08:32 am
ہائبرڈوار سے دوچار بلوچستان ترقی و استحکام کے راستے پر

ہائبرڈوار سے دوچار بلوچستان ترقی و استحکام کے راستے پر

08:32 am

بلوچستان پسماندہ ترقی سے محروم‘ مگر یہ پسماندگی اور تعلیم و ترقی اور صحت سہولتوں سے محروم بلوچستان‘ ماضی کے فرعون بنے سردارون کا ہی تو یہ عطیہ تھا اہل بلوچستان کے لئے ’’گوادر‘‘ وہ اہم جغرافیائی محل وقوع ماضی  میں جو مستقط کی ملکیت تھا‘ جسے وزیراعظم فیروز خان نون نے مسقط سے خریدا‘ اس خریداری میں سر آغا خان نے مالی مدد کی تھی۔ یوں سر آغا خان کی مالی ادائیگی‘ وزیراعظم فیروز خان نون کی سیاسی بصیرت سے خریدا گیا گوادر۔ ہماری نظر میں جغرافیائی طور پر اگرچہ صوبہ بلوچستان کا حصہ دکھائی دیتا ہے مگر عملاً یہ مرکزی حکومت پاکستان کی ملکیت ہے۔ یہ نقطہ میں بار بار اس لئے لکھتا ہوں تاکہ محب وطن اہل بلوچستان کو پتہ چل سکے کہ ان کے سردار گوادر پر ذاتی حق ملکیت جب جتلاتے ہیں  تو وہ کتنا بڑا جھوٹ بولتے ہیں۔ اسی گوادر کی اہمیت کے پیش نظر بھارت نے-59 1958ء میں مسقط سے گوادر خریدنے کی بہت کوشش کی تھی‘ مگر برطانیہ کی سیاسی مدد سے مسقط نے بھارت کی بجائے گوادر پاکستان کو فروخت کیا تھا۔ یاد رہے وزیراعظم نون کی بیوی ایک خوددار  انگریز خاتون تھی۔
 
’’ہائبرڈوار‘‘ کیا ہوتی ہے ؟ جو کچھ عدم استحکام پاکستان کے لئے بھارت اور بین الاقوامی خفیہ ایجنسیاں کرتی ہیں۔ بطور خاص بلوچستان میں تو اسے ہائبرڈ وار کہتے ہیں۔ یعنی عوام کے اندر سے ہی ایسے گروہ‘ افراد‘ جماعتیں تلاش کرلی جائیں جو خود اپنی حکومت‘ اپنی ریاست‘ اپنی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھا لیں اور اپنا ذاتی جغرافیہ تراشنا شروع کر دیں۔ بھارت نے افغانستان میں بیٹھ کر سرحدوں کے ساتھ جو قونصل خانے بنائے تھے جہاں سے بلوچستان کے اندر تخریب کاری کی تربیت سے لیکر ہتھیاروں اور مال و دولت کی سپلائی ہوئی تھی جس سے فراری کیمپ قائم ہوئے‘ بغاوتیں ہوئیں‘ جن کی سرپرستی کرنے والے مینگل اور مری بیرون ملک بیٹھے ہوئے ہین جن کو بھارت اپنے ملک میںبلوا کر ان کی زبان سے بلوچستان کی جدوجہدآزادی کی داستانیں سنواتا ہے۔ پھر وزیراعظم مودی سینے پر ہاتھ مار کر کہتا ہے اہل بلوچستان ہم سے اسی طرح مدد مانگ رہے ہیں جیسی مدد  اہل بنگلہ دیش نے بھارت کی فوج سے 1970ء میں مانگی تھی۔ اس عمل کو بھارتی ہائبرڈوار کہتے ہیں۔
نائن الیون کے بعد جب امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوا‘ طالبان کی جائز حکومت کو ختم کروایا اور بھارت کو گھس بیٹھیا کا کردار دیکر اسے افغانستان میں اسٹریٹجک مقاصد کے لئے بھرپور کردار عطا کیا۔ بھارت نے افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کو عدم استحکام سے دن رات دوچار کرنے‘ جغرافیے کو توڑ ڈالنے کی بھرپور کوشش کی‘ بغاوتوں کو فروغ دیکر کی اور نام نہاد تحریک طالبان پاکستان کو طلوع کرکے اور توانا بنا کرکی ہے۔ اسی کا نام ہائبرڈوار ہوتا ہے۔ کہنے کو بلوچستان میں بغاوت کرنے والے۔ اسلحہ اٹھانے والے‘ تحریک طالبان کے مذہب و جہاد کے نام پر فروغ پانے والے یہ سب پاکستانی تھے۔ ان کا استعمال کمال مہارت سے بھارت نے  کیا تھا۔ اس کا سبب بلوچستان کی مفلسی‘ بے روزگاری‘ تعلیم کا فقدان‘ صحت سہولتوں کی عدم دستیابی‘ غرباء و مساکین رعیت تھی اور سردار مالدار ترین‘ ریاستی و سائل کے چور اور ڈاکو‘ اسی سبب سے بلوچستان میں اور کچھ قبائلی علاقوں میں افغانستان میں بیٹھ کر بھارت پاکستان کو ہائبرڈوار سے دوچار کیا ہے یعنی جو کام-59 1958ء میں مسقط سے گوادر خرید کر پاکستان کو ختم کرنے کا بھارت کرنے جارہا تھا مگر ناممکن ہوگیا وہی کام نائن الیون کے بعد افغانستان میں بیٹھ کر بھارت نے آسانی سے اور امریکی مدد سے کرلیا ۔ اس کا ازالہ کیسے ہوا؟ پاک فوج نے دن رات محنت کی‘ بلوچستان میں افلاس کے خاتمے‘ روزگار کی فراہمی‘ تعلیم کے فروغ کے منصوبے بنائے۔ عوام کو سہولتیں فراہم ہوئیں۔ پوری فوج کی پہلی ترجیح بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے برابر ترقی‘ تعلیم‘ ہنر‘ روزگار دینا رہا ہے۔ ماشاء اللہ فوج اپنے مقصد میں کامیاب ہے۔ جن جن عسکری کرداروں نے اس جہت کام کیا ان کی تحسین کرتے ہیں۔
تازہ منظر نامہ یہ ہے کہ 29مارچ کو بلوچستان میں وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ ‘ چیف منسٹر بلوچستان کمال جام کی رفاقت میں کھربوں کے منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے۔ گوادر کے لئے  نیا ائیرپورٹ کا وزیراعظم نے افتتاح کیا ہے وہ پاکستان کا سب سے بڑا اور بین  الاقوامی ائیرپورٹ ہوگا۔ نئی ٹرینیں چلانے کا راستہ کھولا ہے۔ ہائی ویز کراچی تک بنانے کا بھی آغاز ہوا ہے۔ سی پیک کے 305کلو میٹر کا مغربی روڈ تعمیر ہو رہا ہے۔ بلوچستان ہیلتھ کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ بلوچستان میں بجلی کی شدید طلب کو بجلی کے قومی گریڈ سے بھی ملایا جارہا ہے۔ جنرل باجوہ ترقیاتی فنڈز متحدہ عرب امارات سے لائے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کا بہت بہت شکریہ۔ بلکہ امارات کا یہ بھی شکریہ کہ اس نے ایک ارب ڈالرمزیدپاکستان کو دے دیا ہے۔  
بظاہر تو ۔ماشاء اللہ پاکستانی ریاست نے بھارت کی بلوچستان میں ہائبرڈوار کو ناکام بنا دیا ہے۔ جدوجہد آزادی اس کو کہتے ہیں جو اہل کشمیر بھارت کی قابض فوج سے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایک خبر کہ اسرائیلی میزائل بھارت ائیر فورس سے وابستہ افراد نے 27فروری کوچلایا پاکستانی طیارہ مار گرانے کو مگر اپنا ہی عسکری ہیلی کاپٹر تباہ کرلیا۔کیا یہ اللہ تعالیٰ کی مدد نہ تھی؟
 

تازہ ترین خبریں