07:39 am
المیہ سری لنکا‘ آئی ایس آئی پر الزامات اور مودی ضرورت

المیہ سری لنکا‘ آئی ایس آئی پر الزامات اور مودی ضرورت

07:39 am


(گزشتہ سے پیوستہ)
 قارئین سامنے رکھیں کہ فروری کے آخر میں پاکستان کے ہاتھوں دوبدو اچانک لڑائی کے منظر نامے میں بھارت کی کافی توہین ہوچکی ہے حالانکہ یہ لڑائی خود بھارت نے پاکستان سے شروع کی تھی۔ بالی ووڈ کی فلموں میں استعمال ہوئے سرجیکل سٹرائیک طرز کو جب مودی کے بھار ت نے استعمال کرلیا تو نئی دہلی کے  د شمن نے بھارت کے گرائے گئے جہازوں کے ایک پائلٹ کو زندہ پکڑلیا تھا جبکہ اسلام آباد نے اس پکڑے ہوئے بھارتی پائلٹ کو فوراً  آزاد کرکے امن کا  اپنا واضح کردار بھی پیش کر دیا تھا۔
 بالآخر وزیراعظم مودی کی اپنی ہی ایک وزیر خارجہ نے بھی اپنی ہی حکومت کے بیانیے کو یہ کہہ کر جھٹلا دیا تھا کہ بالاکوٹ میں نہ کوئی مارا گیا نہ ہی زخمی ہوا۔ مودی جیسا سیاسی شخص جو خود کو نیشنل سیکورٹی کا معمار کردار بتاتا ہو اس کے لئے بالاکوٹ میں وقوع پذیر شرمندگی کے واقعات کس قدر اہم ہیں؟ لہٰذا ضروری ہو جاتا ہے کہ بھارتی عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے نئے سیکورٹی سیکنڈلز تخلیق کرلیے جائیں تاکہ انتخابی عمل کے دوران ان تخلیق شدہ سیکنڈلز کے استعمال سے وہ خود کو پھر سے مضبوط کرتے۔ اس کے ساتھ ہی اس پھیلائے گئے بھارتی موقف کو بھی سامنے رکھیں کہ پاکستان روس و چین کی مدد سے بھارت کے ساتھ پوری دنیا کے خلاف بھی ہائبرڈ وارز مسلط کیے ہوئے  ہے۔

ہائبرڈوارز کا بی جی پی موقف حقیقت جس کی یہ ہے کہ یہ ہائبرڈوارز خود بھارت میں مسلط ہے اور خود بھارت کے ساتھ بھی عملاً موجود ہے۔ اس ہائبرڈوارز فارمولے والے موقف کو بی جے پی دنیا کے اذہان پر تھوپ رہی ہے تاکہ وہ قائل ہو جائیں کہ پاکستانی ریاست دہشت گردی کی سرپرست ہے لہٰذا پاکستان کو دو ٹوک امریکی اور اقوام متحدہ کی ہمہ گیر پابندیوں میں جکڑ دینا چاہیے۔ دوسری طرف بی جے پی پاکستان مخالف اس ہائبرڈوارز موقف کو خود بھارتی عوام پر بھی مسلط کر رہی ہے تاکہ بھارتی عوام پاکستان سے خوف زدہ ہو جائیں اور اس خوف زدگی کے سبب دوبارہ سے مودی کو بھرپور ووٹ دے دیں۔ ویسے عملاً یہ بھارتی عوام کا استحصال ہے اور عوام کو گمراہ کرنا بھی۔ کیا مودی کی (پاکستان مخالف) جارج ترین خارجہ پالیسی کو جتوانے کے لئے بھارتی عوام ووٹ دیں گے؟ میں اینڈریو کوربکو اپنے پہلے کالم ’’سری لنکا خود کش حملہ کا ابتدائی جائزہ‘ میں لکھ چکا ہوں کہ اس حملے کے سبب بین الاقوامی کچھ قوتیں ثابت کریں گی کہ ان کی ہر مخالف  ایجنسیاں اس واقعہ میں ملوث ہوسکتی ہیں۔ یہ ثابت کرکے وہ خود کو عملاً دہشت گردی کے خلاف مضبوط مورچہ ثابت کر سکتی ہیں۔ ایسا مودی کی طرح داخلی سیاسی مقاصد کے حصول کی کوشش بھی تو ہوسکتی ہے۔ میرے اس لکھے ہوئے خدشے کے مطابق اب سچ مچ انڈیا بالکل یہی کچھ کر رہا ہے۔
المیہ کو استعمال کرتے سیاسی مقاصد: گاتا ماتاوالی ہندی پٹی جو بی جے پی کا مضبوط گڑھ کہلاتی ہے۔ وہاں تاحال انتخابی عمل وقوع پذیر ہونا باقی ہے۔ اس المیے کو انتخابی نتائج میں استعمال کرتی وہ کہانی ہے جو مکمل ہونا باقی ہے۔ پاکستان (آئی ایس آئی) کو سری لنکا حملہ میں بالواسطہ ملوث قرار دینا موقف کا مطلب یہ ہے کہ مودی کی حمایت میں ووٹ ڈالنے کے لئے بہت زیادہ عوام باہر نکلیں تاکہ مودی آسانی سے انتخاب جیت سکے جبکہ عملاً اس وقت سخت ترین انتخابی مقابلے میں گرفتار ہیں۔ اگر سری لنکا میڈیا (بھارتی میڈیا کی طرح حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کی کہانی کو قبول کرکے اچھالنا شروع کر دے ۔ اورکی ننجایا کا لکھا ہوا مضمون شائع کرے‘ بھارت کے حامی اس وکی ننجایا کہانی کی تعریف  کریں‘ گویا ثابت وہ یہ کریں گے کہ پاکستان ہائبرڈوارز  نہ صرف بھارت پر مسلط ہے بلکہ وہ سری لنکا پر بھی مسلط ہوچکی ہے۔ لطف یہ ہے کہ وکی ننجایا کا یہ مضمون بھی انگریزی میں لکھا گیا ہے‘ بین الاقوامی میڈیا بھی اسے شائع کر سکتا ہے خاص طور پر وہ حلقے جو تہذیبوں کے درمیان جنگ کے نظرئیے کو فروغ دیتے ہیں۔ اگر اقوام متحدہ میں جھوٹی خبروں کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنا سکے تو مودی کے لئے بہت بڑی خوشی کی بات ہوگی۔
اختتامی تجزیہ: یہ بات ہرگز خلاف توقع نہیں کہ ایک بھارتی مضمون نگار سری لنکا المیے کی مناسبت سے پاکستانی آئی ایس آئی کو ملوث کرتی سازشی‘ کہانی لکھ ڈالے۔ جھوٹی خبروں کے مفہوم پر مبنی موقف اور بھارتی دعویٰ اس لئے بھی موثر ہوسکتے ہیں جبکہ بی جے پی کے سیاسی سحر میں مبتلا عوامی حلقے اس جھوٹ کے ذریعے تخلیق کی گئی کہانی کا استعمال کرکے متوقع انتخابی ووٹ ٹران آئوٹ میںمطلوب زیادتی کر پائیں۔ اس کہانی کوانٹرنیٹ پر ڈال  کر بطور سیاسی اسلحہ اس کے سری لنکا کے میڈیا میں استعمال کو بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔
اگر سری لنکا میڈیا میں بھارت کے لئے مطلوبہ پذیرائی آجائے تو یہ میڈیا بھارتی حامی سیاست کو بھی مضبوط کر دے گا۔ یوں پاک سری لنکا موجودہ عمدہ تعلقات میں کمزوری اور کشیدگی پیدا ہو جائے گی۔ جبکہ اس پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ تہذیبوں میں جنگی کشمکش چاہنے والے بھارت اپنے لکھے ہوئے بیانیوں کے سبب خوف پیدا کرکے دائیں بازو کے شدت پسندوں کو مضبول کریں اور پاکستانی عمدہ تعلقات کے حامل وجود کو اپنے اپنے ہاں نشانہ بنالیں۔ یوں تہذیبی کشمکش کا سازشی بیانیہ  ’’ تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی ایک تفسیر ہو جائے گا۔
پس تحریر: یاد رہے چند سال پہلے لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ ہوا تھا۔ اس واقعہ کے حوالے سے سری لنکا کی تحقیقاتی ٹیم نے دریافت کرلیا تھا کہ  حملہ ’’را‘‘ کی سازش تھی  سری لنکا کے پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات کو خراب کیا جاسکے ’’را‘‘ سازش کے باوجود یہ عمدہ تعلقات برقرار رہے ہیں۔


 

تازہ ترین خبریں