07:46 am
وزیراعظم کادورہ چین ، لیموں480 روپے کلو

وزیراعظم کادورہ چین ، لیموں480 روپے کلو

07:46 am

٭وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ سی پیک میں توسیع، دو معاہدے، 16 سمجھوتے، پشاور سے کراچی، نئی ریلوے لائن، انجینئرنگ، کیمیکل، فوڈ آئٹمز، فٹ ویئر (جوتے)، پلاسٹک وغیرہ کی 313 مصنوعات کی چین کو کو برآمد پر ڈیوٹی ختم! چین کی منڈیوں تک کسی ٹیکس کے بغیر رسائی ہو گی۔ تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ دورہ کامیاب رہا۔ ویسے ہر حکمران کا بیرون ملک دورہ ہمیشہ کامیاب رہتا ہے چاہے وہ صدارت کے پہلے سال میں آصف زرداری کے چین کے چار نجی دورے ہوں یا نواز شریف کا لندن کے راستے سنگا پور کا نجی دورہ اور بطور وزیراعظم لندن میں دو ماہ تک علاج کا سرکاری خرچ پر ذاتی قیام ہی کیوں نہ ہو! عمران خان  کے حالیہ دورہ کے بظاہر اہم نتائج دکھائی دے رہے ہیں مگر یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان چین کو تقریباً 435 مصنوعات برآمد کرتا ہے ان میں سے صرف 313 اشیاء پر ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے، باقی 122 مصنوعات پر کیوں یہ چھوٹ نہیں دی گئی؟ دوسری طرف، ایک اطلاع کے مطابق چین کی تین ہزار سے زیادہ مصنوعات پاکستان میں درآمد ہو رہی ہیں، معلوم نہیں ان پر کوئی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے یا سب ڈیوٹی فری ہوتی ہیں؟


٭کراچی میں تحریک انصاف کے 23 ویں یوم تاسیس کے جلسہ میں حاضرین میں کرسیاں اورڈنڈے چل گئے، مکے، ٹھڈے گالیاں، بہت سے افراد زخمی ہو گئے۔ جلسہ بہت پہلے ہی ختم کر دیا گیا۔ ہنگامہ حلیم عادل شیخ کی سٹیج پر آمد پر شروع ہوا۔ جلسہ میں ایک گروپ نے ان کے خلاف نعرے لگائے اس پر لڑائی شروع ہو گئی۔ جلسہ میں ویسے بھی کوئی اہم رہنما موجود نہیں تھا اور محض چند ہزار کرسیاں دور دور فاصلہ پررکھی ہوئی تھیں۔ ایک بات یہ کہ جلسہ تو نصف وقت بھی نہ چل سکا مگر اس کے ختم ہونے پر آتش بازی چلا ئی۔ یہ ہنگامہ آسان فہم ہے۔ تحریک انصاف میں مختلف پارٹیوں سے آنے والے مختلف نظریات کے لوگ جمع ہیں۔ پارٹی نے ابھی تک صرف کرپشن روکنے کا نظریہ دیا ہے، اس پر آٹھ ماہ میںکوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ جب کہ بجلی، گیس، پانی، سبزیاں، دالیں شدید مہنگائی کی زد میں آ چکی ہیں۔ اس سے خود تحریک انصاف کے ارکان بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ مزید یہ کہ پارٹی کے اندر رہنما ایک دوسرے سے کھلم کھلا لڑ رہے ہیں!یکجہتی کیسی؟
٭لاہور میں سبزیوں اور مرغیوں کے نرخ اتنے بڑھ گئے ہیں کہ غریب لوگ تو پریشان ہیں خود دکاندار ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں کہ خریداری بہت کم ہوگئی ہے۔ مارکیٹ میںاچھے لیموں 480 روپے کلو، دوسرے درجے کے پیلے رنگ کے 350 روپے کلو، سیب 450 روپے کلو، یہی حال دوسری اشیا کا ہے۔ پکے ہوئے عام چنے 130 روپے فی پلیٹ! ملک کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں کوئی قابل ذکر پیش رفت ہو رہی ہو البتہ گیس کے نرخ بڑھا کر سوئی گیس، ناردرن نے سات ماہ میں 50 ارب روپے سے زیادہ کے منافع کا اعلان کر دیا ہے۔ ظاہر ہے یہ منافع عوام کی جیبوں سے ہی نکالا گیا ہے۔ ایسے عالم میں کہ ملک ابھی دیوالیہ پن کے حصار سے باہر نہیں نکلا، اسلام آباد میں ایک کتاب میلے پر کروڑوں روپے صرف کر دیئے گئے!
٭لاہور میں بے سہارا، لاوارث اور ستم زدہ خواتین کی پناہ کے لئے ’دارالامان‘ نام کا ایک ادارہ برسوں سے کام کر رہا ہے اس میں تین روز پہلے آئی ہوئی دو شادی شدہ لڑکیاں شمائلہ اور روبینہ غائب ہو گئیں۔ انکشاف ہوا کہ دونوں رات کے اندھیرے میں اوپر زیرمرمت کمرے میں گئیں، بیت الخلا کے اندرباہر کی طرف دیوار توڑی۔چند دوپٹے باندھ کر انہیں نلکے کی نالی کے ساتھ باندھا، انہیں باہر کی طرف لٹکا کر ان کے ذریعے باہر نیچے اتریں اور اپنے آشنائوں کے پاس بھاگ گئیں۔ حیرت یہ کہ انتظامیہ یا کسی چوکیدار کو دیواریں توڑے جانے کی آواز سنائی نہ دی۔ پولیس نے کسی طرح ان کا سراغ لگا لیا اور ان دونوں کو پکڑ کر جیل پہنچا دیا۔ ان میں سے ایک نے پولیس کو بتایا ہے کہ اس نے اس طرح فرار ہونے کا طریقہ ٹیلی ویژن پر ایک بھارتی ڈرامے سے سیکھا ہے۔ یہ بھی پتہ چلا کہ دونوں لڑکیاں تقریباً 25 سال کی عمر کی ہیں۔ دونوں اینٹوںکے ایک بھٹے پرکام کرتی تھیں۔ وہاں سے اپنے آشنائوں کے ساتھ بھاگ گئیں۔ ان کے خاوندوں کی درخواستوں پر پولیس نے انہیں برآمد کر کے دارالامان پہنچا دیا جہاں سے وہ پھر بھاگ گئیں۔ یہ کہانی خاصی سبق آموز ہے کہ ہمارے ٹیلی ویژن کس طرح معاشرے کو گمراہ کر رہے ہیں اور اس میں بے راہروی پھیلا رہے ہیں۔ ملک میں پیمرا نام کا ایک رسمی ادارہ بھی موجود ہے۔ اس نے ٹیلی ویژنوں پر بھارتی مواد نشر کرنے پرپابندی لگا رکھی ہے مگر کوئی فرق نہیں پڑا، آج ہی صبح ایک چینل کھولا اس پر بھارتی فلم چل رہی تھی اور نہائت بے ہودہ مناظر دکھائے جا رہے تھے۔ دو لڑکیوں کے دارالامان سے بھاگنے کی کہانی کیا بیان کر رہی ہے؟
٭وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گورنر ہائوس   جا کر گورنر اسماعیل سے ملاقات کی۔ دونوں نے کراچی اور سندھ کے حالات بہتر بنانے کے لئے افہام و تفہیم اور تعاون کا اظہارکیا۔ وزیراعلیٰ کا تعلق پیپلزپارٹی سے اور گورنر کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے سے کوسوں دور اور ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔ ایسے میں گورنر اور وزیراعلیٰ کی یہ ملاقات، حیرت! غالب کا شعر کہ ’’مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا جامَ مَے؟ ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں؟‘‘
٭کراچی: ایم کیو ایم نے جلسہ میں مطالبہ کیا ہے کہ سندھ کو تقسیم کر کے آدھا سندھیوں کو اور آدھا مہاجروں کو دے دیا جائے۔ ایم کیو ایم کے کنوینئر خالد مقبول صدیقی نے پھر دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان صرف ان کے بڑے بزرگوں نے بنایا تھا ۔ موصوف نے زور دیا ہے کہ سندھ دوحصوں میں تقسیم ہو کر رہے گا۔ ان باتوں کا جواب تو سندھ حکومت والے دے رہے ہیں مگر مجھے بھی ایک بار پھر کچھ کہنا ہے۔ ان کالموں میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ پاکستان بنانے میں جہاں لکھنو، دہلی، رام پور، علی گڑھ اور بھوپال کے شہروں نے قابل قدر حصہ لیا، ہاں اتنا ہی بھرپور کردار بھارت کے حصے میں آنے والے پنجاب کے شہروں نے ادا کیا۔ ایک سے زائد بار لکھ چکاہوں کہ میں نے 15 اگست کو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے سگے چچا، رشتہ کے تایا اور خاندان کے دوسرے افراد کو سرحد پرگولیاں لگتے اور شہید ہوتے دیکھا ہے۔ یہ منظر عمر بھر نہیں بھول سکا۔ میری والدہ اوربہنیں لاکھوں (اب کروڑوں) کی جائیدادیں چھوڑ کر تقریباً 20 میل پیدل ننگے سر پاکستان پہنچیں اور پھر ہم نے دو دن فاقے میں گزارے تھے، ہمارے پیچھے لٹے پٹے زخمی مہاجروں کی لمبی قطاریں تھیں، کیا ہم اور یہ لوگ مہاجر نہیں تھے۔ ایم کیو ایم والے بھارتی پنجاب کے لاکھوں مہاجرین کا ذکر کیوں نہیں کرتے؟ پنجاب کے ان لاکھوں افراد پاکستان پہنچ کر پاکستانی ہو گئے، کبھی مہاجر ہونے کا نعرہ نہیں لگایا۔ ویسے الطاف حسین، مقبول صدیقی وغیرہ مہاجر کیسے بن گئے؟ یہ سارے لوگ تو پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں۔ ان لوگوں نے پاکستان کے خلاف تو بہت نعرے لگائے کبھی پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگا لیں؟
٭ایک گزارش پھر چھاپ رہا ہوں کہ ان کالموںکے ذریعے ہر سال رمضان المبارک کی آمد پر ایک ایک کمرے میں رہنے والی اور لوگوںکے گھروں میں کام کرنے والی کچھ بیوائوں اور معذور افراد کے گھروں میں رمضان کے پورے مہینے کا راشن فراہم کیا جاتا ہے۔ پچھلے سال یہ تعداد تقریباً 13 ہو گئی تھی۔ اس بار بھی ان کی اپیلیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں میرے فون نمبر 0333-4148962  کے ذریعے تفصیل معلوم کی جا سکتی ہے۔ ان لوگوں میں سے ایک گھر کا سربراہ کس مپرسی کا عالم میں شیخ زائدہسپتال میں پڑا ہے۔



 

تازہ ترین خبریں