08:36 am
ایک اور پٹرول بم

ایک اور پٹرول بم

08:36 am

٭گیس، بجلی، سبزیوں کے بعد پٹرولیم بمO بے نظیر انکم سپورٹ سے بے نظیر کا نام ختمO آکسفورڈ کیمرج یونیورسٹیاں ڈگریاں فروخت کر رہی ہیں، نیا سکینڈلO کراچی کے سکول میں بھارتی پرچم لہرا کر بھارتی گانےO پنجاب میں وزیراعلیٰ کے اختیارات ترجمان کو دے دیئے گئےO لاہور کے بعد راولپنڈی میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر O افغانستان سے امریکہ کی واپسی، کراچی کے راستے ہزاروں ٹینک، ٹرک، توپیں جائیں گیO کرکٹ، شرم ناک شکستیں، کھلاڑیوں کا شرم ناک کردار۔
 
٭ایک اور پٹرول بم! اک دم چھ روپے لٹر کا اضافہ، فی لٹر تقریباً 100 روپے کا ہو گیا۔ موجودہ حکومت کا یہ تیسرا بم ہے۔ اس سے پہلے عوام پر گیس، بجلی، سبزیوں ، دالوں اور گھی کی قیمتوں کا بھاری بم گرا چکی ہے۔ لگتا ہے کہ حکومت کو عوام پر بم گرا کر ان کی ناگفتہ بہ حالت دیکھ کر خوش ہونے اور نئے وزیررکھنے کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں۔ ویسے عجیب حکمرانی دیکھنے میںآ رہی ہے کہ اسد عمر نام کے کروڑپتی وزیرخزانہ کی موجودگی میں ارب پتی عبدالرزاق دائود مالیات کو چلا رہا ہے! ان دونوں کو کیا خبر کہ کریلے280 روپے، بھنڈی 150 روپے کلو بک رہی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتے ہی بسوں، ٹرکوں اور ویگنوں کے کرایوں میں ہوش رہا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کا فوری اثر شہروں میں آنے والی سبزیوں، دودھ اور دوسری اشیا پرپڑا ہے۔ اب بسوں اور ٹرکوں کی ہڑتالیں شروع ہونے والی ہیں۔ حکومت کی عوام سے دلچسپی کا عالم یہ ہے کہ شدید بدحالی کی دہائی دیتے ہوئے لاکھوں روپے ماہوار کا ایک اور وزیر رکھ لیا ہے۔ کل تعداد 43 ہو گئی ہے۔ یہ 43 وزیر کیا کرتے ہیں؟ اسلام آباد والوں کو شائد پتہ ہو، لاہور والے لاعلم ہیں۔
٭وفاقی حکومت نے بیٹھے بٹھائے ایک اور تنازع شروع کر دیا۔ ملک کے اندرونی و بیرونی حالات نازک جا رہے ہیں، ایسے میں وزیراعظم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سے بے نظیر کا نام واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ اس سے اک دم وفاقی اور سندھ حکومتوں میں شدید کشیدگی اور الفاظ کی گولہ باری شروع ہو گئی ہے۔ اس میں سندھ کے گورنر عمران اسماعیل وہی کردار ادا کر رہے ہیں جو بُھس میں چنگاری ڈال کر دور کھڑی ہونے والی …کیا کرتی ہے! ابھی سندھ کی امداد کا تنازع جاری تھا کہ انکم سپورٹ کا مسئلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ ویسے ایک عرصے سے ملک کے سرکاری اداروں کو زندہ حکمرانوں کا نام دینے کا سلسلہ ایوب خان کے زمانے سے شروع ہوا۔ جب ملک میں جمہوریت کو کالعدم کرنے والے جنرل ایوب خان کی گیارہ سالہ صدارت کے چوتھے سال ہی چاپلوس سیاستدانوں کی ایک قرارداد کے ذریعے راولپنڈی میں ایک بڑے پارک کا نام ایوب نیشنل پارک اور مری اور نتھیا گلی کے درمیان تین پہاڑی مقامات کو ملا کر اسے ایوبیہ کا نام دے دیا گیا۔ ایوب خان نے اس حرکت کو روکنے کی بجائے ان خوشامدی چوبداروں کو بڑے عہدے بخش دیئے! 1990ء کے عشرہ میں نائب تحصیلدار کے عہدے سے پراسرار طور پر اٹھ کر ملک کا صدر بن جانے والے غلام اصحاق خان کے صدارتی دور میں راولپنڈی پشاور روڈ پر ایک ادارے کا نام غلام اسحاق خاں ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ رکھ دیا گیا۔ خوشامد پسند غلام اسحق خان خود اپنا نام رکھے جانے کی رسم میں مہمان خصوصی بن گیا۔ ایک معاملہ بعض الزامات میں سزا یافتہ شخص نوازشریف کا ہے۔ موصوف کے خلاف اور بھی مقدمے زیر سماعت ہیں۔ یہ صاحب پنجاب میں وزیراعلیٰ تھے۔ ماڈل ٹائون لاہور میں ان کے محل نما گھر کے سامنے محنت کش مسیحی افراد کی ایک بستی تھی۔ گھر کے باہر نکلتے یہ بستی سامنے دکھائی دیتی تو موصوف کا موڈ خراب ہو جاتا۔ ایک روز موڈ زیادہ خراب ہواتو اس بستی پر بل ڈوزر چل گئے۔ ان غریب لوگوں نے احتجاج کیا تو متعدد افراد کو گرفتار کر کے باقی کو لاہور میں میلوں دور ایک ویرانے میںجا پھینکا اوراس بستی کی جگہ کے ساتھ سامنے تقریباً ڈیڑھ دو کلو میٹر دور تک فیروز پور روڈ کے ساتھ طویل بڑا پارک بنا کر اسے نوازشریف کا نام دے دیا۔ اسی پردل نہیں بھرا اور لاہور میں محتلف مقامات (ملتان روڈ، یکی گیٹ) پر سرکاری خزانے سے ہسپتال بنوائے انہیں نوازشریف ہسپتال کا نام دے دیا گیا۔ یہ ہسپتال اور پارک اب بھی اسی کے نام سے چل رہے ہیں جب کہ اس نام والے صاحب کو سنگین جرم میں کئی سال کی قید اور اربوں کا جرمانہ ہو چکا ہے۔ یہ جیل سے عارضی رہائی پر باہر آئے ہیں، پھر واپس جا سکتے ہیں، مگر ان کے نام اسی طرح پارک اور ہسپتالوں سے نمایاں وابستہ ہیں۔ ویسے یہ کام خیبر پختونخوا میں اسی طرح ہوا۔ اکرم درانی صوبے کے سینئر وزیر تھے، بنوں میں بننے والے کالج کا نام اکرم درانی کالج رکھ دیا گیا۔ موصوف گزشتہ انتخابات میں شکست کھا گئے مگر کالج کے ساتھ نام اسی طرح برقرار ہے۔ یادش بخیر، ملتان میں ایک ادارے کا نام شہباز شریف سے منسوب ہے۔ بڑے بھائی کا نام چل رہا ہے، چھوٹا بھائی پیچھے کیوں رہتا؟ میرے پاس سندھ اور بلوچستان کے بھی ایسے نام موجود ہیں مگر بات لمبی ہو رہی ہے، پھر سہی البتہ ایک چھوٹی سی بات کہ بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ کئی سال قبل اربوں روپے سے قائم ہوا۔ اب تک ہر سال اس فنڈ سے غریب لوگوں کے لئے کئی ارب روپے مختص کئے جاتے رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے دور میں مختلف سرکاری و غیر سرکاری سطحوں کی ’’منظور نظر‘‘ ایک خاتون فرزانہ راجہ کو اس پروگرام کی چیئرپرسن بنا دیا گیا۔ یہ خاتون اربوں کا فراڈ کر کے امریکہ میں بس گئی ہے، ساتھ ہی خبر بھی کہ بے نظیر بھٹو سپورٹ فنڈ سے غریب عوام کو تو کیا حاصل ہونا تھا، اس سے بہت سی تجوریاں بھر گئیں۔ اور یہ انکشاف کہ اس فنڈ کا ریکارڈ ہی غائب کر دیا گیا ہے! تحقیقات کیسے ہو گی؟ ویسے پیپلزپارٹی کی مخالفت اپنی جگہ مگر تحریک انصاف میں ہی نام تبدیل کرنے پر اتفاق موجود نہیں۔شاہ محمودقریشی مخالفت کر رہے ہیں۔
٭دوسری باتیں: کراچی کے علاقہ’ سوسائٹی‘ میں’’ماما بے بی کیئر کیمبرج سکول‘‘ کی سالانہ تقریب میں بڑی سکرین پر بھارت کا پرچم لہرایا گیا اور طلبا و طالبات نے بھارتی گانوں پر رقص کیا۔ وہاں موجود صحافیوں نے علاقہ کے تھانے میں  ایف آئی آر درج کرا دی۔ سندھ کے محکمہ تعلیم نے اس سکول کی رجسٹریشن منسوخ کر دی اور تحقیقات بھی شروع کر دی مگر…اس سکول کے پیچھے بہت بڑا بھارت نواز گروہ کارفرما تھا۔ اس میں شامل بہت اونچے بااثر افراد نے سارے شواہد گم کرا دیئے۔ طلبا کو بیان دینے سے روک دیا گیا۔ پولیس پر بھی دبائو ڈالا گیا…اور…اور گزشتہ روز سپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ رانا سیف اللہ نے یہ مقدمہ اس بنا پر کالعدم قرار دے دیا کہ اول توپولیس نے مقدمہ ہی غلط درج کرایا تھا۔ دیوانی مقدمے کو فوجداری بنا دیا، پھر یہ کہ بار بار سماعت کے دوران کوئی گواہ ہی پیش نہیں کیا گیا، فیصلہ کیسے ہو سکتا تھا؟ یہی فیصلہ بھارت میں سمجھوتہ ایکسپریس کے کئی سال پرانے مقدمہ کو ختم کرتے اور تمام ملزموں کو رہا کرتے وقت عدالت کے جج جگ جیت سنگھ نے دیا تھا کہ معاملہ تو بہت سنگین تھا مگر کوئی گواہ عدالت میں نہیں آیا۔ کیس کیسے چل سکتا ہے؟ ایک سکول اعلانیہ بھارت کا جھنڈا لہراتا ہے، طلبا سے بھارتی گانوں پر رقص کرایا جاتا ہے اور سکول کی پرنسپل فاطمہ کہہ رہی ہے کہ یہ ثقافتی پروگرام تھا کیا ہوا جو بھارت کی ثقافت دکھا دی گئی؟ اناللہ وانا الیہ راجعون…!پتہ نہیں کراچی کے شہری اس بارے میں کیا سوچ رہے ہیں؟
٭پنجاب میں وزیراعلیٰ کے سرکاری محکموں کے معائنہ کے اختیارات وزیراعلیٰ کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل کو دے دیئے گئے ہیں۔ پتہ نہیں اب وزیراعلیٰ کیا کریں گے۔ پہلے ہی بے اختیار تھے اور باقی؟… بقول فیضؔ’’تیرے عہد میں دل زار کے سبھی اختیار چلے گئے!‘‘
 

تازہ ترین خبریں