12:58 pm
 دل کا کیا کریں صاحب

 دل کا کیا کریں صاحب

12:58 pm

 نواز شریف کو عدلیہ سے علاج کیلئے ملنے والے  چھ ہفتے میں سے کچھ مدت ختم ہو گئی لیکن آج تک باقاعدگی سے علاج شروع ہو سکا نہ ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ شریف سٹی میڈیکل ہسپتال میں ان کے بعض ٹیسٹ کئے گئے اور باقی کا وقت سابق وزیر اعظم نے سیاسی سرگرمیوں میں گزارا ۔  وہ جو نواز شریف کی بیماری اور علاج کے بارے میں پریشان تھے اور لمبے چوڑے بیانات دے رہے تھے،اب شائد آرام  میں ہیں ، ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا   اگر نواز شریف کی زندگی کو کوئی خطرہ لاحق ہواء تو ذمہ دار وزیر اعظم عمران خان ہونگے۔سابق وزیر اعظم کو علاج کی جو سہولت  ضمانت کے بعد  فراہم کی جا رہی ہے اس سے بہتر تو  پنجاب حکومت جیل میں مہیا کر رہی تھی،مگر اب قائد ن لیگ کی زندگی خطرہ سے باہر ہے،اس لئے کہ وہ جیل سے باہر ہیں اور اپنے محل میں  سکون کے شب و روز گزار رہے ہیں۔نواز شریف کا اصل اعتراض تھا کہ علاج ان ڈاکٹرز کے ذ ریعے کرایا جائے  جو ماضی میں لندن میں ان کا علاج کرتے رہے،لیکن اب تک ان کی طرف سے لندن کے ان  ڈاکٹروں سے رابطہ نہیں کیا گیا،جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ علاج نہیں بلکہ علاج کی آڑ میں لندن جانا چاہتے تھے،مگر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں انکے بیرون ملک جانے پر پابندی برقرار رکھی،جس وجہ سے وہ اب اندرون ملک ہی علاج کے نام پر ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔
 
         جیل میں نواز شریف کی نامعلوم بیماری دن بدن پر اسرار ہوتی جا رہی تھی،جیل میں کم از کم تین میڈیکل بورڈزنے انکا معائنہ کیا سب کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف علیل ضرور ہیں مگر ان کو ایسی کوئی بیماری لاحق نہیں جس کا اندرون ملک علا ج ممکن نہ ہو،خود ان کے اپنے معالج ان رپورٹس سے مطمئن تھے مگر اس کے باوجودوہ علاج کیلئے ضمانت کے حصول اور لند ن جانے پر بضد رہے۔حکومت نے سابق و زیر اعظم کوعلاج معالجہ کی ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی،جیل سے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا،مگر نواز شریف لندن جا نے پر اصرار کرتے رہے اور مقامی طور پر علاج کرانے سے انکار کر دیا۔انکے اپنے معالجین کے مشورے پر ان کو جناح ہسپتال ٹرانسفر کیا گیا مگر انہوں نے وہاں بھی علاج کرانے سے انکارکر دیا اور واپس جیل جانے کی ضد کی،ڈاکٹروں کے اطمینان اور ان کے اصرار پر ان کو جیل بھیج دیا گیا،جس پر ان کی صاحبزادی اور ذاتی معالج نے ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہونے کا شور مچا نا شروع کر دیا،ان کا موقف ہے کہ نواز شریف کو دل کا عارضہ ہے اس کیلئے وہ لندن میں واقع اسی ہسپتال سے علاج کرائیں گے جہاں سے ماضی میں چیک اپ اور تشخیص کر کے ادو یات  تجویز کی گئی تھیں،وہ پاکستان میں انجیو گرافی کرانے پر بھی رضامند نہیں،جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ موصوف کی انجیو گرافی کے بعد ہی صورتحال واضح ہو گی،مگر سربراہ ن لیگ نے انجیو گرافی کو مسلہ فیثا غورث بنا دیا ۔اسلام آباد ہائیکورٹ سے علاج کیلئے ان درخواست ضمانت خارج ہو گئی،عدالت عالیہ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ ضمانت کیلئے بیماری کا ثبوت اور ڈاکٹروں کی رائے شامل نہیں کی گئی اس لئے ضمانت نہیں دی جا سکتی،جس کے بعد ضمانت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا ،سپریم کورٹ نے  چھ ہفتے کیلئے ضمانت منظور کر لی ۔ اب نواز   شریف کی زندگی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں، جیل جانے سے پہلے بھی نواز شریف کا دل بہت مضبوط تھا کبھی نہیں سنا کہ ان کو دل کا عارضہ ہے،مگر جیل جاتے ہی دل بیچارہ ’’دھک دھک‘‘ کرنے لگا،کرپشن مقدمات میں نا اہلی اورسزائے قید سے دل پرکیا کیا نہ گزری ہو گی،دل بھی کیا کرے گوشت کا ایک لوتھڑا ہی تو ہے اس قدر صعوبتیں کیسے اور کیونکر برداشت کر سکتا ہے؟
      اب تو دل ناداں سے ہی پوچھا جا سکتا ہے کہ آخر اس درد کی دوا کیا ہے،تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہنے والا شخص ملک میں ایک ایسا معیاری دل کا ہسپتال نہ بنا سکا جہاں سے علاج کرا کے اسے تسلی ہو،اور وہ علاج کیلئے بیرون ملک جانے کا خواہشمندنہ ہو،اصل معاملہ دل کا ہے نہ بیماری کا،درد کا ہے نہ طبیعت کی خرابی کا،اصل خواہش جو دل میں انگڑائیاں لے رہی ہے وہ ہے لندن جانے کی۔اس لئے دل کا کیا  کریں صاحب۔                                      
عمران خان کو کون سمجھائے کہ اشرافیہ کو تو سہانے سپنے دیکھنے کیلئے بھی لندن،پیرس،نیویارک اور دبئی کی راتیں ہی سہانی لگتی ہیں،پاکستان کی لوڈ شیڈنگ بھری راتوں میں خواب سنجھونے کا کیا فائدہ(حالانکہ ان کے محلات بجلی کی بندش سے اب بھی مبرا ہیں)نا تجربہ کار،نو آموزحکمرانوں کوکیا خبر کہ کیسے کیسے جتن کر کے سابق حکمرانوں نے لوٹ مار کی تھی اب وہ سارا پیسہ کسی اور کے استعمال میں ہے اور وہ جیل کے مہمان ،ایسا تو کسی’’جمہوری‘‘ ملک میں نہیں ہوتا،سابق وزیر اعظم کا استحقاق بھی ہوتا ہے،اس کا محاسبہ کرنا جمہوریت کیخلاف سازش کے زمرے میں آتا ہے،ملک کے(اپنے تئیں)سب سے مقبول لیڈر کو صرف کرپشن سکینڈل میں جیل بھیجنا پارلیمنٹ کی توہین ہے،اپنے کمائے پیسے کو خرچ کرنے کی اجازت نہ دینا آئین میں دئیے گئے بنیادی انسانی حقوق کی (باقی صفحہ6بقیہ نمبر1)
خلاف ورزی ہے۔یہ بات کوئی تحریک انصاف کی حکومت اور نیب والوں کو سمجھائے،ورنہ جمہوریت کو سخت خطرات لاحق ہوجائیں گے،غیر جمہوری طاقت اس صورتحال کا فائدہ بھی اٹھا سکتی ہے،اس لئے ضروری ہے کہ ہوش کے ناخن لیں اور ’’دل کا اعتبار کریں ۔   اس لئے بات سمجھیں اور   پراسرار دل کے مرض کے علاج اور کبھی نہ واپس آنے کیلئے لندن جانے کی اجازت دیدیں،آگے آپ کی مرضی اسے ڈیل کا نام دیں یا ڈھیل کا،ہم اسے انسانی ہمدردی گردانیں گے،کوئی اسے این آر او کہنا چاہے تو اس کی بھی اجازت ہے ،  جانے کے بعد جو دل چاہے قیاس آرائی کریں مگر ہمارادل سنگ و خشت نہیں،درد سے بھر آتا ہے تو رونے تڑپنے چیخنے چلانے اور لندن میں علاج پر پابندی نہ لگائیں،کل کلاں آپ  کا دل بھی لندن جانے کو مچل سکتا ہے پھر آپکو یہ  پابندی زہر لگے گی،اس لئے جمہوریت کیخلاف سازش کا حصہ بننے سے بہترہے سابق حکمرانوں کو د ل لگی کرنے دیں اور اس کیلئے لندن کی پر فضاء راتوں سے زیادہ مناسب کوئی مقام نہیں،لندن کے عالیشان
 محل نماء فلیٹس دل کو ڈھارس دینے کیلئے ہی تو قوم و ملک کو لوٹ کر خریدے تھے،اب اگر وہ کام نہ آئے تو کیا فائدہ اتنی مشقت کا؟تحریک انصاف کے کارکنوں کی فیصلہ پر تنقید بھی بے معنی ہے فیصلہ تب یکطرفہ اور غیر منصفانہ ہوتا اگر ضمانت نہ دی جاتی اب تو انصاف کا علم بلند
 ہواہے،ہاں اگر عدالت نے نواز  شریف کو لندن جانے  کی اجازت نہ   دی  تو  عدالتوں پرانکے اعتماد کا  مکمل پتہ چل جائے گا اس لئے تھوڑا انتظار کریں۔ 
 

تازہ ترین خبریں