08:31 am
معراج شریف کے اہم واقعات

معراج شریف کے اہم واقعات

08:31 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
معراج کی تاریخی سیر میں رسول ﷺنے حضرت  جبرائیل ؑ کو ان کی اصل بارُعب صورت میں بھی دیکھا اور ان کی صفت میں یہ بھی فرمایاکہ جبرائیل ؑ کے پَروں کی تعداد چھ سوہے اور ان سے موتی اور یاقوت جھڑتے ہیں اور ان کی وسعتوں کا عالم یہ ہے کہ جبرائیل ؑ ان پَروں سے افق آسمان کو ڈھانپ لیتے ہیں۔

رسول اﷲﷺسے روایت ہے آپ نے حضرت جبرائیل ؑ سے فرمایایہ کیا بات ہے کہ میں جس آسمان پر پہنچا وہاں والوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور مسرت وشادمانی کا اظہار کیا علاوہ ایک فرشتہ کے ،میں نے اسے سلام کیا اس نے جوا ب تودیااورخوش آمدید بھی کہا لیکن خوش نہ ہوا اور نہ ہنسا ؟حضرت جبرائیل ؑ نے عرض کیا ،حضور ! یہ دار غہ جہنم مالک ہے اپنی پیدائش سے لے کر اب تک اسے کبھی ہنسی نہ آئی اگر وہ کسی کے لئے ہنستا تو آپ کے لئے ہنستا ۔آپ شب میں مدارج رفعت طے کرتے کرتے قاب قوسین کے مرتبہ کو پہنچے جو نہ کسی کو ملا اور نہ کسی نے اس کا قصد کیا ۔
آپ جسم وروح دونوں کے ساتھ آسمانوں کی بلندیوں پر پہنچے اور آپ کا یہ اوپر کا سفر ہر بلندی کے سفر سے بالاتر ہے ۔آپ اس مرکز سے بھی اوپر تشریف لے گئے جہاں خالق خلق اپنے قلموں سے فیصلے جاری کرتا ہے ۔پھر رب کائنا ت نے آپ کو وحی کی ۔کتنے ہی راز ہیں اس وحی میں ۔اسی طرح نبی ﷺنے معراج میںایسے لوگوں کوبھی دیکھا جن کے سر پتھر سے توڑے جاتے ہیں اور جب ٹوٹ جاتے ہیں تو پھر پہلے کی طرح درست ہوجاتے ہیں اور سزاکی اس کاروائی میں کوئی کمی نہیں کی جاتی یعنی عذاب کا یہ سلسلہ پیہم جاری رہتا ہے ان لوگوں کے بارے میں حضرت جبریل ںنے حضور ﷺکو بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے سر فرض نماز سے بوجھل ہوجاتے تھے ۔اسی طرح نبی ﷺنے ایسے لوگوں کودیکھا جن کے آگے پیچھے پیوند لگے ہوئے تھے ،وہ اس طرح چر رہے تھے جیسے اونٹ اور بکریا ں چرتی ہیں اور وہ جہنم کے پتھر کھارہے تھے ۔نبی ﷺنے حضرت جبرائیل ؑ سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادانہ کرتے تھے ۔ اسی طرح کچھ ایسے لوگوں کا مشاہدہ کیا جن کے سامنے ہانڈی کا پکا ہو اگوشت تھا اور انہیں کے سامنے دوسری ہانڈی میں خبیث اور کچا گوشت تھا ۔یہ لوگ کچا اور خبیث گوشت کھا رہے تھے اور پاک پکا ہوا گوشت چھوڑ رہے تھے ۔حضرت جبرائیل ؑ نے سیّد کائنات ﷺکو ان کے بارے میں بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ انکے پاس جائز اور پاکیزہ عورتیں موجود تھیں مگر وہ خبیث عورتوں کے پاس جاکر زنا کی لعنت میں مبتلا ہوتے تھے ،اسی طرح وہ عورت بھی جس کی شادی پاکیزہ مرد سے تھی مگر وہ خبیث مرد کے پاس جاکر زنا کی مرتکب ہوتی تھی اور نبیﷺکا گزر راستے میںایک ایسی لکڑی کے پاس سے ہو اجس کے پاس اگرکوئی کپڑا گزرتا تو اسے وہ لکڑی چاک کردیتی یا کوئی شے گزرتی اسے بھی چاک کردیتی۔ حبیب ﷺنے پوچھا !جبریل یہ کیا ہے ؟حضرت جبریلں نے بتایا آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں جو راستوں پر بیٹھتے اور راستہ کاٹاکرتے ہیں پھر نبی ﷺایک ایسے شخص کے پاس آئے جو بہت زیادہ لکڑیاں جمع کررہاہے اور انھیں اٹھانہیں پارہا ہے اور زیادہ کرتا جارہا ہے ۔نبی ﷺنے پوچھا !جبریل یہ کون ہے ؟حضرت جبرائیل ؑ نے جو اب دیا ،یہ آپ کی امت کے وہ شخص ہے جسکے پاس لوگو ں کی امانتیں ہوتیں اور وہ انکی ادائیگی پر قادر نہ ہوتا اور مزید جمع کرتا جاتا وہ انکواُٹھانا چاہتا ہے مگر اٹھا نہیں سکتا ۔
اسطرح شب ِمعراج میں نبی ﷺنے ایسے لوگوں کوبھی دیکھا جن کی زبانیں اور ہونٹ لوہے کی قینچی سے کاٹے جاتے تھے اور جب بھی کاٹ دیئے جاتے پھر دوبارہ صحیح ہوجاتے ۔اس سلسلہ میں کوئی کمی نہ آتی یہ سلسلہ برابر جاری رہتا۔نبی ﷺنے فرمایا،جبریل ! یہ کون ہیں ،انھوں نے عر ض کیا، یہ آپ کی امت کے مقررین ہیں،فتنہ پرور مقررین ،یہ جو کہتے تھے اس پر خود عمل نہ کرتے تھے ۔
اسی طرح نبی ﷺنے شب معراج میں ایسے لوگوں کا بھی مشاہدہ کیا جن کے منہ کھولے جاتے اور آگ کے گیندان کے منہ میں ڈال دیئے جاتے پھر یہ گیندان کے نیچے سے باہر نکل جاتے یہ وہ لوگ تھے جو یتیموں کا مال غلط طور سے کھاتے تھے ۔
جو لوگ یتیموں کامال ظلم کے ساتھ کھاتے ہیں وہ صرف اور صرف اپنے پیٹوں میںآگ کھاتے ہیں اور وہ جلدہی بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے ۔پس اے اﷲ !  اس نبی کریم ﷺپر اپنا درود نازل فرما اور ہم سب کو آپ کی شفاعت سے بہرہ و ر فرما(آمین )
جیسا کہ رسول اﷲﷺسے ثابت ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا ،میں نے جہنم کا مشاہدہ کیا تو کیا دیکھتا ہو ں کہ اس میں زیادہ تر تعداد عورتوں کی ہے صحابہ نے عر ض کیا ،یا رسول اﷲﷺایسا کیوں ہے ؟نبی ﷺنے فرمایا، اپنی ناشکری کی وجہ سے عر ض کیا گیا کہ کیا وہ اﷲکی ناشکری کرتی ہیں اور احسا ن فراموشی کرتی ہیںفرمایاشوہر کی ناشکری کرتی ہیں احسان فراموشی کرتی ہیں اگر تم کسی ایک کے ساتھ زمانہ بھر تک احسان کرتے رہوپھر اس نے ذراسا بھی فر ق دیکھا تو کہہ اٹھی تم سے تو میں نے کبھی کوئی بھلائی دیکھی ہی نہیں ۔(البخاری مرجع سابق، مجلد ۱، ص ۱۵)


شب معراج کی صبح نبی ﷺنے حضرت اُمّ ہانی رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے جب واقعہ معر اج بیان کیا تو انہوں نے رسول اﷲﷺسے عر ض کیا۔ یارسول اﷲﷺ یہ واقعہ آپ اپنی قو م کے سامنے نہ بیان کریںورنہ وہ آپ کو اذیتیں دیں گے اور تکذیب کریں گے۔ اُن کے جواب میں نبی ﷺنے فرمایا کہ اﷲکی قسم میں انکے سامنے ضرور بیان کرونگا ،پھر آپ مسجد حرام تشریف لے گئے آپ کے پاس سر غنہ کفر ابو جہل ملعون آیا اور آپ سے کہا ،کیا کوئی خبر ہے ؟نبی ﷺنے فرمایاہاں ہے ،پھر اس نے پوچھا کیا ہے ،حضور ﷺنے فرمایارات مجھے سیر کروائی گئی ،اس نے پوچھا کہا ں کی سیر ؟حضور ﷺنے فرمایابیت المقدس کی سیر ،تو پھر صبح آپ نے ہمارے درمیان کیسے گزاری ؟ابوجہل نے یہ جملہ مذاق اور اﷲتعالیٰ کی اس قدرت کے انکا ر میں کہا کہ بھلا اﷲتعالیٰ اپنے نبی کو جسم وروح کے ساتھ یہ سیر کراسکتاہے ؟اس کو نبی حبیب ﷺنے جواب دیا ہاں ایسا ہی ہو اہے ،اس ملعون نے کہا ،آپ کا کیا خیال ہے ۔میں اگر آپ کی قوم کو بلاؤں تو کیا آپ انکے سامنے بھی یہ بیان کرسکتے ہیں؟نبی ﷺنے فرمایا،ہاں ضرور، اس کے بعد وہ اہل قریش کو آواز دینے لگا ۔قریش کے لوگ جب جمع ہوگئے تو نبی ﷺنے ان کے سامنے واقعہ معراج اور اپنے مشاہدات بیان کئے ،یہ سن کر اِن کی حیرت واستعجاب کا یہ عالم ہواکہ کوئی تو تالی بجاتا جارہا ہے اور کوئی اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھے ہوئے ہے ۔ایک ضعیف الایمان تو ایسا بھی نکلاجو مرتد ہوگیا اور کچھ لوگ ور غلانے کیلئے رسول اﷲﷺکے محبوب صدیق اکبر سیّدنا  ؓ  کے پاس گئے ۔لیکن سیّدنا ابوبکرؓ  نے ایمان کی بات کہی آپ نے فرمایااگر آپ ﷺنے یہ بات کہی ہے تو یقینا سچ کہا ہے ،اہل قریش نے کہا آپ اس واقعہ میں بھی ان کی تصدیق کرتے ہیں ؟سیّدناابوبکرؓ نے فرمایا میں تو ان کی اس سے بھی بڑی چیزمیںتصدیق کرتاہوں ،میں توآسمان کی خبر پر ان کی تصدیق کرتاہو ں ۔اس دن سے آپ کا لقب ’’صدیق ‘‘ہوا اور آپ جہنم سے آزاد فرمادئے گئے ۔مشرکین مکہ نے رسول اﷲﷺکے بیان کی صداقت جانچنے کا ارادہ کیا اور انہوں نے نبی ﷺسے مسجد اقصیٰ کے درو دیوار اور اوصاف کے بارے میں سوالات کئے ،نبی کریم ﷺنے شبِ معراج سے پہلے مسجد اقصیٰ کبھی دیکھی نہ تھی ،اور ہر شخص جانتا ہے کہ ایک نظر دیکھنے والا کوئی بھی شخص اپنے مشاہدا ت کی تفصیلا ت نہیں بیان کرسکتا ،مگر یہا ں توبات ہی کچھ اور تھی انکے خالق نے حجابات اٹھادیئے اور مسجد اقصیٰ کو آپ کے پیش نظر کردیا ،آپ ا سے دیکھتے اور ایک ایک جگہ اور ایک ایک دروازہ کی کیفیت بیان کرتے جاتے ،نتیجہ کے طور پر کفار کو تسلیم کرنا پڑا کہ یہ کیفیت آپ نے صحیح صحیح بیان کردی ہے بلکہ انکے علاوہ نبی ﷺنے کچھ ایسی علامتیں بھی بتائیں جو آپ کی صداقت کی شاہد عدل ہیں ۔مثلاً ایک علامت یہ بیان کی کہ آپ کا گزر بنوفلاں کے قافلہ سے ہو ا،اس وقت یہ لوگ سفر پر روانہ ہو چکے تھے آپ نے اہل قریش کو قافلہ کا مقام بتایا جب ابھی آپ بیت المقدس (شام )کے راستے میں تھے پھر واپسی میں مقام ضجنان کے قریب اس قافلہ کو پایا اسوقت یہ لوگ سورہے تھے ،انکے پاس پانی کاایک برتن تھا اس کو انہوں نے کسی چیز سے ڈھک رکھا تھا،آپ نے ڈھکن ہٹا کراس سے پانی پیا پھر اس کو ڈھک دیا،نبی ﷺنے مزید خبر دی کہ فلاں دن یہ قافلہ طلوع آفتاب کے وقت واپس پہنچ جائیگا ،اس قافلہ کے آگے ایک خاکستر رنگ کا اونٹ ہوگا ،پھر جب یہ دن آیا، اہل قبیلہ اس قافلہ کے استقبال میں باہر نکلے ان میں سے ایک شخص نے کہا، اﷲکی قسم یہ سورج طلوع ہورہا ہے اور دوسروں نے کہا اور یہ قافلہ بھی آپہنچا،انہوں نے پھر قافلہ کے لوگوں سے ان چیزوں کے بارے میں پوچھا جن کی خبر مخبر صادق ﷺنے دی تھی توقافلہ والوں نے بعینہ وہی واقعات دہرائے جو حضور ﷺنے بیان کئے تھے ۔

تازہ ترین خبریں