08:09 am
  ایل پی جی کانیا بم…وزراء کی ’ہاتھ پائی‘

ایل پی جی کانیا بم…وزراء کی ’ہاتھ پائی‘

08:09 am

٭بجلی گیس، پٹرول کے بعد ایل پی جی مہنگی، لاہور میں پانی 97 فیصد مہنگاO مقبوضہ کشمیر مزید چار کشمیری شہید، مارچ میں شہدا کی تعداد 27 ہوگئی O وفاقی کابینہ میں لڑائی، وزیروں کے ایک دوسرے کے خلاف الزامات، لپاڈگی!O ایان علی کا فلیٹ ضبط، نیلامی کا اشتہار O کرکٹ :بدترین شکستوں والی ٹیم واپس پہنچ گئی، عمر اکمل نے نائٹ کلب میں رات گزاری، بھاری جرمانہ۔
 
٭مقبوضہ کشمیر میں بھارتی درندہ فوج نے مزید چار کشمیری شہید کر دیئے۔ آزاد کشمیر کے صدر مسعود خاں کے مطابق پچھلے ماہ مارچ میں 27 کشمیری شہید ہوئے۔ بھارتی وزیراعظم مودی کی سابق چہیتی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی بھی چیخ اٹھی۔ ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کی پیلٹ فائرنگ (چھروں کی فائرنگ) سے مقبوضہ کشمیر کی37 فیصد آبادی آنکھوں کی بینائی سے مکمل یا جزوی طور پر محروم ہو چکی ہے۔ محبوبہ مفتی کے والد مفتی سعید مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ کے علاوہ بھارتی حکومت میں وزیر رہے، کشمیریوںکے خلاف بھارتی فوج کی درندگی کا مکمل ساتھ دیا۔ کشمیری عوام کے ساتھ یہی سلوک، شیخ عبداللہ، فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، بخشی غلام محمد، صادق محمداور دوسرے کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ نے بھی کیا۔ ان لوگوں نے دہلی میں جائیدادیں بنائیں، اولادیںدہلی میں پڑھتی رہیں، جموں اور کشمیر میں کشمیری عوام پر بھارتی فوج کے ظلم و تشدد کے ساتھ پورا تعاون کرتے رہے، ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری باشندے شہید، اتنے ہی لاپتہ اور اتنے ہی زخمی ہو کر جیلوں میں پہنچ گئے، ان لوگوںکی کوئی غیرت، حمیت نہ جاگ سکی۔ ان سب کے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر پر سات لاکھ بھارتی فوج قابض ہے، کٹھ پتلی حکومتوں کو ہر کام کے لئے بھارتی فوج کی اجازت حاصل کرنا پڑتی ہے۔ محبوبہ مفتی کا بھی یہی حال رہا۔ اسے مقبوضہ کشمیر کی ’حسینہ واجد‘ کا نام دیا جا چکا ہے جو بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے لیڈروں کو پھانسیاں دے رہی ہے۔ اور اب یہ کشمیری حسینہ واجد کہہ رہی ہے کہ کشمیر کا بھارت سے الحاق ختم ہو سکتا ہے!
٭آصف علی زرداری کو ایک اور جھٹکا! موصوف کے اہم ترین دست راست سندھ کے سابق وزیراعلیٰ کی حکومت کے ’کنٹرولر‘ حقیقی وزیراعلیٰ اویس مظہر ٹپی کی دبئی سے گرفتاری کی متضاد اطلاعات (ٹپی نے اپنی گرفتاری کی تردید کی) وہ سندھ کی زمینوں پر وسیع قبضے، وسیع پیمانے پر کرپشن، بھاری منی لانڈرنگ! افسروں کے تبادلوں میں ملوث ہے، ساری افسر شاہی فرمانبردار ، بے چارے بے اختیار وزیراعلیٰ قائم علی شاہ منہ دیکھتے رہ جاتے تھے۔ مگر پھر! اب جیل، پیشیاں؟
٭وفاقی کابینہ کے وزیرآپس میں لڑ پڑے ۔ ن لیگ یا پیپلزپارٹی کو وفاقی حکومت کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ ایک نظر حکومتی اکھاڑے میں ایک دوسرے سے برسرپیکار پہلوانوں کی لپاڈگی (مخالفین سے ہاتھا پائی، لڑائی) ملاحظہ فرمائیں: شاہ محمود قریشی بنام جہانگیر ترین، نعیم الحق بنام فواد چودھری، جہانگیر ترین بنام اسد عمر، غلام سرور بنام شاہ محمود قریشی! جہانگیر ترین کا گروپ فواد چودھری، فیصل واوڈا، تیمور خاں جھگڑا، عون چودھری، غلام سرور، پرویز خٹک، عمر ایوب… شاہ محمود قریشی کا گروپ، شیریں مزاری، اسد عمر، نعیم الحق، کچھ پارلیمانی سیکرٹری ادھر، کچھ ادھر۔ شاہ محمود قریشی کی انتخابات سے پہلے ہی جہانگیر ترین کے ساتھ سخت عداوت رہی ہے۔ قریشی کا تعلق ملتان سے اور ترین کا تعلق کچھ کلو میٹر دور لودھراں سے ہے۔ دونوں کا ہمیشہ سے خاندانی اور انتخابی جھگڑا چلتا رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے اعتراض اٹھایا ہے کہ جہانگیر ترین سپریم کورٹ سے نااہل قرار پا چکے ہیں، وہ کابینہ کے اجلاسوں میں کیوں بیٹھتے ہیں؟ یہ اعتراض محل نظر ہے۔ معروف قانون دانوں کے مطابق آئین میں یا قانون میں ایسی کوئی پابندی نہیں۔ وزیراعظم کو آئینی اختیار ہے کہ وہ حکومت چلانے کے لئے کابینہ کے ساتھ کام کرنے کیلئے غیر منتخب مشیر اور معاون بھی مقرر کر سکتا ہے۔ ان لوگوں کو حکومتی کارکردگی جاننے کے لئے کابینہ کے اجلاسوں میں بھی بلایا جا سکتا ہے البتہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق کسی مشیر یا معاون کو وزیر کے اختیارات حاصل نہیں ہوتے، سپریم کورٹ نے کابینہ کے اجلاس میں آنے سے نہیں روکا۔ اہم بات کہ جہانگیر ترین نے کہاہے کہ میں جو کچھ کرتا ہوں وزیراعظم کی خواہش اور ہدایت پر کرتا ہوں۔
٭ماڈل گرل ایان علی پھر ’بیمار‘ ہو گئی۔ ملکوں ملکوں ناچنے والی فیشن ماڈل کے خلاف پانچ کروڑ روپے کی سمگلنگ کا الزام ہے۔ عدالت میں پیش نہ ہونے پر خصوصی کسٹم عدالت نے اس کے ضبط شدہ کراچی والے فلیٹ کی نیلامی کا اشتہار جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ اس موقع پر ایان علی کے وکیل نے عذر پیش کیا کہ ایان علی بیمار ہے، فی الحال حاضر نہیں ہو سکتی۔ گزشتہ سماعت پر ایان علی کے ایک معاون ہم سفر (مشتاق!) نے تحقیقات میں انکشاف کیا تھا کہ وہ ایان علی کے ساتھ بیرون ملک 45 سفر کر چکا ہے (اربوں کی سمگلنگ!) مشتاق سابق صدر آصف زرداری کے ساتھ ایوان صدر میں پروٹوکول افسر تھا۔ (آصف زرداری اور ایان علی!)۔ایان علی کا نام بہت ’مشہور‘ ہو چکا ہے۔ یہ لڑکی (خاتون!) اڈیالہ جیل میں بھی اعلیٰ درجے کا میک اپ کرتی تھی، جیل سے عدالت میں آتے وقت ہر موقع پر نہائت ماڈرن مغربی لباس پہن کر آتی۔ محض اس کا ہر بار نیا فیشن دیکھنے کے لئے کثیر تعداد میں لوگ جمع ہو جاتے۔ پھر یہ حسین حقانی اور عشرت العبادکی طرح باہر بھاگ گئی۔ جب بھی عدالت میں بلایا گیا بیمار ہو گئی! اس کی بیماری بھی نوازشریف، اسحاق ڈار، آصف زرداری، شرجیل میمن، ڈاکٹر عاصم حسین، پرویز مشرف اور فیصل رضا عابدی کی(تازہ بیمار!) بیماریوں کی نئی پیچیدہ قسم کی کوئی ہنگامی بیماری ہے۔ یہ بیماریاں پاکستان بلکہ برطانیہ، امریکہ اور دبئی کے ڈاکٹروں کی سمجھ میںبھی نہیں آتیں۔ ویسے یہ لوگ بالکل تندرست ہوتے ہیں۔ ایان علی اور پرویز مشرف بیرون ملک رقص کرتے پھرتے ہیں۔ نوازشریف اور آصف زرداری انتخابی جلسوں میں بلند بانگ تقریریں کرتے ہیں۔ فیصل رضا عابدی سرعام سپریم کورٹ کے خلاف بڑھکیں مارتا ہے، اسحق ڈار لندن کی سڑکوں پر بھاگتا پھرتا ہے۔ شرجیل میمن کو جیل میں کوئی وی آئی بیماری لاحق ہو جاتی ہے۔ اس کے علاج کے لئے ایک ہسپتال کو اعلیٰ درجے کے ’شاندار کلب‘ میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جس میں شراب کی بوتلیں بھی ملتی ہیں۔ان سب لوگوں کو عدالت میں طلب کیا جاتا ہے تو ان پر اچانک کوئی پیچیدہ بیماری نازل ہو جاتی ہے!
٭سکول کی تعلیم چھوڑ کر کرکٹ کو گلی ڈنڈا کا رنگ دینے والے اور بے حد غربت کے عالم سے اچانک کروڑ پتی ہونے والا عمر اکمل اپنی عیاشیوں اورخرمستیوں سے باز نہ آیا۔ آسٹریلیا کے خلاف چار میچوں میں صرف سوا سو رنز بنانے والا عمر اکمل نے دبئی میں کرکٹ کی تیاری کی بجائے ایک نائٹ کلب میں رات گزاری، رقص موسیقی میں شریک رہا۔ اسے کرکٹ بورڈ نے بھاری جرمانہ کر دیا ہے۔ یہ شخص لاہور میں بھی عیش و عشرت کی ایسی محفلوں میں شریک رہا، پرانے تنگ و تاریک لاہور سے گلبرگ جیسی ماڈرن بستی میں منتقل ہو کر بھی پرانی خصلت نہ گئی۔ محلے کے نوجوانوں سے ہاتھا پائی کی پولیس تک معاملہ جا پہنچا۔ دوسرا بھائی سڑک پر ٹریفک وارڈن سے ہاتھا پائی پر اتر آیا، بھاری جرمانہ دے کر جان چھڑائی۔ الامان!


 

تازہ ترین خبریں