08:06 am
  علمی سرمائے پروار

علمی سرمائے پروار

08:06 am

نیوزی لینڈمیں آسٹریلیوی نسل پرست کے ہاتھوںہونے والے سفاکانہ دہشت گردانہ حملے میں پچاس مسلمانوں کی شہادت نے ساری دنیا کودہلاکررکھ دیاجس کیلئے بروزجمعہ 22 مارچ کو ہائی کمشنرنیوزی لینڈلندن کی دعوت پر تعزیتی سلسلہ میں ملاقات کی تیاری میں مصروف تھاکہ اچانک فون کی گھنٹی نے چونکادیا اورپاکستان سے حضرت مفتی تقی عثمانی کے بارے میں ایک خوفناک اطلاع  نے اوسان خطاکر دیئے اورمیں دل تھام کروہی ڈھیرہوگیااوراگلے ہی منٹ میں مفتی صاحب کے شاگردرشید مفتی زبیر صاحب مہتمم جامعہ صفہ سے رابطہ کیا توان کافون مسلسل مصروف چل رہاتھاجس سے دل اوربیٹھنا شروع ہو گیا۔اگلے چندمنٹوں کے بعدمفتی صاحب نے ٹیکسٹ میں تسلی کامختصرپیغام ارسال کرنے کے ساتھ مقامی میڈیاکے ساتھ اپنی مجوزہ مصروفیات  کی اطلاع دی لیکن دلی تسلی نہ ہونے کی وجہ سے میں پھربھی دوسرے ذرائع میںرابطہ میں رہاجب تک قبلہ مفتی صاحب کی مکمل خیریت کی اطلاع موصول نہیں ہوگئی۔
 
رب کریم کاشکرہے کہ جس نے عالم اسلام کے نامورمحقق عالم دین،شیخ الاسلام جسٹس(ر)مفتی محمدتقی عثمانی پرخوفناک قاتلانہ حملے میں مکمل محفوظ رکھا۔ پاکستان بھر سے تمام جیدعلماء اورتمام عالم اسلام نے وزیراعظم عمران خان سے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے گہری اورگھناؤنی سازش قراردیتے ہوئے اس سازش کوبے نقاب کرنے کیلئے ہرممکنہ کوشش کوبروئے کارلانے کامطالبہ کیا ۔
درحقیقت اس حملے میں کسی فردکونشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ ملک وملت کے دشمنوں نے مفتی تقی عثمانی کی صورت میں علمی سرمائے پروارکیاہے۔مفتی تقی عثمانی دنیاکے سرکردہ گنے چنے چوٹی کے بڑے علمائے کرام میں سے ایک ہیں۔رابطہ عالمی اسلامی کے تحت دنیاکے بڑے مفتیانِ کرام کے بورڈجمع الفقہ اسلامی کے واحدپاکستانی رکن ہیں۔وہ بیک وقت بڑے محدث، مفسراورفقیہ ہونے کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔آپ اسلامی نظریاتی کونسل کے بانی ارکان میں ہیں جبکہ دوسال تک وفاقی شرعی عدالت اوربیس برس تک پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کے جج رہے ہیں۔آپ شریعت اپیلٹ بنچ کے چیف جسٹس بھی رہے ہیں۔آپ نے بحیثیت جج کئی اہم مشہورفیصلے بھی کئے جس میں سودکوغیراسلامی قراردیکراس پرپابندی کافیصلہ سب سے مشہورہے۔2002ء میں اسی فیصلے کی پاداش میں سابق ڈکٹیٹرپرویزمشرف نے انہیں عہدے سے برطرف کر دیاتھا۔ آپ دودرجن سے زائدمفیدعلمی کتابوں کے مصنف ہیں جبکہ ان کے اصلاحی خطبات کے ذریعے لاکھوں افرادنے اپنی زندگی کارخ تبدیل کیاہے۔
آپ گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصے سے درس وتدریس،وعظ وتبلیغ اورتصنیف وتالیف کے ذریعے دنیابھرمیں دین حنیف کی گراں قدرخدمت سرانجام دے رہے ہیں۔وہ ممتازدینی درسگاہ دارلعلوم کراچی کے شیخ الحدیث ہیں اورکئی برس سے صحیح بخاری شریف پڑھارہے ہیں۔سودسے پاک بینکاری بھی ان کی کاوشوں کانتیجہ ہے۔ان کی خدمات کا دائرہ عرب وعجم،مشرق ومغرب میں پھیلاہواہے جس کامجھ جیساکم علم احاطہ نہیں کرسکتا۔بلاشبہ اس وقت پورے پاکستان میں ان کی ہم پلہ کوئی علمی شخصیت نہیں ہے،اس لئے انہیں شیخ الاسلام کے لقب سے یادکیاجاتاہے۔عرب ممالک میں مفتی تقی عثمانی کوہی پاکستان کاسب سے بڑاعالم دین تسلیم کیاجاتاہے۔پاکستان میں کئی جیدعلماء شہیدہوئے مگرجس طرح عرب میڈیانے تڑپ کراس واقعہ کوہائی لائٹ کیا،اس سے بھی شیخ اسلام کی عالم اسلام میں اہمیت کااندازہ ہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے زیرصدارت حرمین شریفین میں بھی بڑی بڑی کانفرنسیں منعقدہوتی ہیں۔
ربّ ِ کریم کاشکرہے کہ ان پرقاتلانہ حملہ ناکام ہوا۔اگرخدانخواستہ دہشت گرداپنی گھناؤنی سازش میں کامیاب ہوجاتے توعلمی دنیااورعالم اسلام کیلئے یہ نائن الیون سے بھی بڑاسانحہ ہوتا۔ اب ایک ہی سوال ہرخاص وعام کے ذہن میں اٹھ رہاہے کہ اتنی بڑی بین الاقوامی شخصیت کی فول پروف سیکورٹی کیوں نہیں دی گئی؟گورنرسندھ نے اس حملے کے فوری بعداعتراف کیاکہ مفتی صاحب نے دھمکیاں ملنے کاذکرکیاتھا (جبکہ مفتی صاحب نے خودٹی وی کے پروگرام میں اس کی تردیدکی ہے)مگرپھربھی انہیں سیکورٹی کیوں نہیں دی گئی؟یہاں ملکی خزانے کوشیرمادرسمجھ کرڈکارنے والے بڑے بڑے لٹیرے اوران کی اولادیں درجنوں سیکورٹی گاڑیوں کے حصارمیں گھومتی رہتی ہیں مگرایسی شخصیات جوصرف ملک وملت کے نہیں بلکہ عالم اسلام کاانتہائی قیمتی سرمایہ ہیں،ان کی حفاظت کیلئے صرف ایک پولیس اہلکارتعینات تھاجوحکومت کی بدترین غفلت کاثبوت ہے۔
نامورعالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ مفتی تقی عثمانی تحریک پاکستان کے عظیم رہنماء مفتی محمدشفیع عثمانی کے فرزندارجمندہیں جن کے گھر میں تحریک پاکستان نے جنم لیااوربانیان پاکستان کی گودمیں پرورش پانے والے کی حفاظت کویقینی بناناریاست کی اہم ذمہ داری ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں علمائے دین کی جان کوکبھی اہمیت نہیں دی گئی۔اسی شہرکراچی میں اب تک درجنوں نہیں سینکڑوں جیدعلمائے کرام کوبیدردی سے شہید کیا گیا ، مگرحکومت نے کسی ایک کے قاتل کوبھی پکڑ کر کیفر کردارتک نہیں پہنچایا۔جن کے قاتل پکڑے بھی گئے انہیں چھوڑدیا گیا۔عموماًعلماء کے قتل کوفرقہ وارانہ رنگ دیکرجان چھڑائی جاتی ہے مگرمفتی محمدتقی عثمانی فرقہ واریت سے کوسوں دوراوراعتدل پسندی کی وجہ سے تمام مکاتب فکرکے نزدیک احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔ان کاسیاست سے بھی کوئی تعلق نہیں رہا، وہ ایک مردِ درویش ،ایک بردارمصلح ،اک دبستان فکروفن ، اندھیرنگری کاایک نجم الثاقب، امیدکی ایک کرن،اک چراغ محفل اورامن وآشتی کاعلمبردار ہیں ۔اس لئے اس گھناؤنی واردات کوفرقہ واریت کے کھاتے میں نہیں ڈالاجاسکتا۔
اس حملے نے پورے عالم اسلام کوبالعموم اورملک کے دینی طبقے کوبالخصوص انتہائی تشویش میں مبتلاکردیا ہے۔وہ احساس عدم تحفظ کاشکارہوگیاہے ۔ اربابِ اقتدارکی جانب سے صرف زبانی کلامی مذمت یا افسوس کانوٹس لیناکافی نہیںہے،یقینا یہ ملک گیر فسادات برپاکرنے کی ایک خطرناک گھناؤنی سازش تھی۔اگرخدانخواستہ دہشت گردکامیاب ہوجاتے تو اس کے تباہ کن نتائج سامنے آتے مگراللہ نے کرم کیا۔اس سازش کوبے نقاب کرنااورجلدازجلداس واقعے کے ذمہ داروں کوپکڑکرقانون کے کٹہرے میں لاناحکومت کی ذمہ داری ہے۔       

 

تازہ ترین خبریں