07:18 am
کرتار پور کے بعد شاردا

کرتار پور کے بعد شاردا

07:18 am

گزشتہ برسوں میں بھارت نے  توپخانے کے گولوں سے  وادی نیلم میں نہتے عوام سمیت شاردا مندر کو بھی نشانہ بنایا۔ شاردا کا فاصلہ مظفر آباد  سے136کلو میٹراور کیرن سے 30کلو میٹر ہے ۔شاردا کا محل و وقوع ایک پیالے جیسا ہے۔
گزشتہ برسوں میں بھارت نے  توپخانے کے گولوں سے  وادی نیلم میں نہتے عوام سمیت شاردا مندر کو بھی نشانہ بنایا۔ شاردا کا فاصلہ مظفر آباد  سے136کلو میٹراور کیرن سے 30کلو میٹر ہے ۔شاردا کا محل و وقوع ایک پیالے جیسا ہے۔ جس کے چاروں اطراف اونچے خوبصورت پہاڑ اور جنگلات ہیں۔ آمنے سامنے دو پہاڑیاں شاردا اور ناردا کے نام سے موسوم ہیں۔ جن کے بیچوں بیچ ایک نالہ بہتا ہے جسے مدھو متی کہا جا تا ہے۔ اسی نالے میں ہندو اشنان کرتے تھے۔نواح میں کشن گھاٹی ہے۔ شاردا کے درمیان سے دریائے نیلم بہتا ہے۔ جسے بھارت میں کشن گنگا کہا جا تا ہے۔ اسی دریا پر بانڈی پورہ مقبوضہ کشمیر میں کشن گنگا پروجیکٹ تعمیر ہو رہا ہے۔ بھارت نے اس دریا کا پانی روک کر ڈیم میںڈال دیا ہے۔یہاں ہزاروں سال پہلے بدھ ازم کی یونیورسٹی قائم تھی۔ جس کے آج کھنڈرات موجود ہیں۔اسی یونیورسٹی کی یاد میں بھارت نے دہلی کے قریب شاردا نامی یونیورسٹی قائم کی ہے۔ شاردا سے ایک راستہ چلاس کے راستے لداخ اور گلگت بلتستان کو جاتا ہے۔ ایک راستہ ناراں کاغان کی طرف سے سرحد کو جاتا ہے۔ کہتے ہیں شاردا سے ٹیکسلا تک دنیا بھر کے طلباء تحقیق کے لئے محو سفر رہتے تھے۔ شاردا کئی بار جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ایک عمر رسیدہ بزرگ نے بتایا کہ ان کے آباء واجداد  کہتے تھے کہ یہاں کبھی دنیا بھر سے بدھ ازم  اور ہندو مذہب کے پیروکار گیان کے لئے آتے تھے۔
یہاں کبھی مہاراجے اورامراء ہاتھیوں پر سفر کرتے تھے۔ آزاد کشمیر کی نیلم وادی میں قائم 5ہزار سالہ قدیم مندر ’شاردا پیٹھ‘ کو پاکستان نے کرتار پور راہداری کی طرز پر کھولنے کا گرین سگنل دیا جس کاکشمیری پنڈت طویل عرصے سے دونوں حکومتوں سے مطالبہ کررہے تھے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے شاردا راہداری کھولنے کیلئے باقاعدہ ایک تجویزپاکستان کو بھیجی جاچکی ہے۔ حکومتی رکن قومی اسمبلی شاردا کا دورہ کرکے رپورٹ وزیراعظم کوپیش کریں گے۔تحریک انصاف کے اقلیتی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمارکے مطابق پاکستان نے شاردا مندرکی بحالی اور راہداری کھولنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے، وہ  چندروز میںشاردا جانے کی بات کر رہے تھے، کورکمانڈر راولپنڈی سے ملاقات  کے بعد وزیراعظم عمران خان کورپورٹ پیش کریں گے ، پاکستانی ہندو بھی شاردا جاسکیں گے، رواں سال ہی یہاں بحالی کا کام شروع کروادیا جائیگا۔متروکہ وقف املاک بورڈ کے مطابق  شاردا مندر آزاد کشمیرحکومت کے زیرانتظام ہے اور وہی راہداری کھولنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرسکتی ہے۔ یہ جنگ بندی لکیر پر واقع  علاقہ ہے ۔اس علاقے کوانتہائی حساس سمجھا جاتا ہے اوریہاں غیرملکی سیاح بھی این اوسی کے بغیرنہیں جاسکتے تھے۔اب حکومت نے این او سی کے بغیر آزاد کشمیر میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد کی اجازت دی ہے۔ شاردامندرپنڈتوں کا قدیم ترین مندر سمجھا جاتا ہے جو علم ودانش کی دیوی شاردا کے نام سے منسوب ہے۔شاردا کو  237 قبل از مسیح میں مہاراجہ اشوکا نے تعمیرکروایا تھا۔ مندرکے قریب ہی مدومتی کا تالاب تھا، اوریہاں زائرین اشنان کرتے ہیں۔مگر اب یہ تالاب موجود نہیں۔ البتہ نالہ مدھو متی میں شفاف اور ٹھنڈا پانی بہتا ہے۔ سامنے سے دریائے نیلم گزرتا ہے۔ کیرن کے جمگنڈ علاقے سے47ء سے قبل لوگ پوجا پاٹ کیلئے  آتے تھے۔
 نیلم ایک خوبصورت علاقہ ہے اور مظفرآباد سے کیل تک ایک نیشنل ہائی وے بھی گزرتی ہے جس کو ٹیٹوال، کیرن کے لوگ سامنے دیکھ سکتے ہیں۔  کیرن اور مظفرآباد کے درمیان کیرن کے قریب آزاد کشمیر کا ضلع اٹھ مقام بھی آتا ہے۔ کیرن اور کرناہ 1947ء سے قبل ضلع مظفرآباد کے علاقے تھے تاہم جب تقسیم ہوئی تو نیلم آزاد کشمیر اور آدھا کیرن اور کرناہ مقبوضہ کشمیر میں آگیا جس کے بعد نہ صرف کشمیری پنڈت شاردا جا سکے اور نہ ہی مسلم آبادی اپنے بچھڑے ہوئے لوگوں کو مل پائی۔ سال2005ء میں دونوں حکومتوںنے ٹیٹوال میں  دریائے نیلم (کشن گنگا) پر ایک پل تعمیر کیا جس کے آدھے حصے کو آزاد کشمیر کی حکومت نے تعمیر کیا اور آدھا حصہ مقبوضہ کشمیر نے، جس کے بعد بچھڑے لوگوں نے اس پل سے آر پار ہو کر بچھڑوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ حکومت پاکستان کی طرف سے کرتار پور راہ داری کے بعد شاردا پیٹھ،مندر کا راستہ ہندوئوں کیلئے کھولنے کے اعلان کا ہرمکتب فکر کی طرف سے خیر مقدم کیا جا رہا ہے اور اس اقدام کو پاک بھارت  دوستی کیلئے اچھا اور سودمند سمجھا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان کایہ اقدام بھارت میں سراہاجارہا ہے اور لوگ اسے ایک اچھے شگون سے تعبیر کر رہے ہیں کیونکہ کرتار پور راہداری سکھوں کے لئے جس طرح ایک اچھے شگون سے تعبیر کی جا رہی ہے اُسی طرح بھارتی ہندوئوں کیلئے یہ اعلان خوش آئند قرار دیاجا سکتا ہے۔ بھارتی ہندوئوں کی طرف سے طویل عرصہ سے دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا جا تا رہا تھاکہ شاردا پیٹھ تک جانے کی ان کو اجازت دی جائے۔ گذشتہ دنوں پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے اچانک اعلان کیا گیا کہ کرتار پور راہداری کے بعد اب ہندوئوں کیلئے شاردا پیٹھ مندر کا راستہ کھول دیاجائے گا۔  ہندومیتھالوجی کے مطابق علم دانش کی دیوی شارداکے نام سے منسوب  مندر کے قریب ہی مدھومتی تالاب کے پانی کو ہندو کٹاس راج کی طرح مقدس مانتے ہیں اور یہاں وہ باضاطہ اشنان کرتے ہیں۔تحریک انصاف کے اقلیتی رُکن اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار کے مطابق پہلے مرحلے پرشاردا  پاکستان میں رہنے والے ہندوئوں کیلئے کھولاجائیگا جبکہ اس کے بعد بھارتی ہندوئوں کو بھی شاردا آنے کی اجازت دی جائے گی۔ حکومت پاکستان کے اصولی طور پر اس مندر کو کھولنے کے فیصلہ سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ خیر سگالی جذبات کے تحت دوستی چاہتا ہے اور امن سے رہنا چاہتا ہے۔ بھارت کو بھی چاہئے کہ وہ پاکستان کے اس عمل کا مثبت رد عمل ظاہر کرے، مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوںکے مطابق حل کرنے کی طرف توجہ دے، کشمیریوں کا قتل عام اور ماردھاڑ بند کرے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار امن اور رشتہ قائم ہو سکے۔اگر بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کیخلاف جنگ نہ کریں بلکہ وہ اپنے مشترکہ دشمنوں، بھوک،افلاس، بیماریوں، بے روزگاری وغیرہ کیخلاف بھرپور جنگ لڑیںتو  لوگوں کا مستقبل تابناک بن سکتا ہے۔ دونوں ملکوں کو اس وقت جن حالات کا سامنا ہے وہ ایک دوسرے سے مختلف نہیں۔بے روزگاری سب سے بڑ امسئلہ ہے،بیماری اس سے بھی زیادہ  بڑامسئلہ ہے لیکن بھارت میں ہندو انتہا پسند حکومتیں ان بنیادی مسائل سے نمٹنے کے بجائے صرف جنگ و جدل کی باتیں کرتی ہیں۔ اربوں کروڑوں کی رقم ہتھیار خریدنے پر خرچ کی جا تی ہے۔ اگر یہی رقم لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے خرچ کی جا تی تو آج دونوں ملک کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہوتے۔ اس لئے بھارتی  حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ جنگ و جدل کی باتوں کو چھوڑ کر پاکستان  کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں اورکشمیر سمیت  تمام متنازعہ مسائل کو حل کرنے کیلئے بات چیت کا سلسلہ شروع کریں۔ اسی میں دونوں ملکوں کی خوشحالی کا راز مضمر ہے۔

 

تازہ ترین خبریں