07:40 am
 دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کا انعقاد

دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کا انعقاد

07:40 am

پاکستان اور چین نے دوسرے آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کر دیئے۔ پاکستان کو آسیان ممالک کی طرز پر رعایت دی گئی ہے جس کے تحت 313 پاکستانی مصنوعات کو چینی منڈیوں میں ڈیوٹی فری رسائی ملے گی اور پاکستانی برآمدات 5 سال میں ساڑھے 6 ارب ڈالرز کا ہدف حاصل کر سکیں گی۔پاک چین تجارتی تعلقات میں بڑی پیش رفت، پاکستان کی 90 فیصد برآمدات کی چین کو ڈیوٹی فری رسائی ممکن ہو پائے گی۔ پاکستان اور چین نے 75 فیصد ٹیرف لائنز کی ڈیوٹی فری رسائی پر اتفاق کر لیا۔ اس طرح پاکستان کی چین کیلئے برآمدات 5 سال میں ساڑھے 6 ارب ڈالرز بڑھنے کی توقع ہے۔ ڈیوٹی کی چھوٹ صرف ٹیکسٹائل مصنوعات تک محدود نہیں ہوگی بلکہ کیمیکل، انجینئرنگ، فوڈ آئٹمزکی چین کو برآمد بھی ڈیوٹی فری ہو گی۔ فٹ وئیر، پلاسٹک کی مصنوعات کی برآمد بھی ڈیوٹی فری ہوں گی۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت پاکستان کی مقامی صنعتوں کو مکمل تحفظ حاصل ہو گا۔ چین کی 1700 مصنوعات کو حساس لسٹ میں رکھا گیا ہے۔


   نومبر 2018 میں چین کے پہلے دورے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے باہمی تعاون کے فروغ میں مدد ملی ہے۔ نومبر 2018 میں وزیر اعظم کے گزشتہ دورہ چین تک دو طرفہ تعاون میں اضافے کو مد نظر رکھتے ہوئے چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ نے سی پیک کے منصوبوں کے مثبت اثرات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ چین پاکستان آزادانہ تجارت کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کی تکمیل سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور اقتصادی رابطوں کومزید فروغ ملے گا۔ دونوں رہنمائوں نے سیاسی، سلامتی، معیشت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، ثقافت اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا ۔ اعلیٰ سطح کے وفود کے تبادلوں کے موجودہ حالیہ رفتار کو بھی برقراررکھنے پر اتفاق کیاگیا۔ دونوں رہنمائوں نے جنوبی ایشیا میں امن واستحکام اور افغانستان میں امن کوششوں سمیت علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔  باہمی رابطوں کے لئے اپنی کوششوں پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں وزرائے اعظم نے چین پاکستان آزادانہ تجارت کے دوسرے مرحلے کے دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی۔
 پاکستان اور چین کے درمیان جوہری توانائی کے میدان میں تعاون کے سمجھوتے پر 1984 میں دستخط ہوئے جس کے بعد دونوں ممالک ایکدوسرے کیساتھ تعاون کرتے چلے آرہے ہیں۔ پاکستان کے خلائی پروگرام میں چینی تعاون کا بڑا عمل دخل ہے 1990 میں پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ سہولیات نہ ہونے کے باعث ایک چینی اسٹیشن سے ہی بھیجا گیا تھاجس کے بعد باہمی تعاون کا یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ پاکستان کی جغرفیائی دفاعی اور معاشی لحاظ سے اہم ترین بندر گاہ گوادر نہ صرف چین کے تعاون سے تعمیر کی گئی بلکہ اس کی تعمیر کے تمام مراحل میں بھی چین کی تکنیکی اور افرادی مدد بہم رہی2002 میں 248ملین ڈالر کے اس مشترکہ پراجیکٹ کیلئے چین نے پاکستان کو 198ملین ڈالر فراہم کئے2008 میں دونوں ممالک کے مابین فری ٹریڈ معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے تحت چین پاکستان میں نئی صنعتیں لگا رہاہے اس معاہدے کے تحت پاکستان کو بھی چین میں یہ سہولت فراہم کی گئی ہے دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی ملک کیساتھ کیا جانے والا اپنی نوعیت کا یہ پہلا معاہدہ ہے۔ چین پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے انفراسٹرکچر کی تعمیر کیلئے بے شمار منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔  اس وقت کئی چینی کمپنیاں پاکستان میں آئل اینڈ گیس آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام اور جنریشن انجینئرنگ آٹو موبائلزاور انفراسٹرکچر اینڈ مائننگ کے شعبوں پر کام کر رہی ہیں۔ان تما م شعبوں کے علاوہ دونوں ممالک قدرتی آفات اور دیگر مشکل وقتوں میں ایک دوسرے کیساتھ کندھا ملائے کھڑے رہتے ہیں ۔
    یہ پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان ایم ایل ون (پشاور۔کراچی )ریل ٹریک کی اپ گریڈیشن کا معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس معاہدے پر پاکستان کی طرف سے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد جبکہ چین کی طرف سے پاکستان میں چین کے سفیر یاو جِنگ نے ڈیکلیریشن برائے پریلمنری ڈیزائین منصوبہ فیز ون پشاور۔کراچی پر دستخط کئے۔ وزیر اعظم عمران خان اور چین کے وزیر اعظم لی کی چیانگ معاہدے پر دستخط کی تقریب موجود تھے۔ پشاور۔کراچی ایم ایل ون منصوبہ اگلے پانچ سال میں مکمل ہوگا جس کے تحت پشاور اور کراچی کے درمیان 1872 کلو میٹر لمبے ٹریک کو اپ گریڈ کیا جائیگا۔ ریل ٹریل کی فینسگ سمیت پل اور کراسنگز بھی بنائی جائیں گی۔ اس منصوبے کی تکمیل سے ٹرین کی اوسط سپیڈ 120 سے 160 کلو میٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی۔ ابھی یہ سپیڈ اوسطاً 60 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ مسافر ٹرین راولپنڈی سے کراچی ریلوے اسٹیشن 10 گھنٹوں میں پہنچے گی۔ اس وقت تیز ترین راولپنڈی اور کراچی کے درمیان گرین لائین ہے جو 22 گھنٹوں میں پہنچتی ہے۔ راولپنڈی سے ٹرین صرف اڑھائی گھنٹے میں لاہور پہنچے گی۔ ایم ایل ون منصوبے سے ٹرینوں کی تعداد دوگنی ہو جائیگی۔ فریٹ شئیر 20 فیصد ہو جائیگا جو آج صرف 4 فیصد سے بھی کم ہے۔ پاکستان کی معاشی صورت حال اور دیگر منصوبوں پر ایلوکیشن کی وجہ سے حکومت نے ایم ایل ون منصوبے کو مرحلہ وار فیز میں مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
پاک چین دوستی ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے بھارت کے پاس اگر امریکہ کی شکل میں طاقتور اتحادی ہے تو پاکستان کے پاس بھی چین کی شکل میں خطے میں اور سلامتی کونسل میں ایک مضبوط اتحادی موجود ہے جن کے مفادات مشترکہ ہیں ۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات عشروں کی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں جس کی وجہ سے پاک چین تعلقات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔دونوں ممالک ایک دوسرے کیساتھ دفاع‘ توانائی اور اقتصادی تعاون کی مضبوظ ڈور سے بندھ چکے ہیں دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ قائد اعظم کی مدبرانہ قیادت کے نتیجہ میں آزاد ہونیوالا پاکستان اور ماوزے تنگ کی عظیم قیادت اور لانگ مارچ کے ثمرات کے نتیجہ میں آزادی حاصل کرنے والا چین محبت اخوت اور باہمی تعاون کیساتھ ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہو چکے ہیں ۔



 

تازہ ترین خبریں