07:12 am
 سیدھے راستے کی تلاش

سیدھے راستے کی تلاش

07:12 am

حضرت ابو بکر صدیقؓ کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا۔انہوں نے کسی بت کے آگے سجدہ نہیں کیا ۔ گویا وہ اندر سے اس حقیقت کو پا چکے تھے لہٰذا جیسے ہی نبی اکرم ﷺ نے ان کو دعوت دی تو ایک لحظہ کا توقف کیے بغیر فوراً لپک کر اسلام قبول کر لیا
گرشتہ سے پیوستہ
حضرت ابو بکر صدیقؓ کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا۔انہوں نے کسی بت کے آگے سجدہ نہیں کیا ۔ گویا وہ اندر سے اس حقیقت کو پا چکے تھے لہٰذا جیسے ہی نبی اکرم ﷺ نے ان کو دعوت دی تو ایک لحظہ کا توقف کیے بغیر فوراً لپک کر اسلام قبول کر لیا ۔اسی طرح عشرہ مبشرہ کے ہی ایک صحابی  حضرت سعید بن زید ؓ  ہیں ۔ ان کے والد زید کا انتقال آغاز وحی سے قبل ہی ہو گیا تھا لیکن کہا جاتا ہے کہ وہ بیت اللہ کے پردے پکڑ پکڑ کر التجا کرتے تھے کہ پروردگار میں صرف تجھے ہی پوجنا چاہتا ہوں، مجھے بتا کہ کیسے پوجوں؟
ایک ایسا ہی شخص جو حقیقت کے قریب پہنچا ہوا ہو اسی کے احساسات کو سورۃ الفاتحہ میں بیان کیا گیا ہے ۔گویا یہ سورۃ ایک سلیم الفطرت انسان کے دل کی پکار ہے ۔وہ اپنے رب کو پہچانتا ہے مگر اب چاہتا ہے کہ اُسے مزید راہنمائی مل جائے تاکہ وہ زندگی کے جس امتحان سے گزر رہا ہے اس میں کامیاب ہو جائے ۔
’’کل شکر اور کل ثنا اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار اور مالک ہے۔‘‘
جو شخص حقیقت کو پا چکا ہے وہ جانتا ہے کہ اللہ ہی اس کائنات کو بنانے والا ہے اور وہی تمام تر تعریف کے لائق ہے ۔
’’بہت رحم فرمانے والا‘ نہایت مہربان ہے ۔‘‘
دنیا میں بھی آپ دیکھیں کہ ماں کے دل میں اپنی اولاد کے لیے کتنی شفقت ہوتی ہے ۔ یہ جذبہ ماں کے دل میں جس نے ڈالا وہ خود کتنا مہربان ہو گا ؟ایک سلیم الفطرت شخص کو اپنے رب کی اس رحمانیت کا بھی احساس ہے۔
’’ جزا و سزا کے دن کا مالک و مختار ہے۔‘‘
ایک سلیم الفطرت شخص کو محسوس ہو رہاہے کہ یہ دنیا نامکمل ہے ۔اس لیے کہ یہاں ظالم کے ظلم کی کوئی حد نہیں اور مظلوم کی بے بسی کا کوئی حل نہیں لہٰذا کوئی ایسا عالم ضرور ہوگا جہاں ظالموں کو ان کے ظلم کی بھرپور سزا ملے گی اور جو مظلوم ہیں ان کی داد رسی کی جائے گی ۔لہٰذا ایسا شخص عہد کرتا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے مگر میں اپنے رب ہی کی بندگی کروں گا اور اُسی کی مدد کا طالب رہوں گا ۔
’’ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور ہم صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں اور چاہتے رہیں گے۔‘‘
اس عہد کے بعد پھر وہ اپنے رب سے دعا بھی کرتا ہے کہ :’’(اے ربّ ہمارے!) ہمیںہدایت بخش سیدھی راہ کی۔ راہ اُن لوگوں کی جن پر تیرا انعام ہوا‘  جو نہ تو مغضوب ہوئے اور نہ گمراہ۔‘‘
یہ ہے ایک سلیم الفطرت انسان کے دل کی پکار۔ ایک ایسی دعا جس کے نتیجے میں پورا قرآن ہدایت اور راہنمائی کی صورت میں اللہ نے عطا کیا ۔ اس سورت کی بڑی عظمت ہے ۔ ایک حدیث مبارکہ ہے کہ ایک مرتبہ حضورﷺ نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے سوال کیا کہ: ’’تمہیں معلوم ہے کہ وہ کون سی سورت ہے جو نہ تو رات میں ہے نہ زبور میں اور نہ پچھلی کتابوں میں ہے اور نہ قرآن میں اس کے مثل کوئی سورت ہے ‘‘ ۔ حضرت ابی بن کعب ؓ کا رویہ بڑا عالمانہ تھا اور ان میں علم کی پیاس رہتی تھی اسی لیے حضور ﷺ نے ان کو قرآن کے بہت بڑے عالم کا خطاب دیا تھا ۔ ، اسی لیے حضور ﷺ نے ان سے یہ سوال کیا تھا مگر وہ جواب نہ دے سکے ۔پھر  حضور ﷺ نے خود ہی فرمایاکہ :’’ وہ سورت سورۃ الفاتحہ ہے ۔‘‘ اسی سورت کو قرآن میں سبع مثانی کہا گیا ہے ۔ہر رکعت میں ہم یہ دعا دہرا رہے ہوتے ہیں جو کہ ایک سلیم الفطرت انسان کے دل کی پکار ہے ۔ اللہ نے اس دعا کو نماز کی ہر رکعت کا لازمی جزو بنا دیا ۔ اس لیے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس دنیا میں ہماری اصل ضرورت کیا ہے ؟
ہمیں دنیوی ضرورتوں کی بہت فکر رہتی ہے لیکن اگر حقیقت کے اعتبار سے سوچیں تو دنیا تو ہے ہی چار دن کی ،  مستقبل تو ایک ہی ہے اور وہ موت کی سرحد کے پار ہے۔ دنیامیں کوئی مستقبل نہیں ہے ۔لیکن ہم نے دنیا کو ہی مستقبل بنالیا۔ہم اپنی اولاد کو بھی اسی مستقبل کی فکر دلا رہے ہوتے ہیں ۔ حالانکہ یہ دنیا مستقبل نہیں بلکہ ایک امتحان گاہ ہے جہاں ہمیں آزمائش کے لیے عارضی طور پر ٹھہرایا گیا ہے ۔ ’’اور ہم آزماتے رہتے ہیں تم لوگوں کو شر اور خیر کے ذریعے سے۔‘‘(الانبیاء:35)
اس امتحان گاہ میں ہم مقررہ مدت کے لیے ہیں ۔ وہ مدت ختم ہوتے ہی ہمیں یہاں سے اُٹھا لیا جائے گا ۔ اب اگر کوئی شخص کمرہ ٔ امتحان میں بیٹھ کر یہ سوچے کہ مجھے یہیں سب کچھ مل جائے ، دنیا کی تمام سہولتیں میسر آجائیں اور اُسی کو وہ مستقبل سمجھ لے تو اس سے بڑا احمق کون ہوگا ؟ حالانکہ اس امتحان گاہ میں اصل ضرورت ہمیں گائیڈ بک کی ہے ، راہنمائی کی ہے ۔ کوئی ایسا راہنما یا گائیڈ بک ہمیں مل جائے جوہمیں سیدھا راستہ دکھا دے کہ جس پر چل کر ہم کامیاب ہو جائیں ۔چنانچہ اللہ کو ہماری اصل ضرورت کا علم تھا ۔اس لیے اس کو دعا کی صورت میں سورۃ الفاتحہ میں محفوظ فرمایا :’’(اے ربّ ہمارے!) ہمیںہدایت بخش سیدھی راہ کی۔ راہ اُن لوگوں کی جن پر تیرا انعام ہوا‘ جو نہ تو مغضوب ہوئے اور نہ گمراہ۔‘‘
اللہ کے انعام یافتہ لوگ کون ہیں ؟اس کی تفصیل  قرآن مجید میں دومقامات پر آئی ہے کہ یہ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیںاور جو لوگ گمراہ ہوئے اور ان پر اللہ کا غضب ہوا ، ان کے حوالے سے احادیث میں وضاحت آئی ہے کہ مغضوب علیھم سے مراد یہود ہیں۔ویسے تو پوری دنیا میں شرک رہا ہے لیکن یہ وہ لوگ تھے جو انبیاء کی نسل سے تھے۔ان کے پاس بے شمار انبیاء ورُسل اور اللہ کی کتابیں آئیں۔لیکن انہوں نے پھر بھی اللہ کے دین سے بغاوت کی۔لہٰذا ان پر اللہ کا غضب ہوا ۔یہاں یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ ہدایت کا مل جانا ہی کامیابی کی گارنٹی نہیں ہوتی بلکہ اس ہدایت پر چلنا ،ا س کے مطابق عمل بھی کرنا اصل کامیابی ہے ۔یہاں الضَّآلِّیْن کا لفظ اسی وضاحت کے لیے آیا ۔ ضال کے معنی ہیں بھٹکا ہوا ۔جیسے کوئی مسافر اپنی منزل پر تو پہنچنا چاہتا ہے مگر راستے میں بھٹک گیا لہٰذا اب وہ منزل سے دور ہوگیا ۔یہاں ضالین کے مصداق عیسائیوں کو کہاگیا۔خاص طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وہ پیروکار جنہوں نے انبیاء ورسولوں کی اصل تعلیمات کو چھوڑ کررہبانیت اختیار کرلی۔ جیسے سورۃ الحدید میں فرمایا :’’اور رہبانیت کی بدعت انہوں نے خود ایجاد کی تھی ۔ہم نے اسے ان پر لازم نہیں کیا تھامگر اللہ کی خوشنودی کی تلاش میں‘‘(آیت :27 )یہ راستہ نہ تو حضرت عیسیٰ ؑنے بتایا تھااور نہ ہی انجیل کی یہ تعلیمات تھیں ۔لیکن عیسائی اپنی طرف سے اس کو نیکی سمجھ کر اس راستے پر چل پڑے ۔لہٰذا وہ بھی بھٹک گئے ۔یعنی انبیاء ورسل اور کتابوںکو ماننے کے باوجود سیدھی راہ سے ہٹ گئے ۔ کہیں ہم بھی ایسی ہی غلطی نہ کر بیٹھیں اس لیے اللہ نے ہمیں یہ دعا بھی سکھائی کہ : اس کے بعد آمین کہنا چاہیے کہ پروردگار ہماری یہ دعا قبول ہوجائے۔ہماری اسی دعا کے جواب میں پورا قرآن اللہ نے ہمیں عطا کیا ہے جو کہ ہمیں سیدھی راہ بتاتا ہے اور اس کا آغا زاسی انداز میں ہوتا ہے : ’ا ۔ ل ۔ م۔  ’’یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔‘‘

 

تازہ ترین خبریں