08:34 am
فکری بیماروں کی خدمت میں

فکری بیماروں کی خدمت میں

08:34 am

نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی  کے بعد وہاں کی وزیراعظم نے جس طرح مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اِظہار کیا، اسے لے کر مسلمانوں میں کفر کی دوستی اور مرعوبیت کے مریضوں کی بڑی تعداد برساتی مینڈکوں کی طرح ہر طرف سے نکل آئی اور انہوں نے وہ شور برپا کیا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں اس وقت کوئی ایک بھی ایسا مسلمان حکمران موجود نہیں
جس کے طرز حکمرانی کو مثالی قرار دیا جا سکے اور اس کے طرز عمل میں اسلامی نظامِ حکومت کی کوئی ادنیٰ سی جھلک بھی نظر آتی ہو سوائے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے جنہوں نے بہر حال اس گئے گزرے دور میں ایک ایسے مسلم حکمران کی معمولی سی جھلک ضرور دکھائی ہے جو امت کے لیے سوچتا ہے اور مسلمانوں کے اجتماعی مسائل کے حوالے سے حساسیت رکھتا ہے۔یسے میں جب کوئی غیر مسلم حکمران دنیا میں کوئی اچھا طرزِ حکمرانی پیش کرتا ہے تو اس کی تحسین کیا جانا ایک فطری امر ہے… بہت سے مسلمانوں کی طرف سے جسینڈرا آرڈن کے حوالے سے اچھے خیالات اسی امر کا اظہار ہیں‘ لیکن مغرب کے ہر عمل کو حجت سمجھنے اور باور کرانے والے مرعوب مسلمانوں نے اس موقع پر بھی اسلام‘ اسلام کے نظامِ حکمرانی اور اسلامی قوانین میں ذمی اور مسلم کی تقسیم اور اہل ذمہ کے اسلامی حقوق کے حوالے سے جو طوفانِ بدتمیزی برپا کیا ہے وہ شرمناک ہے۔ مغرب میں مساوات، انصاف اور ایسے مواقع پر اپنے عوام سے یکجہتی کی بنیاد وہ نہیں ہے جو اِسلام میں اِنصاف اور اِنسانی ہمدردی کی ہے‘ ایک ملک جس نے اپنی افواج کو دنیا کے کئی ممالک میں اِسلام اور مسلمانوں کے خلاف لڑائی کے لئے بھیج رکھا ہو‘  ہمارے دوست کالم نگار طلحہ السیف لکھتے ہیں کہ جس ملک کی افواج ان علاقوں میں ہونے والے تمام تر بدترین جنگی جرائم میں شریک کار ہوںاور اس نے کبھی بھی اس پر نہ افسوس کا اِظہار کیا نہ شرمندگی کا لیکن داخلی طور پر پیش آنے والے ایک واقعے پر اس کے حکمرانوں کا طرز عمل اگر اس کے خلاف نظر آ رہا ہو تو آپ اسے انسانی ہمدردی ، غمخواری ، فطری بھلائی کا جذبہ یا ایسے دیگر اچھے الفاظ سے یاد نہیں کر سکتے، یقینی بات ہے کہ اس کے مقاصد کچھ اور ہوں گے۔ مغرب چونکہ اپنے وضع کردہ شخصی قوانین مثلا ً مساوات، جمہوریت ، ہیومن رائٹس وغیرہ کو اِلٰہی قوانین سے بالاتر سمجھنا ہے اور یہی دعویٰ ہی مغربیت کی اصل بنیاد ہے، اس لئے وہ ان کی پاسداری کو اپنے ملکوں اور معاشرے کی حد تک اس لئے ہر حال میں یقینی بناتا ہے تاکہ لامذہبیت کو ایک ٹھوس بنیاد فراہم کر سکے اور اس کی برتری کو برقرار رکھ سکے۔ ان کا ایسا کرنا نہ تو اخلاقی بنیاد رکھتا ہے نہ الٰہی‘ اس لئے وہ اپنی سرحدوں سے باہر مکمل طور پر خود کو قرآن کے الفاظ کے مطابق شر الدواب  ثابت کرتے ہیں۔ کیا آپ نے اپنے ملکوں میں مسلمانوں کی لاشوں پر آنسو بہاتے اور لوگوں کے گلے لگ کر روتے ان شر الدواب  کو کبھی فلسطین ، کشمیر، افغانستان ، عراق و شام میں کٹ جانے والوں کے لئے بھی یوں روتے پیٹتے دیکھا ہے؟ یہی نیوزی لینڈ جس کی تعریف میں آج ہر خاص و عام رطب اللسان ہے۔ عراق اور افغانستان میں امریکی آپریشنز میں ہارڈ کور پارٹنر رہا‘ عراق کی جنگ کی بنیاد ہی جھوٹ ثابت ہوئی اور خود امریکہ نے اِقرار کیا کہ جن باتوں کو بنیاد بنا کر یہ جنگ مسلط کی گئی تھی وہ غلط تھیں‘ پندرہ لاکھ بے گناہ لوگ اس جھوٹ کی بھینٹ چڑھے ، مغرب کا ہر قابل ذکر ملک اس ظلم میں برابر کا شریک رہا اور جن جنگی جرائم اور اخلاق سوز حرکتوں کا اِرتکاب  ان شر الدواب  نے عراق کی جیلوں میں کیا، ان پر ساری دنیا شاہد ہے اور دراصل یہی ان شرالدواب کا اصل چہرہ ہے۔ اگر ان کے مزعومہ اخلاقیات کے دعوے، مساوات، ہیومن رائٹس اور انصاف کی باتیں سچ ہوتیں تو ان کا اثر ضرور ان کے ملکوں سے باہر بھی ان پر نظر آتا‘ لیکن مغرب کی داخلہ اور خارجہ پالیسی، اندرونی اور بیرونی طرز عمل کا اتنا بڑا تضاد یہ بات بالکل واضح کرتا ہے کہ مسلمانوں کو ان کی ظاہری باتوں کی بنیاد پر نہیں، اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصولوں اور کھولے ہوئے دِلوں کے رازوں کی بنیاد پر ان کے بارے میں رائے قائم کرنا ہو گی‘ نیوزی لینڈ ہی وہ ملک ہے جس نے امریکہ کے ساتھ اِظہار یکجہتی کے طور پر افغانستان میں اپنی افواج کے قیام کی مدت کے معاہدے میں سب سے پہلے توسیع کی… اس فہرست میں دوسرا نام کینیڈا کا تھا‘ افغانستان میں جن طالبان کے ساتھ آج امریکہ مذاکرات کر رہا ہے اور انہیں حق حکمرانی لکھ کر دینے پر آمادہ ہے، نیوزی لینڈ کے فوجیوں نے ان کے شہدا کی لاشوں پر پیشاب کرنے کی غلیظ حرکت کی اور اس کی تشہیر بھی کی۔ لیکن یہ کام چونکہ نیوزی لینڈ کی حدود سے باہر ہوا اس لئے اس پر اس پر امن  اور مثالی طرز حکمرانی  والے ملک میں کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی‘ مغرب کو اور مغرب زدگان کو ان ساری باتوں کے طعنے دینا اور اس پر ان سے جواب طلبی کرنا کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں عبث ہے کیونکہ وہ بدترین دشمن ہیں اور انہی کا وضع کردہ اصول ہے کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے  اس لئے ان سے پوچھنے کا کوئی مطلب ہی  باقی نہیں رہتا۔
اسلام ان تمام اچھائیوں کا داعی ہے اور انہیں  دائمی طور پر اپنانے کا حکم دیتا ہے۔ وہ انہیں فرد کا اخلاق بنانے کی محنت کرتا ہے اور اخلاق کسی حال میں جدا نہیں ہوتے۔ آپ اپنے گھر اور ملک میں ہوں یا باہر، ہر جگہ اخلاق یکساں رہتے ہیں جبکہ مغرب کے ان قانونی اخلاق کا تعلق چونکہ فرد کے دل سے نہیں، اس کے صرف ظاہر سے ہے۔ اس لئے آپ دیکھ لیں کہ جن برائیوں پر مغرب کا قانون پابندی نہیں لگاتا انہیں کوئی بھی وہاں برائی نہیں سمجھتا اگرچہ وہ ایسے اعمال ہوں جنہیں برے جانور بھی کرنے سے کتراتے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی مغربی فرد یا معاشرے کو مسلمانوں کے لئے کس طرح قابل تقلید مثال بنا کر پیش کیا جا سکتا ہے؟

تازہ ترین خبریں