10:26 am
 بلوچستان کا مقدمہ

بلوچستان کا مقدمہ

10:26 am

چند صحافی دوستوں کے ساتھ  تین چار دنوں  کےلئے کوئٹہ  پہنچاہوں.یہاں حکومت کیا کر رہی ہے؟آئندہ کیا ہو نےجارہا ہے،یہ جاننے کا موقع ملے گا؟مشرق کوئٹہ کے چیف ایڈیٹر ،بڑے بھائی ممتاز شاہ کی رہنمائی بھی حاصل ہے۔نو ہزار سال تاریخ رکھنے والابلوچستان ہر دور میں نشیب و فراز کا شکار رہا،زمانہ بدلتا گیامگر
 چند صحافی دوستوں کے ساتھ  تین چار دنوں  کےلئے کوئٹہ  پہنچاہوں.یہاں حکومت کیا کر رہی ہے؟آئندہ کیا ہو نےجارہا ہے،یہ جاننے کا موقع ملے گا؟مشرق کوئٹہ کے چیف ایڈیٹر ،بڑے بھائی ممتاز شاہ کی رہنمائی بھی حاصل ہے۔نو ہزار سال تاریخ رکھنے والابلوچستان ہر دور میں نشیب و فراز کا شکار رہا،زمانہ بدلتا گیامگر بلوچ قوم نے اپنی روایات اور ثقافت کی حفاظت کی،ہر پل تبدیل ہوتی دنیانےبلوچ قوم کو متاثرنہ کیا،اسلام کی آمد کے بعد بلوچ رسم ورواج میں کچھ تبدیلیاں ضرور آئیں مگر بلوچ کلچر اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔سرداری سسٹم بلوچ روایات کا اب بھی اٹوٹ حصہ ہے،تاریخ بتاتی ہے کہ بلوچوں نےکسی بھی دور میں بیرونی تسلط کو قبول نہیں کیا اور اپنی ثقافت کو سینے سے لگائے رکھا،جنگجوئی اور مدافعت ان کے خون کامستقل جزو ہے،یہی وجہ ہے کہ کوئی بیرونی حملہ آور ان پر تا دیرحکمرانی نہ کر سکا،تاج برطانیہ بھی یونین جیک صرف شہری علاقوں میں لہرا سکا۔
 تحریک پاکستان میں بھی بلوچ رہنمائوں کاایک نمایاں کردار تھا، تاریخ سے آگاہ لوگ جانتے ہیں ،قاضی محمد عیسٰی،عبدالقادر شاہوانی،ملک محمداعظم خان،سردار عبدالحاکم خان،سردار عبدالرشید خان،حاجیٖ فضل الہٰی،ارباب عبدالعزیز،مولوی عبداللہ،ملک محمدعثمان،میر محمد فاضل خان وہ لوگ تھے جنہوں نے قائد اعظم کی آواز پر لبیک کہا اور تحریک پاکستان کا پیغام گھر گھر پہنچایا۔ بلوچستان کے طلبہ نے بھی تحریک پاکستان میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا،قیام پاکستان کے بعد ’’خورشید‘‘ کے نام سے ایک اخبار بھی شائع کرنا شروع کیا تھا،جس کے ذریعے تحریک پاکستان کا پیغام عام کیا گیا،فضل احمد غازی کی خدمات تو آج بھی زبان زد عام ہیں۔
قیام پاکستان سےقبل ،والی قلات ، والی لس بیلہ،نواب آف مری،نواب آف بگٹی بلوچستان کی اہم شخصیات تھیں،مکران بھی الگ ریاست کا درجہ رکھتا تھا مگر اس کا انتظام سلطنت آف عمان کے ہاتھ میں تھا،خاران بھی اہم ریاست کا درجہ رکھتا تھا،قیام پاکستان کے بعد والی قلات نےباقاعدہ طور پر پاکستان کا حصہ بننے کا اعلان کیا،بلوچستان اسمبلی نے نواب  بگٹی کی قرارداد پر باقاعدہ پاکستان میں شمولیت کا متفقہ فیصلہ کیا،ون یونٹ کے قیام تک ریاستوں کاوجود برقرار رہا۔
بلوچستان مملکت پاکستان کےکل رقبہ کے 44فیصد علاقہ پرپھیلا ہوا ہےمگر بجٹ اور ترقیاتی فنڈز میں اس کا حصہ ہمیشہ اونٹ کےمنہ میں زیرہ کے برابر رہا،صوبہ کے جغرافیہ میں تبدیلی بھی عوام کی مرضی کے بغیر عمل میں لائی گئی،ایران کے شہر زاہدان اورپاکستانی علاقہ تفتان کے درمیان واقع’’قلعہ سفید ‘‘ کا علاقہ سکندر مرزا دور میں ایران کو فروخت کر دیا گیا،یہ علاقہ بے آب و گیا تھا،ہر وقت ریت کے جھکڑ چلتے مگر پاکستانی حکمرانوں نے یہ نہ سوچا کہ اگر اس سے ملحقہ علاقوں سے ایران تیل حاصل کر رہا ہے تو ہم کیوں نہ کوشش کر کے دیکھ لیں،مگر تیل کی تلاش کے بجائےاس سے لدا علاقہ ہی ایران کو فروخت کر دیاگیادوسری طرف مکران کا ساحلی علاقہ جو سلطنت آف عمان کے زیر نگین تھا اس لالچ میں خرید لیا گیا کہ یہاں سے تیل نکل سکتا ہے مگر کسی حکومت نے یہاں سے تیل نکالنے کی کوشش نہ کی۔
شاہ قابوس کے بعد عمان کی ریاست تیزی سے ترقی کےزینے طے کرنے لگی اور آج عمان تیزی سے ترقی کرتی معیشت ہےمگر ہم نے مکران کے ساحلی علاقوں کو کسمپرسی کی حالت میں چھوڑے رکھا،اب اگر چہ مکران پورٹ کی تعمیر کے بعد اس علاقہ میں زندگی کروٹ لے رہی ہے،سمندر میں تیل کی تلاش بھی جاری ہےاور ایک مقام سے تیل نکلنے کی خوشخبری بھی آچکی ہے،تفتان اور تربت کے علاقوں میں بھی تیل کی تلاش کیلئے کھدائی کی ضرورت ہے اوریہ کام جتنی جلدی شروع کیا جائے بہتر ہو گا۔
بلوچستان پٹھان ، بلوچ ، پنجابی ، سندھی ، اردو سپیکنگ سمیت ہر زبان بولنے والوں کی آباد ی کا گلدستہ ہے،اس صوبہ کی زمین معدنی دولت سے مالا مال ہے۔  سیاسی نفرت نے اس صوبہ کو غیر یقینی کی کیفیت سے ہمیشہ دوچار رکھا،ون یونٹ کے دورمیں بلوچ عوام خود کو تخت لاہور کا غلام سمجھتے تھے،ون یونٹ کے خاتمہ کے بعد جب بلوچستان کو باقاعدہ صوبہ کی حیثیت ملی تو اسلام آباد اس پر حاوی ہو گیا،آزاد پاکستان میں بلوچستان کی پہلی منتخب حکومت جو ولی خان کی پارٹی (کالعدم) نیشنل عوامی پارٹی اور مفتی محمود کی جمیعت العلماء اسلام کی مخلوط حکومت تھی کو وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کے حکم پر تحلیل کر دیا گیا،یہ بلوچستان کی صوبائی خود مختاری پر پہلاسیاسی حملہ تھا،اس اقدا م کے بعد بلوچستان سیاسی استحکام سے محروم ہو گیا اور یہ محرومی آج بھی موجود ہے،نواب اکبر بگٹی قتل نے اس غیر یقینی اوراحساس محرومی کی آگ پر تیل کا کام کیا ۔اس آگ  کو مد ہم کرنے میں جنرل جنجوعہ نےاپنے دور کور کمانڈری میں اس حوالے سے اہم خدمات انجام دیں،جنرل راحیل شر یف نےبھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کیا،موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اس ضمن میں گرانقدر خدمات انجام دے رہے ہیں،مگر بلوچ عوام کی محرومیاں اتنی زیادہ ہیں کہ ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور وہ بھی سنجیدگی اور بلوچ عوام کی شمولیت کیساتھ۔
گوادر پورٹ کی تعمیر اپنی جگہ ایک اہم منصوبہ ہے مگراس منصوبہ کےحوالے سے بھی بلوچ عوام کے تحفظات ہیں،بیرون صوبہ سے آکر گوادر میں آباد ہونے والوں کی کثیر تعداد کےحوالے سے بلوچوں کو گمان ہے کہ ان کی آبادی کم ہو جائے گی جس سے صوبے پر ان کا اختیار کم
ہو جائے گا،اس حوالے ان کے تحفظات کو دور کر کے اس منصوبے کی کامیابی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ورنہ اگر مقامی لوگوں کی حمایت ہی نہ ملی تو منصوبہ کی کامیابی پرہر وقت سوالیہ نشان لگا رہے گا، سیندک منصوبہ جو اپنی ابتداءسےہی اختلافات کا شکار رہا ہے کےبارے میں بھی نئی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت ہے،یہ منصوبہ آصف زرداری کی بھینٹ چڑھا رہاجبکہ بلوچ عوام کی قابل قدر تعداد نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا،چاہئےتھاآصف زرداری صوبہ اور صوبہ کے عوام کے مفادات کو سامنے رکھتےمگرایسا نہ ہو سکا جس کے نتیجے میں سیندک آج بھی متنازع ہے اوراس پر کام بھی بند ہے،حالانکہ صوبہ اور ملک کی ترقی کیلئے یہ ایک اہم منصوبہ ہے جس پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
        ہزارہ عوام کیخلاف ہونے والی کارروائیاں بھی صوبے کے امن و امان کیلئے ایک اہم مسئلہ ہے اس پرجلد سے جلد قابو پانے کی ضرورت ہے،پاک ایران سرحد کے اطراف میں ہونے والی مسلح کارروائیاں بھی فوری توجہ کی متقاضی ہیں۔اس صورتحال پرقابو پائے بغیر ترقی کے خواب کو تعبیر ملنا مشکل ہے،اگر وفاق کو بلوچستان کے عوام کی محرومیاں دور کر کے ان کو قومی دھارے میں لانا ہے تو اس کیلئے ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لینا ہو گا،عوام کو اعتماد میں لئے بناء  آج تک جتنےکام ہوئے ان کا مطلوبہ نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا اب اس روش کو بدلنے اور اسلام آباد کےفیصلے بلوچوں پرٹھونسنے کا رویہ تبدیل کرنا ہو گا۔
کالم

 

تازہ ترین خبریں