07:44 am
حجاج کرام کے لئے آسانیاں

حجاج کرام کے لئے آسانیاں

07:44 am

اگر چہ حج 2019کے لئے نے حج اخراجات میں 63فیصد اضافہ کیا تا ہم  ایس ایم ایس سروس کے اجرا نے فراڈ کے امکانات کم کئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر سعودی حکومت نے پاکستان کے لئے 16ہزار کے اضافی کوٹے کو شامل کیا ہے۔ اب دو لاکھ پاکستانی رواں سال حج کی سعادت حاصل کر سکیں گے۔ اس اضافی کوٹے میں 60فی صد سرکاری اور 40فی صد پرائیوٹ آپریٹرز کو ملے گا۔ حکومت حجاج کرام کو مزید سہولت اور ریلیف دینا چاہتی تھی مگر وہ ایسا نہ کر سکی۔ عمران خان حکومت کی یہ پہلی حج پالیسی تھی۔ یہ معاملہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے کا باعث بنا۔


 ملک کے شمالی ریجن کے لئے 4,36,975 روپے اور جنوبی ریجن(کراچی، کوئٹہ، سکھر)کے لئے 4,26,975روپے فی عازم اخراجات اٹھ رہے ہیں۔ ان اخراجات میں قربانی کی لاگت شامل نہیں۔ قربانی کے لئے فی عازم کو 20ہزار روپے ساتھ لینا ہوں گے۔ علاوہ ازیں کئی  ہزار ریال بھی لازمی طور پر ساتھ لینا ہوں گے۔ کسی عازم حج کے لئے دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہوں گے۔حج اخراجات 39روپے فی ریال کے حساب سے طے کئے گئے ہیں۔ حج پالیسی 2018کے تحت شمالی ریجن کے لئے اخراجات  2,80,000اور جنوبی ریجن کے لئے 2,70,000روپے تھے۔  پہلی بار بلوچستان کے عازمین حج کوئٹہ سے براہ راست جدہ پہنچیں گے۔ گلگت بلتستان کے عازمین کے لئے عارضی حج کیمپ گلگت میں قائم ہو گا۔  رواں سال پاکستان کا کوٹہ 184,210حجاج کا ہے۔ 10ہزار بزرگ شہری بغیر قرعہ اندازی گورنمنٹ حج سکیم کے تحت حج بیت اللہ پر جا سکیں گے۔ پی آئی اے کی پروازیں کوئٹہ سمیت فیصل آباد سے بھی روانہ ہوں گی۔
نئی حج پالیسی کے تحت  حج اخراجات دوگنا ہوئے ہیں۔ 2018میں قربانی کے بغیر یہ اخراجات 2لاکھ80ہزار تھے۔ قربانی سمیت سرکاری کوٹہ کے تحت حج پر 2لاکھ 93ہزار خرچہ تھا۔ یعنی ہر حاجی تقریبا ً 40ہزار روپے کی سبسڈی یا رعایت سے مستفید ہورہا تھا۔ اب سبسڈی ختم کر دی گئی  ہے۔ گزشتہ برسوں میں حجاج کرام کو سرکاری سکیم کے تحت  مفت کھانا بھی فراہم کیا گیا۔ سہولیات بھی پہلے سے بہتر فراہم کی گئیں۔ رواں سال فی عازم حج کو ایک لاکھ 76ہزار426 روپے اضافی رقم دینا ہو گی۔ حج اسلام کا رکن ہے۔ حج بیت اللہ ہر اس مسلمان پر لازم ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔ لوگ عمر بھر تھوڑی رقم بچت کر کے حج کے لئے جمع کرتے ہیں۔ جوں ہی مطلوبہ رقم جمع ہو تو عازم سفر ہونا چاہتے  ہیں۔ یک مشت بھاری اضافے نے لا تعداد مسلمانوں کی خواہش پر پانی پھیر دیا ہے۔ حکومت معاشی دبائو کا شکار ہے۔وزیر خزانہ سبکدوش ہو چکے ہیں۔مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کی پالیسی بھی جلد عیاں ہو گی۔ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ جو لوگ پی ٹی آئی سے ہمدردی یا مسلم لیگ ن یا پی پی پی سے عداوت رکھتے ہیں ، انہیں موجودہ حکومت کی غلط پالیسیاں بھی درست معلوم ہوتی ہیں۔ ایساہمیشہ  ہوتاہے کہ اپنے ہمنوا اور تعلق دار کو قتل بھی معاف اور رقیب اور سیاسی مخالفین کو آہ پر بھی بدنام کیا جاتا ہے۔ انسانیت اور اخلاقیات و اقدار کا موجودہ دور کی سیاست میں پامال ہو نا معمول بن رہا ہے۔ جب کہ سیاست خدمت خلق اور احترام انسانیت کا نام ہے۔ سیاست میں لوگ عبادت سمجھ کر وارد ہوتے تھے، یہ سوشل سروس ہے۔ عظیم لوگ اپنے وقت، پیسہ، وسائل معاشرے کی فلاح و بہبود پر نچھاور کر دیتے تھے۔ مگر آج کے دور میں تیسری دنیا میں شرافت اور ایمانداری حماقت کی علامت بنا دی گئی ہے۔ اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ اس وجہ سے لوگ اس میدان میں قدم نہ رکھیں اور حالات کے جبر سے تنگ آ کر قطع تعلق کریں۔ سیاسی رہبانیت بھی ممنوع ہے۔ اس کی اجازت نہیں۔ معاشرے میں اگر کسی اچھائی کو برائی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو اس اچھائی کو کسی ڈر و خوف سے ترک نہیں کیا جا سکتا۔
ہماری سیاست  میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ پارٹی سے ٹکٹ کے لئے چندہ کی صورت فنڈ جمع کرنا ہوتا ہے۔ پھر اسمبلی میں پہنچ کر کئی گنا کمائی کی تمنا ہو تی ہے۔ دین کے معاملات ایسے نہیں چلائے جا سکتے جن کو  ہم مداخلت فی الدین کہتے ہیں ، وہ حج پالیسی میں بھی نظر آ سکتی ہے۔ حکومت اگر پارلیمنٹ کی بالادستی اور عوام کی خوہشات کا احترام کرتی ہے تووہ ملک کے ہر ایشو اور ہر ایک پالیسی کو تشکیل دینے سے پہلے اس پر بحث و مباحثہ کرنے سے گریز نہیں کر سکتی۔ کسی پالیسی کی تشکیل اور اس پر عملی جامہ پہنانے سے پہلے اس پر مشاورت اور عوامی آرا طلب کی جاتی ہے۔ آمریت اور بادشاہت کے دور میں حکمران من مانی کر سکتے ہیں۔ یا نئی تاولیں تلاش کی جاتی ہیں۔مگر عوامی حکومت میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ا یہ کہا جاتا ہے کہ ان سے پہلے دور میں بھی کوئی ظلم ہو رہا تھا، اس پر لوگ کیوں خاموش تھے جو اب چیخ و پکار ہو رہی ہے۔ یہ سب غیر منطقی طور طریقے ہیں ۔ جن کی زد میں بے چارے عوام جمہوریت کے نام پر لائے جاتے ہیں۔ آخر حکومت تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر جو کمی واقع ہوئی ہے، اس کا فائدہ عوام کو کیوں نہیں دینا چاہتی۔ حج کرائے کم کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کیوں کر کیا گیا۔ حکومت حج اور ادویات پر غیر ضروری ٹیکس لگا کر اپنی آمدن میں کیسے اضافہ کر رہی ہے۔
حکومتی حج پالیسی کو اسی وجہ سے ڈرون حملہ قرار دیا گیا کہ بیک جنبش قلم عازمین حج پر بوجھ ڈال دیا گیا۔ اب تقریباً دو لاکھ روپے جمع کرنے کے لئے کسی عازن حج کو مزید انتظار کرنا ہو گا کیوں کہ یہ رقم اضافی ہے۔ بعض حکومتی ترجمان کہتے ہیں کہ سعودی حکومت نے حج اخراجات میں اضافہ کیا ہے ۔ اس لئے حکومت نے مجبور ہو کر حج اخراجات میں اضافہ کیا۔ اگر چہ وزارت مذہبی امور نے سبسڈی ختم نہ کرنے کا موقف پیش کیا مگر اسے کابینہ نے مسترد کر دیا۔ جو حکومت ریاست مدینہ کے نقش قدم پر چلنے اور ملک کو مدینہ بنانے کے دعوے کر رہی ہے وہی لوگوں کو مکہ اور مدینہ کی زیارت سے محروم نہیں رکھ سکتی۔ پرائیویٹ ٹور آپریٹرز سے حج کوٹہ دلانے کا جھانسہ دے کر حج جیسی مقدس عبادت کے نام پر رقم بٹورنے کا دھندہ شروع ہوا ۔ اس کا اعتراف وزارت مذہبی امور نے بھی کیا ۔ کوئی ٹور آپریٹر بلیک لسٹ نہیں ہوا۔ حکومت وسیع مشاورت سے حج خراجات میں اضافہ واپس لینے پر از سر نو غور کر سکتی تھی اور حج جیسے مقدس فریضہ پر عازمین کے لئے آسانیاں اور سہولتیں مہیا کرنے پر توجہدے سکتی تھی۔حج کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔ تا ہم اب اضافی کوٹے اور ایس ایم ایس سروس کی مدد سے عازمین پرائیویٹ آپریٹرز کے کسی فراڈ سے بچ سکتے ہیں۔ امید ہے حکومت حجاج کرام کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی طرف متوجہ ہو گی اور ان پر اضافی بوجھ کم کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔



 

تازہ ترین خبریں