08:05 am
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے

08:05 am

1998ء میں لاہور کے الحمراء ہال میں ’’پاکستان، عہد حاضر اور نفاذ اسلام‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں ملک کے چوٹی کے ایڈووکیٹ اورماہر قانون نے جن کا شمار نمایاں دانشوروں میں بھی ہوتا ہے ، نفاذ اسلام کے حوالے سے ایک عجیب بات کہی تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ نفاذ اسلام سے کیا آپ حضرات یہ مراد لیتے ہیں کہ اسلام کانفا ذ ڈنڈے اور پولیس کے زور سے کیاجائے؟ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو پاکستان کی صورت میں ایک ایساخطۂ زمین حاصل ہے جہاں مسلمانوں کی حکومت ہے اور دنیا بھر میں اسلام پھیل رہا ہے۔گویا ان کے نزدیک مسلمانوں کی حکومت قائم ہوجانا خواہ وہاں خالص سیکولر نظا م ہو یا اسلام کی وسعت پذیری ہی وہ اصل مقصد ہے جو ہم نفاذ اسلام سے حاصل کرنا چاہتے ہیں لہٰذا پاکستان جیسے ملک میں نفاذ اسلام کی بحث اٹھانا ہی بے معنی ہے ۔
 
ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہئے۔
کچھ اسی قسم کی بات اس سے کچھ عرصے قبل ملک کے ایک موقر روزنامے کے اداریہ نگار کی طرف سے بھی سامنے آئی تھی کہ اسلامی نظام کے قیام یا نفاذ سے آخر کیا مراد ہے؟کیا یہ کافی نہیں ہے کہ پاکستان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یہاں کے حکمران مسلمان ہیں۔ حیرت ہے کہ قیام نظام اسلامی یا نفاذ اسلام کے تصور اور اس کی دہشت سے پورا مغرب اور ابلیسی نظام تھر تھر کانپ رہا ہے لیکن ہمارے نام نہاد دانشور ابھی تک اس الجھن کا شکار ہیں کہ نفاذ اسلام سے مراد کیا ہے؟ 
 جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
ہمارے ان دانشوروں کے ذہنوں پر سیکولر سوچ اس درجے مسلط ہے کہ وہ دین اسلام کو بس کچھ عقائد و رسومات کا مجموعہ سمجھتے ہیں اور ان کی نگاہوں سے وہ آئین پیغمبر ﷺ بالکل اوجھل ہے جو نبی آخرالزماں ﷺ کی رحمۃ اللعالمینی کا سب سے بڑا مظہر اور ایک منصفانہ و عادلانہ نظام اجتماعی کا ضامن ہے اور جس کے بارے میں ابلیس نے اپنے چیلوں اور مشیروںکے سامنے اپنی انتہائی تشویش کا اظہار بقول علامہ اقبال ان الفاظ میں کیا تھا  ۔  
 جانتا ہے جس پہ روشن باطن ایام ہے    
مزکیت فتنہٌ فردا نہیں، اسلام ہے   
اور
عصر حاضر کے تقاضائوں سے ہے یہ خوف    
ہو نہ جائے آشکارہ شرع پیغمبر کہیں
پھر اس آئین پیغمبری یعنی نظام عدل اجتماعی کو نہایت جامع انداز میں چند اشعار میں حضرت علامہ نے سموکر ابلیس کی زبان سے کہلوایا ہے۔
الحذر! آئین پیغمبر سے سو بار الحذر  
حافظ ناموس زن ،مرد آزما، مرد آفریں
موت کا پیغام ہر نوع کی غلامی کیلئے             
نے کوئی فغفور و خاقاں، نے فقیر رہ نشیں
کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک صاف     
منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں
اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب        
پادشاہوں کی نہیں ، اللہ کی ہے یہ زمیں
یہی وہ دین توحید ہے جس کی زد پورے نظام اجتماعی پر پڑتی ہے۔ ہر گوشہ خواہ وہ معاشرتی و سماجی ہو یا سیاسی و معاشی توحید کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔نفاذ اسلام سے مراد صرف حدودو تعزیرات کا نفاذ نہیں بلکہ سماجی و معاشرتی نظام کو اسلامی اصولوں اور اقدار پر استوار کرتا ہے۔معیشت سے بھی ہر آلائش اور حرام (جن میں نمایاں ترین سود ہے) سے پاک کرکے اسلام کے دئیے ہوئے اصولوں ’’تاکہ دولت تمہارے اہل ثروت کے درمیان ہی گردش نہ کرے‘‘پر استوار کرنا اور اسی طرح سیاسی سطح پر ہر نوع کی غلامی سے نجات دینا جس میں آج کے دور میں سب سے بڑی غلامی اقتصادی غلامی ہے کہ جس کے شکنجے میں پورا نظام جکڑا ہوا ہے اور موجودہ مغربی اور جمہوری نظام سے کہ جو  
دیو استبدادجمہوری قبا میں پائے کوب 
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری  
کا مصداق ہے ،ان سب سے نجات دلاکر  
   تمیز بندو و آقا فساد آدمیت ہے  کی بنیاد پر سماجی و سیاسی نظام تشکیل دینا نفاذ اسلام کا اولین تقاضا ہے۔یہ سب کچھ نہیں ہے بلکہ منفی طور پر باطل نظام کا تسلط ہے تو محض یہ خیال کرنا کہ ہم اسلام کے سائے تلے جی رہے ہیں جنت الحمقاء میں رہنے کے مترادف ہے اور افسوس کہ ہمارے دانشوروں کی عظیم اکثریت اسی نظام کا شکار ہے۔

تازہ ترین خبریں