08:08 am
ملک میں چلنے والی سستی ہوائیں؟

ملک میں چلنے والی سستی ہوائیں؟

08:08 am

اب یقیناًپاکستان کے عوام بہت خوش ہوں گے اس لئے کہ ’’تبدیلی‘‘ تو بہرحال آہی رہی ہے … پٹرول‘ ڈیزل کی قیمتوں میں6 روپے فی لیٹر کے حساب سے اضافہ‘ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے لیٹر اضافہ‘ قوم کو اپنے ہیرو وزیرا عظم عمران خان کا مشکور ہونا چاہیے کہ ان کے ایسے فیصلوں کی وجہ سے ملک میں ’’سستاپے‘‘ کی ہوائیں چل رہی ہیں۔
 
انسان سبزی منڈی جائے تو سبزیاں سستی‘ جنرل سٹور پر جائے تو کوکنگ آئل‘ گھی‘ پتی سے لے کر چینی اور دالوں تک سستی ‘مہنگے ترین دور میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے سستے پن کا سن کر حیران رہ جاتا ہے‘ میڈیکل سٹور پر جائے تو جان بچانے والی ادویات بھی ماشاء اللہ مزید ’’سستی‘‘ ہوچکی ہیں۔پہلے اور اب میں بس اتنی سی ’’تبدیلی‘‘ آئی ہے کہ پہلے مریض دوائیں کھاکر فوت ہوتے تھے اب دوائوں کی قیمتیں سن کر ہی مر جانے کو ترجیح دینا شروع ہوچکے ہیں۔
پاکستان کے عوام کو مبارک ہو کہ انہوں نے اپنے ووٹوں سے ایک ایسے وزیراعظم کو منتخب کیا کہ جو کم از کم کرپٹ تو نہیں ہے‘ کہا جاتا ہے کہ وہ دیانت دار بھی  بڑا ہے‘ یہ بھی سنا ہے کہ اسے دولت کی ہوس نہیں ہے‘ اللہ ہی جانے کہ حقیقت کیا ہے؟ لیکن عمران خان تو  وزیراعظم بننے سے پہلے کہا کرتے تھے کہ میں تمہیں ’’رولائوں‘‘ گا ‘ تمہاری چیخیں نکلوائوں گا‘ پاکستانی عوام کو ستر سالوں میں کوئی تو ایسا وزیراعظم ملا کہ جس نے الیکشن کمپئن میں کیا ہوا یہ وعدہ اپنی حکومت کے ابتدائی8 مہینوں میں ہی سچ ثابت کر دکھایا۔
پاکستان کے عوام کو اب اپنی ’’چیخیں‘‘ سن کر خود پہ ہنسی آتی تو ہوگی؟ پاکستان کے عوام کے رونے‘ تڑپنے‘ بلکنے‘ سسکنے اور چیخنے پر وزیر خزانہ اسد عمر حیران تو ہوتے ہوں گے کہ ’’تبدیلی‘‘ مارکہ موسم میں چلنے والی سستی ہوائوں کے باوجود آخر عوام چیخ کیوں رہے ہیں؟
جب انہیں عوام کی بلند ہوئی چیخیں سنائی دیتی ہوں گی تو اسد عمر کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر نخوت بھرے انداز میں سر جھٹک کر ضرور یہ کہتے ہوں گے کہ ’’دھت تیرے کی پاگل اور جاہل لوگ! اگر ’’سستے پن‘‘ پر اتنا ہی چیخنا تھا تو پھر تبدیلی کے نعرے کیوں مارے  تھے‘‘؟
روک سکو تو روک لو
تبدیلی آئی رے
جھوم‘ جھوم کے کیوں گایا کرتے  تھے؟  
ابھی تو ابتداء عشق ہے روتا ہے کیا؟ 
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟
ورلڈ کپ کے ہیرو کو مبارک ہو کہ اس کے نئے پاکستان میں عوام روتے ہوئے بھی مسکرا رہے ہیں … شوکت خانم کینسر ہسپتال اورنمل یونیورسٹی بنانے والے کو مبارک ہو کہ اس نے عوام سے ووٹ لے کر ان کے اس احسان کا بدلہ اپنی حکومت کے ابتدائی 8 مہینوں میں ہی چکا دیا۔
دوسری طرف پاکستان شماریات بیورو نے مہنگائی کے جو اعدادو شمار جاری کیے ہیں ان کے مطابق مہنگائی کی شرح9.4 فیصد تک پہنچ گئی‘ مہنگائی کی شرح میں فروری کی نسبت مارچ میں14 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا‘ سالانہ کی بنیاد پر سی این جی کی قیمتیں25.3 فیصد بڑھیں‘ ایل پی جی سلنڈر13.4 اور ہائی سپیڈ ڈیزل13.1 فیصد سے زائد مہنگا ہوا‘ سالانہ کی بنیاد پر سبز مرچیں1.51 فیصد اور سرخ مرچیں27.6 فیصد مہنگی ہوئیں‘ دال کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران22.7 اور گوشت کی قیمتیں13.8 فیصد بڑھیں‘ ماہانہ کی بنیاد پر پیاز 39.2 فیصد‘ کینو22.3 فیصد‘ ٹماٹر کی قیمت میں18.8 فیصد ‘ کیلے کی قیمت میں1.5 فیصد سے  زائد کا اضافہ ہوا۔دال مونگ کی قیمت میں ایک ماہ کے دوران12.6 فیصد ‘ لہسن11 فیصد‘ فضائی کرایوں میں13.4 فیصد اضافہ ہوا۔
 پاکستان شماریات بیورو کی رپورٹ کے مطابق  ملک میں مہنگائی پانچ سال کی بلند ترین شرح کو پہنچ چکی ہے‘ پاکستان شماریات بیورو کی یہ رپورٹ پاکستانی عوام کی چیخوں سے کافی ہم آہنگ ہے‘ لیکن جنرل (ر) عمر کے صاحبزادے اسد عمر کے اس فرمان کا کیا کیا جائے کہ جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’’ہمارے دور میں مہنگائی کم ہوئی ہے‘‘ اس خاکسار نے تو کالم کے آغاز میں ہی لکھ دیا تھا کہ ملک میں تبدیلی مارکہ سستی ہوائیں چل رہی ہیں۔
شاباش اسد عمر! بالکل اس بات کا اعتراف نہ کرنا کہ ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے ‘ عوام جسے مہنگائی سمجھ کر چیخیں مار رہے ہیں وہ مہنگائی نہیں سستاپا ہے‘ پاکستان کے عوام تو ویسے بھی اس اصول کے قائل ہیں کہ تم ’’جیتو یا ہارو‘ ہمیں تم سے پیار ہے‘‘۔
کپتان کی حکومت مہنگائی کے جنات مسلط کرے یا بھوت اور چڑیلیں‘ عوام تبدیلی کے ہمرکاب چیختے ہی رہیں گے ‘ رہ گئی اپوزیشن تو اسے فی الحال’’ ابا بچائو‘‘ تحریک سے ہی فرصت نہیں ہے‘ ذرا بلاول بھٹو کی ’’سیاست‘‘ کے عروج کا لیول چیک کیجئے… بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام کی تبدیلی کی سرگوشیاں شروع ہوئیں تو بلاول نے نام کی اس تبدیلی کو گہری سازش قرار دے دیا‘ حالانکہ حکومت کا یہ استحقاق ہے کہ وہ چاہے تو نام کو تبدیل کرسکتی ہے‘ مطلب یہ کہ نان ایشو کو ایشو بناکر سیاست‘ سیاست کھیلنے والے اپنے گھرانے سے باہر نکلنے کیلئے نہ تیار ہیں اور نہ آمادہ‘ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر حکومت قومی خزانے سے چلنے والے پروگرام کے نام کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو بلاول خم ٹھونک کر کہتے کہ اگر حکومت نام تبدیل کرے گی تو ہم بینظیر کے نام سے نئے پروگرام کو اپنے ذاتی فنڈز سے شروع کرکے سندھ کے غریبوں کی مدد کریں گے‘ لگتا ہے کہ بلاول اپنے ذاتی فنڈز سے غریبوں کی مدد کرنے کی بجائے بیرون ملک جائیدادیں بنانا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں‘ اس لئے حکومت ہو یا اپوزیشن کے دعویدار وہ فی الحال ملک میں چلنے والی سستی ہوائوں کو انجوائے کرنا چاہتے ہیں۔

 

تازہ ترین خبریں