08:37 am
مودی کودشمن کی ضرورت نہیں

مودی کودشمن کی ضرورت نہیں

08:37 am

بھارت کاسالانہ بجٹ ہمیشہ فروری میں پیش کیاجاتاہے کیونکہ اس کامالی سال مارچ سے شروع ہوکرفروری میں ختم ہوتاہے۔اس سال یکم فروری کوہی بھارتی متعصب ہندوجماعت بی جے پی سرکارنے اپنا آخری بجٹ پیش کردیا،وہ یہ کہہ رہی ہے کہ حکومت کے پانچ سال جون میں ختم ہورہے ہیں ۔بجٹ وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے بیمارہونے کی وجہ سے قائمقام وزیرخزانہ پیوش گوئل نے پیش کیا۔انہوں نے بجٹ تقریر کا آغاز مودی  کے سرجیکل ڈرامے سے پیش کیااوروہ مودی کے اس ڈرامے کوحقیقت بناکر پیش کرنا چاہ رہے تھے۔
 
نئے بجٹ کاکل حجم27لاکھ کروڑ ہے جس میں دفاع کیلئے تین لاکھ کروڑمختص کیے گئے ہیں۔یہ رقم گزشتہ بجٹ سے آٹھ فیصدزیادہ ہے اوراس کامقصد زیادہ سے زیادہ جدیداسلحہ خریدناہے تاکہ پڑوسی ملک پررعب طاری کرکے ان پرخوف طاری کیاجائے۔ بھارتی یہ بھول چکے ہیں کہ جنگ عام طورپراس وقت ختم ہوتی ہے جب جنگ کرنے والے دونوں ممالک ایک دوسرے کی طاقت کوختم کرنے کی بجائے اپنی اپنی جگہ شکست خورہ ہوجاتے ہیں۔ بھارت وہ ملک ہے جوپاکستان اورچین کے درمیان پھنساہواہے ،اس پرمستزاداس کی کئی ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں بھی چل رہی ہیں ۔مقبوضہ کشمیرمیں اس نے تحریک آزادی کو دبانے کیلئے سات لاکھ سے زائدفوج تعینات کررکھی ہے۔وسطیٰ ہندمیں ماؤنواز گوریلے گزشتہ پچاس برسوں سے اس کادردِ سربنے ہوئے ہیں ۔ شمال مشرق میں الفااورپنجاب میں سکھ اپنی تحریک آزادی کومنظم کئے ہوئے ہیں لیکن مودی سرکار سکھوں یامجاہدین پرالزام لگانے کی بجائے ایسے تمام حملوں کوپاکستان کے کھاتے میں ڈالتی ہے گوکہ تعدادکے لحاظ سے بھارتی فوج پاکستانی فوج سے چارگنازیادہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی فوج کے مقابلے میں ناتجربہ کاراورحوصلہ سے عاری ہے۔
1962ء کی جنگ میںچین نے بھارت میں شمال مشرق کے وسیع علاقے پرقبضہ کرلیاتھالیکن بھارت نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا،اب توچین اورپاکستان دونوں ایٹمی قوت ہیں لیکن بھارتی سرکاراورحکمرانوں کی سوچ یہ ہے کہ امریکہ اوراس کے حلیف قوتوں کے ذریعے ان کی حکمرانی افغانستان سے برماتک پھیل جائے اوراکھنڈبھارت کاخواب پوراہوجائے ،اسی لئے ہرسالبھارت کادفاعی بجٹ بڑھایاجاتاہے۔
یہ حکمران عوام کی بہتری اورخوشحالی پرتوجہ دینے کی بجائے جنگی جنون اورذاتی مفادات جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ان کاخیال یہ ہے کہ وہ جنگی اسلحہ کی برتری کے ذریعے اپنے ہمسایہ ملکوں کودبانے میں کامیاب ہوجائیں گے جبکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ چین کاکچھ نہیں بگاڑسکتے اورجہاں تک پاکستان کاتعلق ہے تو پاکستان بھی اپنے روایتی ہتھیاروں کے حوالے سے دنیامیں گیارہویں بڑی قوت ہے اور جوہری لحاظ سے دنیاکی چھٹی ایٹمی قوت ہے اورعالمی دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان میزائل ٹیکنالوجی میں بھارت اوراس کے مربیوں کوکہیں پیچھے چھوڑچکاہے اورجہاں تک پاکستانی سپاہ کی بہادری اورتجربہ کاری کاتعلق ہے وہ حال ہی میں بھارت کے چیلنج کرکے اس کوسبق سکھاچکاہے اوریہ الگ بات ہے کہ عالمی امن کوملحوظ خاطررکھتے ہوئے پاکستان نے ابھی تک امن کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
پاکستان کی موجودہ حکومت نے داخلی وخارجی محاذوں پرگزشتہ کچھ عرصے سے جونمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں ،بھارت انہیں بے اثربنانے کے درپے ہے ۔افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات ہوں یاچین اورروس جیسی خطہ کی طاقتوں کوساتھ لیکر افغان مسئلہ کاحل تلاش کرنا،چین کے ساتھ اقتصادی اوراسٹرٹیجک راہداری کے منصوبے ہوں یا مشرقِ وسطیٰ کے برادرمسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کی نئی جہت متعارف کراناہویامشرقِ بعیدکے ممالک کے ساتھ نئے رابطے اوراقوام متحدہ،عالمی بینک اورآئی ایم ایف سے تعاون ہو،ان کامیابیوں نے پاکستان کوخطہ کی سیاست میں صف اوّل میں لاکھڑاکیاہے ،یہ سب بھارت کوہضم نہیں ہورہا۔دوسری جانب بھارت کی داخلی صورتحال ہے جہاں دوماہ بعدہونے والے عام انتخابات میں مودی اوربی جے پی کانفرت انگیزنظریہ بری طرح پٹ چکاہے۔دسمبر2018ء میں پانچ ریاستوں کے انتخابات بی جے پی ہارچکی ہے اورنریندرمودی کے قدم اکھڑچکے ہیں۔ 
اس پرمستزادمتعصب ہندومودی سرکارکوعالمی سطح پرپاکستان کی کامیابیوں کاشدیدغم ہے ،اس پس منظر میں پلوامہ ڈرامے کے ذریعے مودی سرکارنے ایک تیرسے دوشکارکرنے کامنصوبہ بنایاجوبری طرح ناکامی سے دوچارہوچکاہے۔اب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کاغم بھی مودی کوکھائے جارہاہے ،یوں داخلی وخارجی محاذوں پربی جے پی کی ناکامیوں نے کانگرس کیلئے اقتدارکی راہ ہموارکردی ہے۔اگرچہ کانگرس بھی ہندوتوا کے شکنجہ سے نکل نہیں سکتی تاہم بھارت کے بائیس کروڑ مسلمانوں کیلئے یہ بی جے پی سے کم زہریلی ہے۔ مودی حکومت نے بجٹ کے ذریعے بھارتی عوام کوخوش فہمیوں میں مبتلا کرنے کی کوشش کی ہے ،اس کاپردہ نہ صرف حزبِ اختلاف بلکہ سوشل میڈیاپر بڑے پیمانے پرچاک ہوچکاہے۔
 بھارت نے پاکستانی سرحدکے قریب فوجی مشقوں کاآغازکیا۔ان مشقوں میں 137لڑاکا طیارے اورمیزائل استعمال کیے۔مودی سرکاریہ سارے جتن اپنی نام نہادسرکار کوبچانے کیلئے کررہی ہے لیکن حزبِ اختلاف کی 21جماعتوں نے مشترکہ طورپرمودی سرکارپرملک کی فوج کوپاکستان کے خلاف استعمال کرنے کاالزام لگاتے ہوئے انتخاب جیتنے کاجوالزام لگایاہے ،اس کے بعدمودی سرکارپر رافیل جہازوں میں تین ہزارکروڑ روپے کی کرپشن کاسکینڈل بھی سامنے آگیاہے۔مودی کے جنگی جنون کے جواب میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی جماعتوں نے جس مدبرانہ اندازمیں جواب دیا ہے ،اس نے بھی مودی سرکارکی سیاسی ساکھ کوناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ابھی حال ہی میں بی جے پی کے ایک لیڈر کا بیان کہ پاکستان پرفضائی، حملوں سے بی جے پی تیس کے قریب زائدسیٹیں جیت سکتی ہے ، نے بھی بی جے پی کے بھیانک چہرے کانقاب اتار دیاہے اورعالمی سطح پربھی مودی کوخفت کاسامنا کرناپڑ رہاہے۔ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ مودی سرکارنے خودبھارت کی ساکھ کوجونقصان پہنچایاہے، اس کیلئے بھارت کوکسی دشمن کی ضرورت نہیں۔

 

تازہ ترین خبریں