01:35 pm
تصوف اور روشن خیالی

تصوف اور روشن خیالی

01:35 pm

تصوف اسلام کے مختلف شعبوں میں ایک اہم شعبہ ہے جس نے عام مسلمان کا تعلق خدا سے جوڑنے، انسانوں میں باہمی روا داری قائم کرنے اور بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے اور اس مقصد کے لیے تصوف کی اقدار کو عام کرنے کی کوشش کسی بھی سطح پر کی جائے تو قابل قدر ہے، لیکن موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں اس کے پس منظر کو سامنے رکھا جائے تو دال میں کالا کالا واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔
 ہمارے ہاں ایک تقسیم عوامی ذہنوں میں مولوی کا اسلام اور صوفی کا اسلام کے نام سے بہت پرانی چلی آرہی ہے جو اس بنیاد پر ہے کہ مولوی ہمیشہ قانون اور ضابطہ کی بات کرتا ہے، دوزخ سے ڈراتا رہتا ہے اور اسلام کے دائرے سے خارج کرنے کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے، اس لیے وہ سخت اور متشددانہ اسلام کا علمبردار ہے۔ جبکہ صوفی ہمیشہ محبت پیار کی بات کرتا ہے، امید کا ذہن دیتا ہے، عفو و درگزر کی تلقین کرتا ہے اور گناہوں سے چشم پوشی کا پیغام دیتا ہے، اس لیے اس کی بات زیادہ توجہ کے قابل ہے حالانکہ یہ تقسیم لوگوں کی خودساختہ ہے، اصل میں مولوی اور صوفی دونوں اسلام ہی کے مختلف شعبوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس لیے کہ اسلام میں جہاں عفو و درگزر ہے، چشم پوشی ہے، امید ہے اور محبت و پیار ہے، وہاں قانون و ضابطہ بھی ہے، احکام و مسائل بھی ہیں اور سزا و جزا کا نظام بھی ہے، ان میں سے کسی بات کو بھی نظر انداز کرنے سے اسلام ادھورا رہ جاتا ہے۔ لیکن موجودہ عالمی تناظر میں صوفی کا اسلام ایک اور وجہ سے پذیرائی کے قابل سمجھا جا رہا ہے، وہ یہ کہ مغرب اور اسلام کی تہذیبی اور نظریاتی کشمکش میں یہ تصور کر لیا گیا ہے کہ: مسلمانوں میں مغرب کے خلاف جو جذبات پائے جاتے ہیں اور ان میں جس طرح شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے اصلا اس کی وجہ مولوی ہے۔ کیونکہ وہ اسلام کی بات فقہی ضابطوں کے حوالہ سے کرتا ہے، اسلام کو عبادات و عقائد کے ساتھ ساتھ معاشرت، خاندان، سیاست و معیشت اور قانون و عدالت کے معاملات میں بھی دخیل قرار دیتا ہے، اور فرد کی بجائے اجتماعیت اور سوسائٹی سے خطاب کرتا ہے، اس لیے وہ مسلمانوں کو مغرب کے فلسفہ و نظام سے متنفر کرنے اور مسلمانوں کو مغرب سے محاذ آرائی پر تیار کرنے کا باعث ہے۔ اس کی بجائے صوفی صرف فرد سے مخاطب ہوتا ہے اور اس کی اصلاح و تربیت کی بات کرتا ہے، اس لیے اس کا اسلام مغرب کے فلسفہ و نظام اور تہذیب و ثقافت کے غلبہ کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے اور اسے قبول کیا جا سکتا ہے۔
مغرب کے دانشوروں نے طویل بحث و تمحیص اور تحقیق و تجزیہ کے بعد اپنے قائدین کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ عالم اسلام میں صوفی اسلام کے فروغ کے لیے کام کریں اور صوفی کو ملا کے سامنے لا کر مولوی کے اسلام کو کمزور کرنے کا راستہ اختیار کریں۔ اس پر مغربی دانشوروں کا تجزیہ و تحقیق اور ان کی آرا و تجاویز عالمی پریس کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔ مغرب عالم اسلام میں مسلمانوں کے ساتھ اپنے تعلقات و معاملات کی ترجیحات طے کرنے میں اب اسی کو بنیاد بنا رہا ہے اور ہمارے خیال میں پاکستان میں صوفی اسلام کے فروغ کے لیے قائم ہونے والی اعلی سطحی کونسل اسی ایجنڈے کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ لیکن یہ مغرب کی خام خیالی اور مغالطہ ہے کیونکہ مغرب کے اس طرز عمل سے مسلم امہ میں ایک اور باہمی کشمکش کے جنم لینے کے امکانات کے باوجود اس امر کا کوئی امکان موجود نہیں ہے کہ وہ صوفی کا اسلام کا نعرہ لگا کر ان مقاصد کو حاصل کر سکے گا جو اس مہم میں اس کے پیش نظر ہیں اور ہم اس حوالہ سے دو باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہیں گے۔
(1) اس نوع کی کشمکش اس سے قبل بھی تاریخ میں دکھائی دیتی ہے جب اسی جنوبی ایشیا میں داراشکوہ اور اورنگزیب عالمگیر کی کشمکش سامنے آئی تھی، یہ دونوں حقیقی بھائی تھے اور اپنے باپ شاہجہان کے بعد اقتدار کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے سامنے آگئے تھے۔ عام طور پر اسے دو بھائیوں میں اقتدار کی جنگ سمجھا جاتا ہے لیکن درحقیقت یہ دو نظریات کی جنگ تھی۔ ایک طرف اکبر بادشاہ کے روشن خیال دین الٰہی کی حمایت میں تصوف اور انسانیت دوستی کے عنوان سے مسلمانوں کے دینی تشخص کو مسلم ہندو مشترکہ معاشرہ میں تحلیل کر دینے کی مہم تھی جس کی قیادت داراشکوہ کے ہاتھ میں تھی، اور دوسری طرف مسلم تشخص اور امتیاز کو برقرار رکھتے ہوئے سوسائٹی میں اسلامی احکام و قوانین کی عملداری کا عزم تھا جو اورنگزیب عالمگیر کے پیش نظر تھا۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے بھائی تو یقینا تھے لیکن حقیقت میں دو نظریوں کی علامت تھے۔ اس کشمکش میں اورنگزیب عالمگیر کے ہاتھوں مولوی کے اسلام کو فتح حاصل ہوئی اور انسان دوستی کے عنوان سے تصوف کے نام پر مسلمانوں کے دینی تشخص کو تحلیل کر دینے کی مہم شکست سے دو چار ہوئی۔
 (2) اس سلسلہ میں دوسری بات ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مغرب کو صوفیا کرام کے بارے میں غلط فہمی ہے کہ وہ صرف فرد کی بات کرتے ہیں اور سوسائٹی اور اجتماعیت ان کی تگ و تاز کے دائرہ سے خارج ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صوفیا کرام کا اصل میدان فرد کی اصلاح اور نفس کا تزکیہ ہے، وہ اللہ اللہ سکھاتے ہیں، انسان کو اخلاق رذیلہ سے نجات دلاتے ہیں، اس کی تربیت و اصلاح کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں اور محبت و رحمت کی فضا قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن معاشرہ کی اجتماعی حالت اور ملی ضروریات کبھی صوفیا کرام کی نگاہوں سے اوجھل نہیں رہیں اور جب بھی امت کو ضرورت پڑی ہے رات کی تاریکی میں دلوں پر اللہ اللہ کی ضربیں لگانے والے صوفیا کرام نے دن کی روشنی میں ظلم و کفر اور جبر و استبداد کے سامنے صف آرا ہونے میں کبھی جھجھک نہیں دکھائی۔ حضرت مجدد الف ثانی اپنے دور کے سب سے بڑے صوفی تھے لیکن اکبر بادشاہ کے روشن خیال دین الہیٰ کے سامنے سب سے مضبوط دیوار ثابت ہوئے اور  اسے شکست سے دوچار کیا۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی صوفیا کرام کے سرخیل تھے لیکن احمد شاہ ابدالی کے ہاتھوں ہندو مرہٹوں کو پانی پت کے میدان میں خوفناک شکست دلوانے اور فرنگی استعمار کے خلاف فکری اور جہادی تحریک کا ماحول پیدا کرنے میں ان کا کردار تاریخ کے ایک مستقبل باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی علما اور مشائخ کے پیر تھے لیکن جب فرنگی جبر و استبداد کا بازار گرم ہوا تو وہی پیر طریقت شاملی کے محاذ پر انگریزوں کے خلاف مجاہدین کی قیادت کر رہے تھے۔حضرت پیر صبغت اللہ شہید پیر صاحب آف پگارااپنے وقت کے بڑے صوفی تھے مگر انگریزی سامراج کے خلاف انہوں نے مجاہدین کی اس شان سے قیادت کی کہ بالآخر تختہ دار کو چوم کر جام شہادت نوش فرما لیا۔ فقیر ایپی بھی اپنے دور کے ایک صوفی اور روحانی پیشوا تھے لیکن جب ملی غیرت کا سوال سامنے آیا تو وہ اپنی تسبیح اور مصلیٰ سمیت میدان جنگ میں مدتوں انگریزوں کے خلاف نبرد آزما رہے۔
(ماہنامہ نصر العلوم گوجرانوالہ کی نومبر 2006 ء کی اشاعت میں شائع ہونے والی مشرف دور کی یہ تحریر قارئین کے لیے دوبارہ پیش کی جا رہی ہے۔)



اس قسم کی بیسیوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں کہ صوفیا کرام بظاہر فرد کی اصلاح اور تربیت ہی میں مصروف رہے لیکن جب بھی سوسائٹی اور اجتماعیت کو ضرورت پڑی وہ مسلمانوں کے دینی تشخص اور اسلامی احکام و اقدار کے تحفظ کے لیے بلا تامل میدان عمل میں کود پڑے۔ اس لیے ہمارے خیال میں مغرب اس حوالہ سے مغالطہ اور خود فریبی کا شکار ہے اور اسے بھی اس میدان میں اس کے سوا کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوگا جو اکبر بادشاہ کے روشن خیال دین الہی کی حمایت میں داراشکوہ کو اورنگزیب عالمگیر  کے سامنے لانے والوں کے حصے میں آیا تھا، یہ تاریخ کا عمل ہے اور جب تاریخ خود کو دہرانے پر آتی ہے تو نتائج کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوا کرتے۔


 

تازہ ترین خبریں

کچلنے کی کوشش  یا کچھ اور۔۔ ن لیگی رہنما نے پی ٹی آئی رہنما کی گاڑی کو ٹکر مار دی،کتنا جانی مالی نقصان ہوا؟جانیے تفصیل

کچلنے کی کوشش یا کچھ اور۔۔ ن لیگی رہنما نے پی ٹی آئی رہنما کی گاڑی کو ٹکر مار دی،کتنا جانی مالی نقصان ہوا؟جانیے تفصیل

جوبائیڈن اور ولادی میر پیوٹن نے ملاقات کر ڈالی

جوبائیڈن اور ولادی میر پیوٹن نے ملاقات کر ڈالی

معاملات سلجھ بھی سکتے ہیں اور بگڑ بھی سکتے ہیں۔ آئندہ چند ہفتے و مہینے نہایت اہم ہیں۔ شاہ محمود قریشی

معاملات سلجھ بھی سکتے ہیں اور بگڑ بھی سکتے ہیں۔ آئندہ چند ہفتے و مہینے نہایت اہم ہیں۔ شاہ محمود قریشی

قومی اسمبلی میں بجٹ بحث کے دوران اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے مقدس کلمات کی توہین۔۔۔۔تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ کی درخواست

قومی اسمبلی میں بجٹ بحث کے دوران اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے مقدس کلمات کی توہین۔۔۔۔تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ کی درخواست

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ۔ پروزیراعظم عمران خان نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ۔ پروزیراعظم عمران خان نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا

 مفتی عزیز الرحمان کی نازیبا ویڈیووائرل ہونےکے واقعے کے بعد پولیس مدرسے پہنچ گئی

مفتی عزیز الرحمان کی نازیبا ویڈیووائرل ہونےکے واقعے کے بعد پولیس مدرسے پہنچ گئی

ایف آئی اے نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما  حمزہ شہباز کو طلب کر لیا ہے۔

ایف آئی اے نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کو طلب کر لیا ہے۔

مصنوعی ذہانت اور بلاک چین ٹیکنالوجیز سے پاکستان آئی ٹی برآمدات 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، صدر مملکت

مصنوعی ذہانت اور بلاک چین ٹیکنالوجیز سے پاکستان آئی ٹی برآمدات 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، صدر مملکت

نئی تعلیمی سال کا آغاز ۔۔ داخلے کب سے شروع ہوں گے۔۔۔وزیرتعلیم شفقت محمود نے اعلان کردیا

نئی تعلیمی سال کا آغاز ۔۔ داخلے کب سے شروع ہوں گے۔۔۔وزیرتعلیم شفقت محمود نے اعلان کردیا

گالیاں دینا اور بدتمیزی کرنا ہمارا کلچر نہیں ‏ن لیگ کی تاریخ ہے شیخ روحیل اصغرنےگالیاں دیں جس پرردعمل دیا۔ علی نواز اعوان

گالیاں دینا اور بدتمیزی کرنا ہمارا کلچر نہیں ‏ن لیگ کی تاریخ ہے شیخ روحیل اصغرنےگالیاں دیں جس پرردعمل دیا۔ علی نواز اعوان

جماعت اسلامی کے سابق یوسی ناظم کے بیٹے کو قتل کر دیا گیا

جماعت اسلامی کے سابق یوسی ناظم کے بیٹے کو قتل کر دیا گیا

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی پٹرولیم لیوی میں کمی کردی

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی پٹرولیم لیوی میں کمی کردی

 پاکستان سپر لیگ سیزن سکس۔۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا ملتان سلطان کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

پاکستان سپر لیگ سیزن سکس۔۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا ملتان سلطان کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

خیبر پختونخوا حکومت صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ پیش کرنے والی ہے

خیبر پختونخوا حکومت صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ پیش کرنے والی ہے