07:17 am
اسلحہ کے مقابلے میں ڈگریوں کا کیا فائدہ؟

اسلحہ کے مقابلے میں ڈگریوں کا کیا فائدہ؟

07:17 am

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سوال اٹھایا تھا کہ ’’مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے مودی سرکار پر سکتہ کیوں طاری ہو جاتا ہے‘‘ ؟ پاکستان میں رہنے والے جن لوگوں کو بھارتی عدلیہ پر پاکستانی عدلیہ سے زیادہ اعتماد ہے
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سوال اٹھایا تھا کہ ’’مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے مودی سرکار پر سکتہ کیوں طاری ہو جاتا ہے‘‘ ؟ پاکستان میں رہنے والے جن لوگوں کو بھارتی عدلیہ پر پاکستانی عدلیہ سے زیادہ اعتماد ہے … انہیں چاہیے کہ وہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے مجرموں کی رہائی کے عدالتی فیصلے کو ضرور پڑھیں‘ جس میں ان کی عبرت کا بہت سا مواد موجود ہے ‘ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے جن مجرموں کو بھارتی عدالت نے بری کرنے کا فیصلہ سنایا‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان مجرموں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔
سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے متعصبانہ اور ظالمانہ عدالتی فیصلے کے بعد یہ بات لکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ بھارتی عدالتوں کے جج بھی نریندر مودی کی طرح ہندو شدت پسندی کے گند سے بھرے ہوئے ہیں‘ ہندو چاہے کتنا بڑا یا ظالم اور درندہ صفت دہشت گرد کیوں نہ ہو لیکن اگر اس کے ہاتھوں سے  مسلمان قتل ہوئے ہوں گے تو وہ ثبوتوں کے باوجود عدالت سے رہائی پا جائے گا۔
ہمارے ہاں بسنے والے بھارتی لابی کے خرکار‘ ٹی وی ٹاک شوز کے ذریعے یہ دروغ گوئی کرتے ہوئے نہیں تھکتے کہ کشمیری مجاہدین پاک بھارت دوستی میں رکاوٹ ہیں‘ جبکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں موجود بھارتی لابی کے خرکار یا ’’فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی‘‘ جیسے جاہلانہ جملے کہنے والے فنکار بھی انڈیا چلے جائیں تو بھارتی ہندو ان کے وجود برداشت کرنے کے لئے صرف اس لئے تیا ر نہیں ہیں کیونکہ ان کی نسبت چاہے ظاہری طور پر ہی سہی مگر اسلام کی طرف کی جاتی ہے اور وہ پاکستانی تصور کیے جاتے ہیں … اسلام اور پاکستان نریندر مودی اینڈ کمپنی کے دل کا روگ بن چکا ہے ‘ اسلام اور پاکستان کے خلاف تقریریں کر‘کرکے مسلمانوں کیخلاف نعرے لگا‘ لگا کر مسلمانوں پر الزامات کی بارش کرتے کرتے … مجھے شک ہے کہ کہیں نریندر مودی اینڈ کمپنی کپڑے پھاڑ کر سڑکوں پر ہی نکل پڑے…اسلام ‘ پاکستان اور مسلمانوں پر بھونکنے والوں کو کوئی بتائے کہ اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے‘ جسے ساری دنیا کے کافر‘ مشرک اور منافق مل کر اسلام کو پھیلنے سے نہیں روک سکے … ویسے ہی یہ سارے مل کر اسلام کو غالب آنے سے بھی نہیں روک سکیں گے (ان شاء اللہ) یہ خاکسار اپنے آپ کو اس قلم قبیلے سے بری سمجھتا ہے کہ جسے اسلام پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے (نعوذ باللہ) جو یہود و نصاریٰ اور ہنود کی طاقت اور ثقافت سے  مرعوب ہوکر بوکھلایا‘ بوکھلایا سا اپنے ہی مسلمانوں کے خلاف ’’قلم‘‘ کو استرا بنانے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے بلکہ مجھے اپنے مسلمان اور پاکستانی ہونے پر فخر ہے ‘ میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کا احترام کرتا ہوں لیکن بدنام زمانہ مودی اینڈ کمپنی اور مودی مائنڈ سیٹ کے سامنے سرجھکانا بھی اسلام اور پاکستانیت کے خلاف سمجھتا ہوں۔
مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے حوالے سے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ  نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم عروج پر ہیں‘ جہاں تعلیم یافتہ افراد اور دانشوروں کو بھی ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔امریکی اخبار کے مطابق دو  روز قبل کشمیر یونیورسٹی کے پروفیسر محمد رفیع اچانک لاپتہ ہوگئے جس کے بعد ان کی لاش ملی‘31 برس کے پروفیسر رفیع نے کشمیر یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی تھی ‘ جن کے سامنے شاندار مستقبل تھالیکن انہوں نے بھارت کے خلاف مزاحمتی تحریک میں شمولیت اختیار کی۔
رپورٹ کے مطابق ’’پروفیسر‘‘ تمام طلباء کے پسندیدہ استاد تھے ‘ اور وہ ایسے دانشور تھے جنہوں نے صارفین پر نمایاں تحقیق کی تھی‘ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پروفیسر محمد رفیع کے علاوہ انجینئر عیسیٰ بھی مزاحمتی تحریک میں شامل تھے جو آخری سمسٹر میں لاپتہ ہوئے اور چند ماہ بعد مبینہ مقابلے میں شہید ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق کشمیری انجینئر کی  شہادت کے بعدنوجوان انپے والدین سے پوچھتے ہیں کہ اسلحہ کے مقابلے میں ڈگریوں کا کیا فائدہ؟ امریکی اخبار کی تحقیق کے مطابق2008ء کے بعد سے مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی یہ تحقیقاتی رپورٹ نہ جانے امریکی حکمرانوں اور اقوام متحدہ کی آنکھوں سے اوجھل کیوں ہے؟ جو امریکہ‘ برطانیہ اور فرانس‘ بھارت کو خوش کرنے کیلئے مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف سلامتی کونسل میں تحریک پیش کرسکتے ہیں … وہ کشمیر کے مسلمانوں کو بھارتی فوج کی درندگی سے بچانے کیلئے نریندر مودی پر دبائو کیوں نہیں ڈال سکتے؟لیکن یہ تب ممکن تھا کہ جب امریکی صدر ٹرمپ اور اس کے ہمنوا حکمرانوں کے دلوں میں انسانیت نوازی کا جذبہ موجود  ہوتا‘ مقبوضہ کشمیر میں صرف ایک پروفیسر رفیع یا انجینئر عیسیٰ کی بات نہیں وہاں تو بھارتی مظالم سے تنگ آیا ہوا ہر پیر و جوان جہادی تحریک کا حصہ بن چکا ہے۔
صرف مرد ہی نہیں بلکہ کشمیری خواتین بھی تحریک جہاد کشمیر میں نمایاں کردار ادا کررہی ہیں … عادل احمد ڈار کے فدائی حملے کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی‘ سوال یہ ہے کہ ایک خوبصورت اور معصوم نوجوان اپنی جان دیکر48 بھارتی فوجیوں کے پرخچے اڑانے پر کیوں مجبور ہوا؟ عادل احمد ڈار تو کشمیری النسل تھا‘ اس کا گھر کشمیر میں تھا اس کے والدین کشمیر میں موجود  ہیں لیکن اس کے ہاتھوں جو بھارتی فوجی مارے گئے ان میں سے تو کوئی ایک بھی کشمیری نہیں تھا … آخر یہ بھارتی ریلو کٹے مقبوضہ کشمیر میں کیا کررہے تھے؟ بھارت کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے بھارتی فوجی جب کشمیر کی دھرتی پر جاکر بے گناہ کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلیں گے تو اس کے ردعمل میں عادل ڈار‘ برہان وانی ‘سجاد افغانی ‘ پروفیسر رفیع اور انجینئر عیسیٰ جیسے سرفروش ہی پیدا ہوں گے ‘ کسی کو اچھا لگے یا برا! مگر میں یہ بات  لکھے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اگر حکمران پاکستان کی سرزمین کشمیریوں کے لئے استعمال نہ بھی ہونے دیں … تب بھی کشمیر میں جاری جہاد کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔مقبوضہ کشمیر کا بچہ ‘ بچہ آزادی کے حصول کے لئے سربکف نظر آرہا ہے‘ بھارتی مظالم خود بھارتی حکمرانوں کے گلے کا پھندا ثابت ہوں گے۔ (ان شاء اللہ)


 

تازہ ترین خبریں