08:40 am
عورتوں کے حقوق کے اصل دشمن؟

عورتوں کے حقوق کے اصل دشمن؟

08:40 am

جو بدنام زمانہ مائنڈ سیٹ عورتوں کو بازار اور اشتہار کی زینت بنا کر بے راہ روی کو عام کر رہا ہے‘ عورتوں کے حقوق کا اصل دشمن دراصل وہی ہے‘ یہ گھٹیا اور ملحدانہ مائینڈ سیٹ ہے کہ جو صابن کا اشتہار ہو‘ شمپو کا اشتہار ہو‘ گاڑیوں کا اشتہارہو‘ موبائل کا اشتہار ہو‘دودھ کا اشتہار ہو‘ چائے کا اشتہار ہو‘ پائوڈر کا اشتہار ہو‘ مکان ‘ فرنیچر‘ دوکان‘ دفتر‘ غرضیکہ ہر اچھی ‘ بری چیز کے لئے صنف نازک کو گھسیٹا جاتا ہے اور تو اور جو میڈیا عورتوں کے حقوق کے نام پر مغربی طوفان کھڑا کرنے کی کوششیں کرتا ہے ’’عورت‘‘ ذات کی سب سے زیادہ توہین کا مرتکب بھی وہی ہوتا ہے۔
 
مجھے روزنامہ اوصاف کے جواں سال گروپ ایڈیٹر محسن بلال خان کا وہ جملہ یاد آتا ہے کہ جب انہیں بتایا گیا کہ سنڈے میگزین کی کامیابی کے لئے ’’عورت‘‘ کی تصویر والا ٹائیٹل ہونا لازمی ہے تو گروپ ایڈیٹر اوصاف کا جواب یہ تھا کہ ہمیں وہ ’’کامیابی‘‘ اور رزق نہیں چاہیے کہ جو عورت کی ’’دلالی‘‘ کے ذریعے حاصل ہو۔
سوال یہ ہے کہ پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا مالکان میں اس صاف ذہن کے اور کتنے لوگ موجود ہیں؟ عورتوں کو ماں کی گود سے لے کر قبر کی گور تک زندگی کے تمام اصول اور تمام تر حقوق مذہب اسلام نے عطا فرمائے ہیں۔
اسلام سے پہلے عرب کے بعض قبائل بچیوں کو زندہ زمین میں گاڑ دیتے تھے‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کی لڑکی پیدا  ہو وہ نہ تو اسے زندہ دفن کرے اور نہ ہی  اس کے ساتھ برا سلوک کرے اور نہ اس پر اپنے لڑکے کو ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔(سنن ابی داؤد)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے تین  بیٹیوں کی پرورش کی، انہیں (اخلاقی و معاشرتی) ادب سکھلایا ،ان کی (اچھی جگہ )شادی کی اور(بعد میں) ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔(سنن ابی داؤد)
جب سے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو وجود بخشا اسی وقت سے مرد و عورت لازم و ملزوم کی حیثیت سے برابر چلے آرہے ہیں‘ مرد کو اللہ تعالیٰ نے خارجی امور کا ذمہ دار قرار دیا اور عورت کو امور خانہ داری کے فرائض سونپے‘ مرد گھر سے باہر کے تمام معاملات کا نگہبان ہے اور عورت کو گھر کے اندرکے سارے امورتفویض ہوئے ہیں۔چونکہ مرد وزن دونوں ہی معاشرے میں اپنی اپنی الگ الگ حیثیت کے حامل ہیں اس لیے دونوں کو آفاقی و سماوی ہدایات و احکامات کا مکلف بنایا گیا ہے۔ احکام اسلامیہ پر عمل دونوں کے لیے ضروری ہے‘اب دوسری طرف یہ بات اپنی جگہ پر مسلم ہے کہ عمل کا مدار علم پرہے۔ علم صحیح ہو گا تو عمل بھی درست ہوگا اور اگر علم صحیح نہ ہوا تو عمل بیکار ہوگا‘ اس تناظر میں جیسے مرد کی تعلیم اس کی ضرورت ہے ایسے ہی خاتون کی تعلیم بھی اس کی زندگی کا جزو لاینفک ہے... اگر مرد تعلیم کے حصول کے بغیر زندگی گزارے گا تو معاشرے کے لیے وبال جان اور سراسر خسارے اٹھانے والا ہوگا... اسی طرح اگر عورت تعلیم حاصل نہیں کرے گی تو معاشرے  پر بوجھ بنے گی۔معلوم ہوا کہ مرد کی طرح عورت کی تعلیم بھی ناگزیر ہے‘  اسلام کے نظام ِتعلیم میں عورت کی محض تعلیم ہی نہیں بلکہ اس کے حیاء  ، تقدس اور عزت و شرافت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے کہ یہ تعلیم تو بہر حال حاصل کرے ہی لیکن اسلام کے مقرر کردہ دائرے کے اندر رہتے ہوئے ، ایسی تعلیم جس سے اس کی دنیا بھی سنور جائے اور آخرت بھی۔چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے خواتین کی تعلیم کے سلسلے میں صحیح بخاری میں باب قائم کیا ہے:باب عظۃ الامام النساء وتعلیمہنّ۔  آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے صحابہ کرامؓ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تعلیم و تربیت سے نوازتے ویسے ہی صحابیات ؓکے درمیان بھی تعلیم و موعظت فرمایا کرتے تھے‘نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ اور منہج کو دیکھتے ہوئے شارحین حدیث یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اسلام میں خواتین کی تعلیم ضروری ہے لیکن حصولِ تعلیم کے وقت اس بات کا بخوبی جائزہ لینا چاہیے کہ جو امور اسے زندگی میں پیش آتے رہتے ہیں انہی امور کی تعلیم سے آراستہ کرنا چاہیے... یعنی لکھنا پڑھنا ،عقائد و اعمال کی اصلاح ، تہذیب و شائستگی ، وہ علوم جن پر دنیوی و اخروی فلاح و کامیابی منحصر ہے ، تربیت اولاد ، اطاعت زوج اور حقوق العباد وغیرہ‘اس حدتک تو اسلام کے نظام تعلیم میں خواتین کے حصول علم کی اجازت اور ضرورت ثابت ہے۔بچیوں  کو اپنی  عزت و آبرو ، حیا وقار اور شرافت کی حدود میں رہ کر تعلیم حاصل کرنی چاہیے تاکہ اس کی عفت ، پاکدامنی ، اسلامی تمدن و تہذیب  پامال نہ ہونے پائے۔ 
اللہ  کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے مردوں کی تعلیم و تربیت فرمائی ہے اسی طرح خواتین کی تعلیم و تربیت فرمائی ہے۔ تربیت کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں متعدد احادیث میں خواتین کو زندگی گزارنے کی تعلیمات ارشاد فرمائی ہیں وہیں پر بطور خاص ان کی اخلاقی و روحانی تربیت کے پیش نظر ان سے چند اہم امور پر بیعت بھی لی ہے‘قرآن کریم میں ہے : اے نبی! جب آپ کے پاس ایمان والی خواتین ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی ، چوری نہیں کریں گی ، زنا نہیں کریں گی ، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی ،  نہ کوئی ایسا بہتان باندھیں گی جو انہوں نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں سے گھڑ لیا ہو  اور نہ ہی کسی اچھے کام میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو آپ انہیں بیعت کر لیا کریں اور ان کے حق میں اللہ سے مغفرت کی دعا کیا کریں ، یقیناً اللہ بہت زیاادہ بخشنے والا اور بے حد مہربان ہے۔(پ28، سورۃ الممتحنۃ ، آیت نمبر 12) 
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں