07:38 am
وہ شیر کب ہوشیار ہو گا؟

وہ شیر کب ہوشیار ہو گا؟

07:38 am


اس صدی کے آغاز میں حکیم مشرق علامہ اقبال اپنی خوابیدہ ملت کو یہ نوید سنائی تھی کہ   
 نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا
 
 سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا
اب ہم اکیسویں صدی میں داخل ہوچکے ہیں لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ ع  ہنوز دلی دُور است۔ دنوں کے الٹ پھیر میں جو وقت پھر ہاتھ نہ آنے کے لیے چلا گیا، اس میں مسلمانانِ عالم جسمانی غلامی سے تو تقریباً سب ہی آزاد ہو گئے اور محکومیت سے نکل کر حاکمیت تک آپہنچے ہیں تاہم ذہنی غلامی کا جوا بدستور ہماری گردنوں پر ہے۔ سیاست و معیشت اور ٹیکنالوجی میں غیروں کی دست نگری سے بے نیازی کے اعتبار سے بھی اب تک ہم عزت و احترام کا کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ مقام بھی حاصل نہیںکر پائے ہیں۔ پوری دنیا میں احیائے اسلام کی تحریکیں تو سر اٹھاتی رہی ہیں اور اپنے دین کو ایک ہمہ گیر ضابطہ ٔ حیات کے طور پر پیش کرنے کے حوصلے کے ساتھ یہ اعتماد بھی عام ہوا ہے کہ اسلام مروجہ نظام ہائے زندگی کو للکار کر انسانیت کو ایک بہتر متبادل فراہم کرنے کی حیثیت میں ہے لیکن یہ سب کچھ نظریات کی سطح ہی پر تیرتا نظر آتا ہے، گہرائی میں مایوسی کے اندھیرے کے سوا کچھ نہیں۔ ہم اپنے نظریۂ حیات کا نفاذ زمین کے کسی ایک مربع انچ پر بھی نہیں کر سکے۔
ہمیں قدسیوں کے گل سرسبد محمد رسول اللہﷺ کی اس خوشخبری پر زیادہ یقین ہے کہ دنیا کے خاتمے سے پہلے پہلے کرئہ ارضی پر دین کا بول بالا ہو کر رہے گا ورنہ علامہ اقبال کی نوید مجذوب کی بڑ لگتی ہے البتہ یہ تشویش ضرور لاحق ہے کہ وہ شیر کب ہوشیار ہو گا اور یہ کہ ہم اپنی آنکھوں سے بھی اس کے کچھ آثار دیکھ پائیں گے یا نہیں! عالم اسباب کا جائزہ تو اعصاب شکن ہے، حضورﷺ کی نوید جاںفزا ہم تک نہ پہنچی ہوتی تو کبھی کے تھک ہار کر بیٹھ چکے ہوتے۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت تو اس فکر و تشویش سے بے نیا ز ہے ہی، جو تھوڑے بہت جواں ہمت لوگ دین کی سرفرازی کے لیے کام کرنے کا داعیہ دلوں میں محسوس کرتے ہیں، انہیں بھی سرابوں کے پیچھے لگا کر بھٹکا دینے والے ہر وقت تاک میں بیٹھے ہیں۔ کہیں ذکر و فکر صبح گاہی میں مست رکھنے کا اہتمام ہے اور کہیں نظریۂ توحید کے حوالے سے وہ موشگافیاں ہیں جنہوں نے ایک زندہ اور متحرک نظریے کو علم کلام کا گورکھ دھندا بنا کر رکھ دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دین کو سربلند دیکھنے کی آرزو اول تو دلوں میں پیدا ہی نہیں ہوتی، اور اگر ہو ہی جائے تو خام رہتی ہے۔
اس بادِ مخالف کی تندی میں ڈٹ جانے والوں کی مشکل سواہے۔ آخر انسان ہیں، کسی وقت مایوسی اور بددلی کے حملوں کی زد میں بھی آجاتے ہیں۔ ایمان کے وقتی ضعف کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں گرتوں کو تھام لینے والے ساتھی ذرا بھی تغافل سے کام لیں تو شیطان کے ایجنٹ ناصح کا رُوپ دھار کر سمجھانے آ جاتے ہیں کہ دین کی اقامت ہماری ذمہ داری نہیں، ہمارا کام تو بس دعوت ہے، علم کا حصول ہے اور انذار و تبشیر کا سلسلہ جاری رکھنا ہے۔ ان کے دام ہمرنگ زمیں سے بچنا اس کیفیت میں بہت مشکل ہو جاتا ہے جب عزم کی کمی ہو، ہمت جواب دے رہی ہو اور غلبۂ دین کی جدوجہد کرنے والوں پر مایوسی نے حملہ کر دیا ہو۔
گرہ میں باندھ لینے والی بات یہ ہے کہ دین کو سربلند دیکھنے کی خواہش کو دلوں میں ضرور پروان چڑھایا جائے اور سینوں کو بھی شہادت کی آرزو سے خالی نہ ہونے دیا جائے لیکن ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی امید پاس نہ پھٹکنے پائے کہ اسی کی وجہ سے مایوسی کے حملوں میں شدت پیدا ہوتی ہے۔ وہ شیر یقینا پھر ہوشیار ہو گا۔ اس امید کو برقرار رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ بیشہ ٔ امت میں بیداری کی لہر دوڑانے کی پیہم سعی کی جائے اور دین حق کے غلبے کی جدوجہد میں بالفعل تن من دھن کھپانے کے باوجود اصل ہدف اس جدوجہد کو نہیں بلکہ محض رضائے الٰہی کے حصول کو بنایاجائے۔ ہاں، ہاتھ میں ہاتھ دے کر رفقاء کو ایک زنجیر میں ڈھلنا ہو گا تاکہ ایک دوسرے کا سہارا بھی میسر رہے اور شیشے میں اتار کر راہِ عزیمت سے ہٹانے والوں کو ان کی صفوں میں داخل ہونے کا راستہ بھی نہ ملے۔ اﷲ کے لیے کام کرنے والوں سے اﷲ کا وعدہ سچا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا، وہ پھر استوار ہو گا۔ ان شاء اﷲ!




 

تازہ ترین خبریں