08:33 am
موت یاشہادت؟

موت یاشہادت؟

08:33 am

کیاحالیہ پاک بھارت معرکۂ آرائی نے دنیاکو اپنے خنجرسے آپ خودکشی کرنے کی علامہ اقبال کی پیش گوئی پرلاکھڑاکیاہے اور دنیا جو دنیائے  دولت کی نازک شاخ پرآشیانہ بنائے ہوئے ہے، اس کی تباہی سن رہی ہے۔ اس وقت پاک بھارت ہی نہیں دنیائے عالم کومہلک ہتھیاروں سے خطرہ لاحق ہو چلاہے جودنیا کاسب سے خطرناک اورفیصلہ کن ہتھیار سمجھا جاتا ہے، جس کوایٹم بم کہاجاتاہے۔یہ آناً فاناً زندگی کی رمق چھین کر دھرتی کوبانجھ کردینے کا حامل ہے  جوجنگ کاآخری ہتھیارکہلاتاہے جس کا تجربہ سفاک امریکانے جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اورناگاساکی کوملیامیٹ کرکے فتح کے شادیانے  بجائے اوراب تک اس ہلاکت کا اجاڑ پن تباہ کاری کاسامان لئے ہوئے جائے عبرت ہے۔یاد رکھیںکہ 6 اگست 1945ء کوگرائے جانے والے نومولودایٹم بم نے دولاکھ افراد کوموقع پرہی ہلاک کردیاتھاجبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی جوعمربھرکیلئے معذورہوگئے بلکہ اس واقعے میں دودراز بچ جانے والے افرادکے ہاں برسہابرس معذوراولاد جنم لیتی رہی اورآج تک ان دونوں علاقوں میں کوئی فصل پیدانہیں ہوسکی۔
 
ان حملوں سے بچ جانے والوں نے دنیاکوالمناک ،دردناک داستانیں سنائیں اوران ہتھیاروں کے کھیل سے بازرہنے اورعبرت پکڑنے کی بات کواس قدراپنے پلے باندھاکہ مڑ کر اس کے قریب تک نہیں آئے ۔ بھارت اورپاکستان کی نظریاتی لڑائی میں ایٹمی صلاحیت نے اس وقت بھارت کومتوجہ کیاجب وہ پاکستان کوصفحۂ ہستی سے مٹانے کی سوچ رہاتھا۔ 1960ء میں بھارت نے جوہری پروگرام شروع کیاتاہم 1965ء کی جنگ تک یہ صلاحیت حاصل نہیں کرسکاتھااورپاک بھارت جنگ میں بھارت منہ کی کھاکرزخم خوردہ وحشی بن گیا ۔پھر1971ء کی جنگ میں اس نے مشرقی پاکستان کوجداکرنے میں اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کرپاکستان کے غداروں کی مددسے کامیابی حاصل کی تووہ فتح کے نشے میں بدمست ہوگیااورپوری طرح ایٹم بم کی تیاری میں جت گیا اور1974ء میں پہلاایٹمی دھماکہ کردیا۔
اس وقت پاکستان میں ذوالفقارعلی بھٹوکی حکومت تھی جوبہرحال بڑے جرأت مندفیصلوں کی صلاحیت کے حامل حکمران تھے۔انہوں نے برملااعلان کیاکہ میری قوم گھاس کھالے گی لیکن ایٹم بم ضروربنائے گی۔انہی دنوں فخرپاکستان ڈاکٹرعبدالقدیرخان کوفری ہینڈدے دیاگیااور غلام اسحاق خان نے پاکستان کے خزانے کامنہ کھول دیاجس کے بعدناموراور گمنام ہیروزنے اس کام میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیالیکن اس کے ساتھ ہی امریکہ نے اپنادباؤبڑھادیاکہ پاکستان کبھی بھی ایٹمی صلاحیت کے قریب بھی نہ جاسکے۔ ادھر امریکی استعمار کی تدبیرتھی اورادھرمیرے رب کی تدبیرغالب آئی ۔ 1979ء میں سوویت یونین اپنے پسماندہ پڑوسی افغانستان میں پوری طاقت کے ساتھ آن دھمکا۔ان دنوں ذوالفقار علی بھٹوکی حکومت کو ختم کرکے پاکستان میں جنرل ضیاء الحق اقتدارکی زمام کارسنبھال چکے تھے۔
امریکہ،سوویت یونین سے حساب چکانے کیلئے آنکھیں موندے ایٹمی صلاحیت کی پاکستانی کوششوں پرخون کے گھونٹ پیتارہااورپاکستان نے1984ء میں کولڈاسٹارٹ تجربہ ایٹم بم کا کردیا۔ضیاء الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی کے نام پر اس ایٹم بم کاہلاکت سے پاک خوبصورت تجربہ بھارت پرکیااوراس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی کوبرملابتادیاکہ کہ اگر بھارت نے جنگ چھیڑی توپاکستان توشائدختم ہوجائے مگرپھربھی 56اسلامی ریاستیں دنیامیں باقی رہیں گی البتہ پوری دنیامیں واحدہندوریاست بھارت کانام ونشان مٹ جائے گا ۔1998ء میں جب نوازشریف پاکستان کے وزیراعظم تھے ،بھارت نے پانچ جوہری تجربات کرکے پاکستان کوہراساں کرنے کی نہ صرف کوشش کی بلکہ ٹھیک دھماکے کے آدھ گھنٹے کے بعدایڈوانی نے اپنی پریس کانفرنس میں آزاد کشمیر میں ’’ہاٹ پرسوٹ‘‘کی کھلی دھمکی بھی دے ڈالی تونوازشریف پربھی ایٹمی دھماکہ کرنے کا دباؤ بڑھ گیا۔معروف صحافی مجید نظامی مرحوم نے کہا کہ میاں صاحب دھماکہ کریں ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کردے گی جبکہ ڈاکٹرعبدالقدیرنے نوازشریف کوخط لکھا کہ اگرآپ نے اس وقت دھماکہ نہ کیاتومیں پوری قوم کوپریس کانفرنس کرکے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے بارے میں اطلاع دوں گا۔ان حالات میں نوازشریف نے باقاعدہ ایٹمی دھماکوں کی تیاری کی ہدایات جاری کردیں جس پرامریکانے ڈالرزکی بارش کے ذریعے ان کوروکنے کی ناکام کوشش کی لیکن پاکستان نے چاغی کے مقام پر’’نعرہ تکبیر،اللہ اکبر‘‘کی گونج میں پانچ کے مقابلے میں چھ جوہری دھماکے کرکے بھارت کومنہ توڑجواب دے دیا۔یوں پاکستان نے اللہ کے فضل وکرم سے بھارت پرایٹمی برتری ثابت کردی ۔اب پاکستان کے پاس 130سے 140اوربھارت کے پاس 120سے 130ایٹم بم ہیں اوراس کے ساتھ میرے ربّ ِ کریم نے پاکستان پر ایک اورخصوصی فضل فرمایاکہ بے نظیرکے دورحکومت میں شمالی کوریاکے تعاون سے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرکے اس پرہمارے سائنسدانوں کی مہارت نے اب میزائل ٹیکنالوجی کی دنیامیں اپناسکہ جمالیاجس کیلئے ساری دنیاکے دفاعی ماہرین اورسائنس دانوں کے سامنے مختلف تجربات نے اس کی تصدیق بھی کردی۔
فضاء سے فضاء میں ، فضاء سے زمین پر، فضاء سے سمندرمیں،زمین سے زمین پر،سمندرسے فضاء میں میزائل قریب اوردورپھینکنے کی وہ صلاحیت حاصل کرلی ہے جودشمنوں کومنٹوں سیکنڈوں میں تباہ اوربربادکرنے کی حامل ہے۔اب توپاکستان کے پاس چھوٹے جوہری ہتھیاروں کی بھی اطلاعات ہیں جن کی میدان جنگ میں فیصلہ کن حیثیت سمجھی جاتی ہے۔ تناسب کے لحاظ سے بھارت کوعددی برتری ضرورہے مگرقوت وطاقت کے لحاظ سے اورمہارت کے حوالے سے پاکستان کی صلاحیتوں کی ایک دنیامعترف ہے۔حال ہی میں پاکستان نے بھارت کے طیاروں کو مار گرا کر ثابت بھی کردی ہے۔یہ کوئی فارسی پڑھنے کی بات نہیں جوبھارت نہ سمجھے اورایران سمجھ کربھی بھارت کی گودمیں جابیٹھے۔ایٹمی صلاحیت جنگ روکنے کابھی اہم ذریعہ ہے اوربھارت پاکستان کی اس صلاحیت سے خوفزدہ ہے۔وہ سرحدوں پرفوج تولاتاہے لیکن مہینوں اسے حملہ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔2002ء میں بھی وہ سرحدوں پربھاری فوجی نفری اوربھاری ہتھیاروں کے ساتھ آیالیکن مہینوں خاک چاٹنے کے بعدپاکستانی ایٹمی ہتھیاروں کے خوف سے ’’لوٹ کے بنیاء گھرکولوٹ گیا‘‘۔
بھارت خوب جانتاہے کہ ایٹمی جنگ کیاہوتی ہے اورپاکستان کی تباہ کاری کی صلاحیت کہاں تک ہے۔اس وقت بھارت کاایک ایک چپہ پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں کی باقاعدہ زدمیں ہے اوربھارت ہی نہیں بلکہ اس کے مربی بھی اس سے خوب آگاہ ہیں۔رسول اکرمﷺکافرمان امروزبھارت کی شکست کی انمٹ لکیر ہے۔ بھارتی بت پرستوں کاانجام جو دنیا سے رخصت کے بعدسے آخرت کے میدان تک آگ میں جلناہے اوروہ موت سے خوفزدہ ہے کیونکہ ارشاد ربانی کامفہوم ہے جس میں وہ کافروں کومخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ ’’اگرتم سچے ہوتوموت کی تمناکرو ‘‘اوریہ حقیقت بھی ہے جس کوبھارت بھی سمجھتاہے ۔بھارت کے بت پرست جتناموت سے ڈرتے ہیں اتناپاکستانی شہادت سے محبت کرتے ہیں۔

 

تازہ ترین خبریں