07:45 am
بلاول کا اعتراف

بلاول کا اعتراف

07:45 am

بلاول صاحب فرماتے ہیں کہ اردو پر عبور نہیں اس لئے ’’خان صاحب سمجھتی ہے‘‘ بول دیا… کوئی بلاول سے پوچھے کہ آپ کو انگلش اور انگریزی کلچر کے علاوہ کسی ایسی چیز پر بھی عبور   ہے کہ جس سے پاکستان کے عوام کوفائدہ ہو؟


سندھ سمیت پاکستان بھر میں انگلش بولنے اور سمجھنے والے کتنے فیصد لوگ ہیں؟ بلکہ بلاول کے سندھ کے حوالے سے ’’جدیدسندھ کی معیشت‘‘ نامی کتاب میں تعلیم کی تباہی و بربادی کے متعلق جو اعدادو شمار لکھے گئے ہیں وہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی تعلیم کے بارے میں ’’کارکردگی‘‘ کا راز فاش کرنے کے لئے کافی ہیں۔
ان اعدادو شمار کے مطابق ’’12.7 ملین بچے تعلیم سے محروم ہیں‘21 پرائمری سکولوں کے حساب سے ایک سیکنڈری سکول ہے‘9 ہزار 4 سو99 سکول ایسے ہیں جن میں صرف ایک کلاس روم ہے‘18 ہزار 2سو93  سکول ایسے ہیں جن میں فی سکول پر ایک استاد مقرر ہے‘ 50 فیصد سکولوں میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں‘46 فیصد سکولوں میں ٹوائلٹ اور 63 فیصد سکول بجلی سے محروم ہیں‘‘ جس صوبہ سندھ میں امتحانات کے دنوں میں پورے پورے امتحانی سینٹرز ٹھیکے پر بک جاتے ہوں … اگر اس صوبہ سندھ کے لیڈری کے دعویدار کو اردو زبان پر بھی عبور نہیں ہوگا تو اسے عوامی مسائل کا ادراک کیا خاک ہوگا؟ کوئی انہیں بتائے کہ اس ملک کا مسئلہ ’’صاحب‘‘ یا’’صاحبہ‘‘ نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے‘ مہنگائی نے ’’صاحب‘‘ ہو یا ’’صاحبہ‘‘ دونوں کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے‘ یہ سیاست دان ’’صاحب‘‘ اور ’’صاحبہ‘‘ کے لفظی گورکھ دھندے میں الجھ کر تو ایک دوسرے کو مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں  لیکن عوامی ایشوز پر یہ حکومت کے خلاف بیان بازی سے آگے بڑھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے‘ عوام پوچھتے ہیں کہ بلاول صاحب پیپلز پارٹی صاحبہ کی قیادت کرتے ہوئے مہنگائی کے خلاف دھرنا کب دیں گے؟
اچھا ہوا بلاول زرداری نے خود تسلیم کرلیا کہ انہیں اردو پر عبور نہ ہونے کی وجہ سے خان صاحب ’’سمجھتی ‘‘ ہے بول دیا۔
سمجھتا ہے اور ’’سمجھتی‘‘ ہے میں فرق صرف الف کا ہی ہے‘ ایک الف کے فرق سے معاملات میں بگاڑ پیدا ہو جاتاہے تو ان لیڈران کو جب پورے قرآن و حدیث کے آسمانی علوم اور اسلامی احکامات سے ذرا برابر بھی نسبت یا سمجھ نہیں ہوگی تو پھر معاملات میں بگاڑ کس حد تک آئے گا‘ یہ سوچ کر ہی جھرجھری سی آجاتی ہے۔
اسلامی نظریاتی مملکت کے حکمرانوں‘ سیاست دانوں اور دانشوروں کو دوسرے علوم کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث کے آسمانی علوم پر بھی دسترس حاصل کرنا لازمی ہے‘21 کروڑ مسلمانوں کی لیڈری کے دعویداروں کو جب سورہ اخلاص بھی نہیں آتی ہوگی‘ جس قومی اسمبلی کی پیشانی پر کلمہ طیبہ کندہ ہے … اگر اس اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی کے دعویدار دعا قنوت سنانے سے بھی قاصر ہوں گے ‘ انہیںدین اسلام کے حوالے سے ابتدائی معلومات بھی نہیں ہوں گی تو پھر معاشرہ اسی پستی کا شکار ہوتا چلا جائے گا کہ جیسے اب نظر آرہا ہے‘ ہمیں اگر پاکستانی معاشرے کو پستی کی مزید گہرائی میں جانے سے بچانا ہے تو پھر ہمیں ایسی قیادت کو سامنے لانا پڑے گا کہ جو نہ صرف خالص پاکستانی بلکہ نظریاتی اور کمیٹڈ مسلمان بھی ہو۔
پاکستانی قوم کو ترکی کے طیب اردگان کی طرح کے قائدین کی ضرورت ہے کہ جو اسلام پر فخر کرسکے‘ تلاوت قرآن کو بھی اپنے لئے اعزاز سمجھے۔
یہ اسلام پر شرمندگی محسوس کرنے والے‘ دیوالی کے موقع پر ماتھے پر تلک لگاکر ہندوئوں کے رنگ میں اپنے آپ کو رنگنے والے ‘ مندروں میں جاکر مورتیوں کے سامنے پرنام کرنے والے اور سب کچھ ہوسکتے ہیں مگر اسلام یا مسلمانوں کے قائدین نہیں ہوسکتے‘ میں قادیانیوں کا مسئلہ حل کرنے  کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو جتنا چاہے پسند کروں مگر بلاول کے ان اسلام سے متصادم اقدامات کو کبھی بھی تسلیم نہیں کرسکتا ‘ اقلیتوں کے خود ساختہ حقوق کے نام پر اگر بلاول کے صوبہ سندھ کی سرزمین مسلمانوں پر تنگ کرنے کی کوشش کی جائے گی تو مسلمان اس کی قطعاً اجازت نہیں دیں گے۔
سوال یہ ہے کہ جن لیڈروں کو آکسفورڈ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا دعویٰ ہے انہیں قرآن و حدیث کے علوم کو پڑھنے سے کس نے روکا ہے؟ کیا وہ مسلمانوں کے فیصلے ہندوئوں اور یہود و نصاریٰ کے قوانین کے مطابق حل کرنا چاہتے ہیں؟
یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آکسفورڈ  مارکہ سیاست دانوں کو عیسائیوں کے پادری اور ہندوئوں کے پنڈت پر تو یقین اور اعتماد ہے مگر وہ مسلمانوں کے علماء پر اسلام کے احکامات کے حوالے سے اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں تو کیوں؟ کیا اسلام کے احکامات کی تشریح پنڈت یا پادریوں کا کام ہے؟
سیدھی اور کھری بات یہ ہے کہ اسلام کسی قسم کے جبر کا قائل نہیں ہے لیکن اگر کسی کو پاکستانی مسلمانوں کی نمائندگی اور قیادت کا دعویٰ ہے تو اسے مسلمان بن کر سوچنا پڑے گا‘ اسے آسمانی علوم کو بھی سمجھنا پڑے گا‘ اسلامی احکامات کو بھی جاننا پڑے گا‘ شدت پسندی مسلمانوں میں نہیں ہے‘ بلکہ شدت پسندی آکسفورڈ مارکہ حکمرانوں‘ سیاست دانوں اور دانشوروں کے ذہنوں میں ہے کہ جو یورپ کے ایجنڈے کو پاکستان کے مسلمانوں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں‘ جب مسلم قوم مزاحمت کرتی ہے تو پھر یہ ’’شدت پسندی‘‘ شدت پسندی کی رٹ لگانا شروع کر دیتے ہیں۔



 

تازہ ترین خبریں