی لمبی فہرست میں سیدنا عمر فاروقؓ کے بعد کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا جو ان کے برابر یا ان کے قریب ترین مقام کو پہنچتاہو۔سیدنا ابو بکر صدیقؓ کی وفات کے بعد، مسلمانوں کے متفقہ طور پر سیدنا عمر فاروقؓ کے ہاتھ پر بیعت خلافت کرنے کے بعد سیدنا عمر فاروقؓ مسند آرا خلافت ہوئے۔
خلافت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پہلے ہی دن آپ نے لوگوں کے سامنے اس بات کی وضاحت کردی تھی کہ لوگوں سے حکومت کس طرح معاملہ کرے گی؟ آپ نے کہا: ’’لوگو! اب ہم تمہارے ساتھ جو بھی معاملہ کریں گے وہ تمہارے ظاہری حالات اور اعمال کے مطابق ہوگا۔ ظاہراًجس نے خیر و بھلائی کا رویہ اپنا یا ہماری طرف سے اسے امن و امان کی ضمانت ہے۔ باطنی حالت اور چھپے ہوئے راز کی ٹوہ ہم نہیں لگائیں گے۔ یہ معاملہ  اللہ اور بندے کے درمیان ہے اور اللہ باطن کے مطابق اور نیتوں کے لحاظ سے بندوں سے حساب لے لے گا۔ اسی طرح جس شخص سے شر اور فساد ظاہر ہو ہم اس کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔ اگر وہ کہتا بھی رہے کہ دل اور نیت سے اس کا ارادہ فتنہ و فتور کا نہ تھا تو ہم اس کے ظاہری عمل کے مقابلے پر اس کے اس دعوے کو قبول نہ کریں گے۔ ‘‘
آپ کے عہد خلافت میں ہونے والی فتوحات کا حال بہت طویل ہے۔ حضرت عمرؓ کے وصال کے وقت اسلامی مملکت کارقبہ 25 لاکھ مربع میل تھا۔ اس رقبہ میں تقریباً13لاکھ مربع میل خود سیدنا فاروق اعظم ؓکے حس تدبر کی بدولت اسلامی قلمرو میں شامل ہوا۔ سیدنا عمرؓ کی عدیم النظیر حکمت عملی اور خوبی مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے دور حکومت میں اسلامی فوجیں روزانہ تین سو مربع میل رقبہ اسلامی حکومت میں شامل کرتی تھیں۔سید نا عمر فاروقؓ نے اپنے دور خلافت میں اتنے بڑے بڑے کارہائے نمایاں سر انجام دیئے ہیں کہ انسان اپنی تمام تر شعوری کوششوں کے باوجود یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ آپ کے کس کارنامے کو سب سے بڑااور اصل کارنامہ سمجھے۔ ہم سید نا عمر فاروقؓ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ سمجھتے ہیں کہ، آپ نے دینی شورائی بنیادوں پر ایسا آئین حکومت وضع کیا اور عادلانہ نظام قائم کیا جو مسلمانوں کی جملہ سعادتوں اور ترقیوں کے ساتھ ساتھ انسانوں کے بنیادی حقوق، بلا تفریق مذہب اور رنگ و نسل کا ضامن تھا۔
حضرت عمرؓ مومن مخلص کی قوت، بہادر و جانباز مجاہد فی سبیل ا للہ کی اول العزمی، جہاندیدہ بزرگ کی تجربہ کاری، فطری قابلیت رکھنے والے ہوشیار شخص کی زیرکی وفطانت کے ساتھ تخت خلافت پر متمکن ہوئے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں کو زیر نگیں کر لیا۔عمر فاروقؓ نے قیصر و کسریٰ کو اپنے جوتے کی نوک پر ایسے اڑادیا تھا جیسے چٹیل میدان میں فٹ بال کھیلا جاتا ہے ۔انہوں نے اپنی انفرادی صلاحیتوں سے عرب کی اس وادی غیر ذی زرع کے اندر رہ کر وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جو بڑی بڑی حکومتوں اور مجلسوں کے لیے بھی انتہائی دشوارتھے۔ گورنروں کا تقرر، ججوں کا انتخاب، فوجی افسروں کا چنائو، لشکروں کی تربیت و تنظیم، فوجی نقل و حرکت کے احکام، کمک بھیجنا، نقشے بنانا، شہروں کی حدیں کھینچنا، قانون سازی، تقسیم مال غنیمت، حدود و تعزیرات کا اجرا وغیرہ، الغرض یہ تمام خدمات آپ اپنی صوابدید، اصابت رائے، تیزی ذہن، دوربینی و عزیمت سے انجام دیتے رہے۔ ان جلیل القدر خدمات کے ساتھ آپ خاک نشین تھے۔ عوام کے ساتھ مل جل کر رہتے، یہی وجہ ہے کہ آپ کی خلافت کا زمانہ آج تک عدل و امن اور انتظام کے لحاظ سے دنیا کا اعلیٰ ترین مثالی دو رمانا گیاہے۔رعایا کو ایک ایسی شریفانہ، پرامن، مطمئن اور بامقصد زندگی گزارنے کا موقع ملا جس کی ماضی و حال میں مثال ڈھونڈنا، جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اپنی جوابدہی اور محاسبہ نفس کا جو احساس ان میں تھا کسی دوسرے حکمران میں نظر نہیں آتا ان کے عہد میں زمین اللہ کے نور سے معمور ہوگئی۔
فاروق اعظمؓ کا ساڑھے دس سالہ دور خلافت اگرچہ دنیا کی ہزار ہا سالہ تاریخ میں بظاہر ایک بہت ہی مختصر سا وقفہ ہے۔ لیکن اس تاریخ میں کشور کشائی، سیاست، حکومت، جمہوریت، اخوت، مساوات، آزادی،  عدل اور فلاح ِ انسانی کا یہ درخشاں ترین باب ہے۔ قوموں اورملکوں کے لیے روشنی کا منبع اور ایک بہترین آئیڈیل ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے والے اسے ناقابل یقین حد تک حیرت انگیز خیال کرتے ہیں۔ نیکی و سعادت، حرکت وعمل سے مزین یہ ایک ایسا سنہری دور تھا جس کا سوفیصد اعادہ خود اسلام کی تاریخ میں بھی نہ ہو سکا۔ اصل میں بات یہ ہے کہ جس طرح حضرت محمد ﷺکی بعثت دعائے خلیل اورنوید مسیحا کا نتیجہ تھی، اسی طرح عمربن الخطاب کا فاروق اعظمؓ بن کر تاریخ کے سٹیج پرنمودار ہونا دعا و نگاہِ محمدی ﷺ کا فیضان تھا۔
فاروق اعظمؓ کی حکومت مسلمانوں کی حکمرانی کی وہ بہترین تصویر ہے جو تاریخ نے اپنے صفحات میں محفوظ رکھی ہے۔ یہ ایک نمونہ ہے، مثال ہے، آئیڈیل ہے ہر مسلمان معاشرے کے لیے۔ اس آئیڈیل کی طرف سفر کا آغاز کئے بغیر اسلامی نظام کے دعوے خواہ کس قدر دلفریب ہوں، در حقیقت کھوکھلے ہیں۔اِس لئے اُن کے نقشِ پا پر چلنا نومنتخب حکومت کے لئے انتہائی ناگزیر ہو جائے گا۔ عمران خان نے بڑے بڑے دعوے کر رکھے ہیں۔ اُن کے دعوے تبھی حقیقت میں بدل سکتے ہیں جب وہ سیدنا عمر فاروقؓ کی بصیرت سے استفادہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ عمران خان کو سیرت نبویؐ اور سیرت صحابہؓ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

 

تازہ ترین خبریں