08:37 am
امریکہ اور افغانوں کا کاندھا ، بھارت کی بندوق

امریکہ اور افغانوں کا کاندھا ، بھارت کی بندوق

08:37 am

ہائیبرڈ سے مراد ایسی جنگ ہے جو روایتی اور غیر  روایتی، حرکی و غیر حرکی تمام صورتوں میں دشمن کے خلاف لڑی جاتی ہے۔ اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ دشمن کو خفیہ وار سے کم زور کرنے کی حکمت عملی کے لیے  ہندوستان میں ارتھ شاستر صدیوں  پرانا ماخذ ہے۔  اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے پرانے اصولوں پر ترتیب دیے گئے ان حربوں کو بھی جدت دی ہے۔ ہائیبرڈ وارفیئر کے دو یا زائد اجزا ہیں۔ اس میں بیک وقت طاقت کے مختلف ذرائع کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ ان کی مدد سے سماجی کمزوریوں پر وار کیا جائے اور معاشرتی تانے بانے کو زک پہنچے۔ اس حکمت عملی کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تحت استعمال ہونے والے ہتھکنڈوں کی نشان دہی اور تشخیص آسانی سے ممکن نہیں ہوتی۔ اس حکمت عملی کا تمام  انحصار پوری رفتار، پھیلاؤ اور قوت سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال پر ہے، جس نے معلومات کے اس عہد کو صورت گری کی ہے۔ اس کی ایک اور پیچیدگی یہ ہے کہ اس میں حملے کے ماخذ یا حملہ آور کی نشاندہی بہ آسانی ممکن نہیں۔ 
 
1947ء کے بعد بھارت کی افغانستان میں جو حکمت عملی رہی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح اس نے ان تاریخی ماخذ سے استفادہ کیا۔ تقسیم ہند کے ساتھ ہی بھارت نے پاکستان کو اپنا دشمن تسلیم کرلیا تھا۔ یہ ملک اپنے قیام کے ساتھ ہی بھارت کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔ زیر سطح ہمیشہ پاکستان کو کمزور کرنے اور شکست دینے کے ہدف پر بھارت کام کرتا رہتا ہے اور اکثر یہ کوششیں سامنے نہیں آتیں۔ دوسری جانب پاکستان بھی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے لیکن بھارت کے ہاتھ میں صفائی زیادہ ہے اور ہماری کامیابیاں بھی کم رہی ہیں۔ دشمن کی جانب سے غیر حرکی یا نان کائنٹک حربوں کے استعمال سے ہمیں یہ بھی یہ جواز ملتا ہے کہ اپنے دفاع کے لیے ہم ان ذرائع کا استعمال کریں۔ حکمت عملی کی اس سطح پر آئی ایس آئی پاکستان کو دشمنوں سے محفوظ کرنے میں زیادہ کامیاب نہیں رہی ہے، ہم صرف نان کائنٹک ذرائع میں برابری کا جواب دے سکے ہیں۔ بھارت کبھی اس میدان میں ہمارا سامنا نہیں کرسکا۔ ہمیں اصلاح اور بہتری کی ضرورت ہے۔ 
ڈیورنڈ لائن کی وجہ سے افغانستان اور پاکستان کے مابین تعلقات ابتدا ہی سے ناخوشگوار رہے۔ انیسویں صدی میں وجود میں آنے والا یہ نوآبادیاتی ورثہ 1947ء میں پاکستان کی سرحد بنا۔ افغانستان اسے باقاعدہ سرحد تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ بھارت نے اس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے(دشمن کا دشمن دوست کی چانکیائی پالیسی اپنائی) اور پاکستان کے گرد دونوں جانب سے گھیرا ڈالنے کی پالیسی اپنائی۔  1950ء میں بھارت اور افغانستان کے مابین پانچ سالہ دوستی کا معاہدہ ہوا جس میں ’’دونوں حکومتوں کے مابین دائمی امن اور دوستی‘‘ پر رضامندی کا اظہار کیا گیا اور ایک دوسرے کے ممالک میں سفارتی اور قونصلر پوسٹ بنائی گئیں۔ افغانستان پر سوویت قبضے کے دوران بھارت نے روس کی بھرپور حمایت کی، براہ راست اس تنازعے میں پڑنے سے گریز کیا لیکن افغان نوجوانوں کے اسٹڈی ایکسچینج پروگرام جاری رکھے۔ ایسا کب ہوتا ہے کہ کوئی آپ کے فائدے کے لیے اپنا جان و مال قربان کرے؟ 
نوگیارہ کے بعد افغانستان میں طالبان حکومت پر امریکی حملے سے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوا۔ امریکہ نے اس ملک کی قیادت سنبھال لی اور کم و بیش اس کا معاشی بوجھ بھی اٹھایا۔ اگرچہ زیادہ جانی نقصان افغانوں کا ہوا لیکن امریکہ اس سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ یہاں بھارت سے چوک ہوئی۔ اس نے ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ میں شمولیت اختیار نہیں کی لیکن پاکستان سے متعلق امریکہ کے شبہات بڑھانے میں توانائیاں صرف کیے رکھیں۔ امریکہ لوٹنے والے فوجیوں کے تابوت پاکستان کے خلاف امریکہ کے غیض و غضب کو ہوا دیتے رہے۔ پچھلے تیس برسوں میں جس نے پاکستان کی مخالفت کی بھارت نے اس کی پیٹھ ٹھوکی۔ طالبان کے خلاف شمالی اتحاد کا ساتھ صرف اس لیے دیا کہ ان کے رہنما احمد شاہ مسعود پاکستان مخالف جذبات رکھتا تھا۔ بھارت نے سوویت یونین کے جانے کے بعد مختصر مدت کے لیے قائم ہونے والی شمالی اتحاد کی حکومت کی بھی معاونت کی۔ دوسرا یہ کہ بھارت طالبان سے خائف تھا، جنہیں پاکستان اور جہادی نظریات کی پیداوار تصور کیا جاسکتا تھا اور بھارت کو خدشہ تھا کہ یہ گروپ کشمیر میں ان کے لیے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔        ( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں