08:41 am
بھارت باز نہ آیا 

بھارت باز نہ آیا 

08:41 am

٭زرداری صاحب! بلاول کو مجھے دیں، سیاست کے ’گرسکھا دوں گا‘۔فضل الرحمن! ’’مولانا! آپ کی پرانی سیاست بے کار ہے، مجھ سے جدید سیاست سیکھئے‘‘ بلاول زرداریO کنٹرول لائن پر شدید گولہ باری، دونوں طرف سے جانی و مالی نقصان! سات بھارتی فوجی مارے گئےO رہائی کا 8 واں دن، نوازشریف کا کوئی علاج نہ ہواO’’میں وزیراعظم کی آمد سے بے خبر تھا، کہیں بلایا بھی نہیں گیا‘‘ وزیراعلیٰ سندھ O وزیراطلاعات پی ٹی وی سے فارغ O ٹی وی اینکر پرسن شاہد مسعود ملک چھوڑ گیا O مونس الٰہی کی بجائے بریگیڈیئر اعجاز شاہ کو وزیر بنا دیا گیا O ق لیگ اور تحریک انصاف میں رنجشیں۔
 
٭کنٹرول لائن پر گزشتہ روز آرپار شدید فائرنگ ہوئی ۔ آزادکشمیر میں پاکستان کے تین فوجی شہید، مقبوضہ کشمیر میں سات بھارتی فوجی مارے گئے۔ دونوں طرف متعدد چوکیوں کی تباہی کے دعوے۔ گزشتہ کالم میں بھارتی ہنومانی وزیراعظم اور فوجی بھیڑیوں کے بارے میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں۔ مقبوضہ کشمیر میںکچھ بھارتی فوجی تو کنٹرول لائن پر مارے جاتے ہیں، کچھ حریت پسندوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور بہت سے ویسے ہی خود کشی کر لیتے ہیں۔ان فوجیوں کی لاشیں رات کے اندھیرے میں ان کے گھروں کو بھیجی جاتی ہیں، ساتھ ہدائت ہوتی ہے کہ راتوں رات ان کا کریا کرم (آخری رسوم)کر دیا جائے۔ خود بھارتی میڈیا کا بیان ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی اس صورت حال کے پیش نظر ہر چھ ماہ بعد وہاں متعین فوجی دستے (کل سات لاکھ فوج) تبدیل کر دیئے جاتے ہیں اور نئے دستے بھیج دیئے جاتے ہیں،تاہم پھربار بار پرانے دستوں کی باری آتی رہتی ہے۔ یوں پوری فوج مسلسل ہراساں رہتی ہے۔ فوجی 24 گھنٹے الرٹ اور خوفزدہ رہتے ہیں۔ اس صورت حال سے خوف زدہ فوجیوں کی 300 سے زیادہ خودکشیاں ہو چکی ہیں۔ ایک اخبار، انڈین ایکسپریس کے مطابق کسی فوجی کی مقبوضہ کشمیر میںڈیوٹی لگتی ہے تو اس کے گھروالے مندروں میں جا کر اس کے زندہ واپس آنے کی پوجا پاٹ کرنے لگتے ہیں!
٭آج کل فوجی و سیاسی قیادتیں خاص طور پر علمائے کرام سے رابطے قائم کر رہی ہیں۔ پہلے جنرل جاوید قمر باجوہ سے علما کے ایک وفد نے ملاقات کی، پھر ایک ایسا وفد وزیراعظم عمران خاں سے ملا۔ یہ ملاقاتیں بہت خوش گوار اور خوش آئند رہیں۔ اہم بات یہ کہ ان ملاقاتوں میں صرف خالص دینی علوم والے علما تھے، اور اپوزیشن میں شامل مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، عبدالغفور حیدری اور دوسرے علماء شامل نہیں ہوئے۔ جنرل باجوہ اپنا عہدہ اٹھانے کے فوری بعد بعض علما سے رسمی ملاقات کر چکے تھے مگرحالیہ ملاقات تین چار گھنٹے جاری رہی۔ ہمارے علمائے کرام نے دینی سطح پر ہمیشہ ملک و قوم کے استحکام اور دفاع کی نہائت قابل تحسین خدمت کی ہے۔ میں جنرل باجوہ اور وزیراعظم عمران خاں کی دینی و مذہبی حلقوں کی قابل تحسین پذیرائی کا خیر مقدم کرتا ہوں۔
٭وزیراعظم عمران نے پہلے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور سابق وزیر جہانگیر ترین کی دیر تک ’’تُوتُو مَیں مَیں‘‘ کا لطف اٹھایا پھر ان دونوں اور ان کے دُم چھلوں کو ایک دوسرے کے خلاف ’رَجَز‘ پڑھنے سے روک دیا۔ ان دونوں کے دلوں کا کچھ غبار نکل چکا تھا، کچھ حسرتیں باقی رہ گئی تھیں مگر اچانک بریک لگ گئی۔ معاملہ سادہ تھا۔ شاہ محمود قریشی کا ہمیشہ سے اردگرد کی دیواروں سے ’اَکھ مٹکا‘ (جھگڑا) رہتا ہے۔ لودھراں میں ترین خاندان، گھر میں بڑے بھائی سے اَن بَن، بائیں طرف آصف زرداری، دائیں طرف شہباز شریف، سامنے فضل الرحمن سے چومکھی! حتیٰ کہ انتخابات میں سندھ میں جا کر بھی زور آزمائی کر آتے ہیں۔ لودھراں میں جہانگیر ترین کو ہرا دیا۔ جواب میں ترین گروپ کے ایک نوجوان شاگرد نے قریشی صاحب کے ہاتھ میں آئی ہوئی صوبائی اسمبلی کی سیٹ چھین لی! یہ سیٹ ہاتھ آ جاتی تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ جیب میں ہوتی۔ اس کے سامنے ہر وقت ملکوں ملکوں پھرتے رہنے والی وزارت خارجہ کی کیا اہمیت تھی؟ نوازشریف کے دور کے وزیرخارجہ گوہر ایوب نے 21 ملکوں کے دورے کر کے مزید انکار کر دیا کہ گھر رہ کر بچوں سے باتیں کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ اس کے برعکس وزیراعلیٰ کے عہدے کی کیا شان ہے! عثمان بزدار وزیراعلیٰ بن کر پہلی بار لاہور کی مال روڈ پر نکلے تو پیچھے پروٹوکول کی صرف تین گاڑیاں تھیں۔ چند روز کے بعد ڈی جی خان سے گزرکر اپنے گائوں گئے تو پروٹوکول کی 30 گاڑیاں شامل ہو چکی تھیں۔ گائوں والوں نے بعض گاڑیاںپہلی بار دیکھی تھیں۔ بات کچھ لمبی ہو گئی۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے حاشیہ بردار اردگرد چھتوں پر کھڑے تحریک انصاف کے دونوںپہلوانوں کی کشتی دیکھتے اورڈگڈگی بجانے لگتے تھے۔ مگر واحسرتا! کہ قبیلے کے چودھری نے عین اس وقت تماشا روک دیا، جب دونوں میں سے ایک فریق کا نعرہ آنے ہی والا تھا کہ ’’میں چلی مَیکے!‘‘
٭مختلف ٹیلی ویژنوں اور اندھا دھند گرجنے برسنے والے ڈاکٹر شاہد مسعود نام کے ایک اینکر پرسن نے اس انداز میں ملک چھوڑنے کا اعلان کر دیا جس طرح ایک گائوں والوں سے ناراض ہو کر ایک بُڑھیا اپنا مُرغا بغل میں داب کر گائوں کی طرف منہ کر کے یہ کہتی ہوئی چلی گئی کہ اب نہ میرا مرغا بانگ دے گا، نہ تم جاگ سکو گے! سوئے رہو کم بختو! شاہد مسعود کو رنج تھاکہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے 200 ممالک میں سب سے بڑا عالم فاضل اور دانشور تھا۔ اس کے والد نے لاکھوں خرچ کر کے اسے لندن کے مشہور کالج سے سرجری کی سب سے بڑی میڈیکل ڈگری’ایف آر سی ایس‘ دلائی۔ اس کوچہرہ نمائی اور دانش وری بگھارنے کا چسکا تھا۔ اس نے ڈگری الماری میں بند کی اور مختلف ٹیلی ویژنوں پر گرج برس کر حکمرانوں، صحافیوں اور اساتذہ کو اپنے نہائت نادر’ حکیمانہ‘ خیالات سے نوازنا شروع کر دیا۔ کچھ پڑھنے کی بجائے سُنی سنائی خبروں اور اپنے گھڑے ہوئے تجزیوں سے حکمرانوں کو ڈراتا کہ آئو میرے پیچھے چلو! اسی انداز میں قصور کی ایک بچی کے قاتل کے بارے میں من گھڑت خبر نشر کر دی۔ کیس سپریم کورٹ میں تھا۔ عدالت نے ثبوت مانگا تو ملک کی سب سے بڑی عدالت کے روبرو رعونت اور سخت کلامی کا یوں مظاہرہ کیا جیسے کہہ رہا ہو کہ تم! مجھے پوچھ رہے ہو؟ یہ ہمت؟ پھر جو ہونا تھاہوا، ہتھکڑیاں لگیں تو ہوش آیا۔ تین بار اس کی ٹیلی ویژن پر رونمائی بند کی جا چکی تھی۔ ہتھکڑیاں لگنے سے بے عزتی ہو گئی۔ اور پھربڑھیا اپنا مرغا اٹھائے چلی گئی!
٭مجھے وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری سے کچھ ہمدردی سی ہونے لگی ہے۔ کیا رعب تھا! کیا ٹھاٹ تھے! ٹیلی ویژن کا ادارہ ماتحت تھا، کبھی وہاں آنا ہوتا تو سرخ قالین والا استقبال ہوتا، دروازے پر نفیریاں بجتیں۔ مگر حالات کی کَج روی! قصر شہی نے یہ سارے ٹھاٹ واپس لے لئے! افسوس! صد افسوس! اب کیا لطف رہ گیا ہے، اس زندگی میں!
٭بلاول نے ذرا پرپرزے نکالنے شروع کئے تو مولانا نے محسوس کیا کہ اسے کسی استاد کی ضرورت ہے جواسے سیاسی Tips (چالیں،گُر) سکھائے، خواہش کا اظہار کیا کہ آصف زرداری اس بچے کو ان کے حوالے کر دے تو سیاسی شطرنج کی چالیں چلنے میںماہر ہو جائے گا۔ زیادہ محنت کے بغیر تھوڑی سی سیٹیں لے کر دو میں ہر حکومت کو کس طرح فرمانبردار بنایا جا سکتا ہے۔ مگر دوسری طرف شاہین بچہ خود اپنے جہاں دیدہ باپ کا تربیت یافتہ تھا کہ صرف ایک چند سطری وصیت دکھا کر کس طرح ملک کا صدر بنا سکتا ہے۔ کہتے ہیں ’’بڑے کوے نے بچہ کوے سے کہا کہ کسی شخص کو جھکتا دیکھو تو سمجھ لو کہ تمہیںمارنے کے لئے پتھر اٹھا رہا ہے۔ چھوٹا کوا بولا کہ ابا جان! اگر اس نے پہلے سے ہی ہاتھ میں کنکر اٹھایا ہوا تو؟ بڑا کوا بولا کہ اوہو! میں تو بھول گیا تھا کہ تو کوے کا بچہ ہے‘‘۔ صاحبان! اس واقعہ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ برخوردار عزیزی بلاول زرداری نے کیا جواب دیا ہے کہ مولانا آپ پرانی بے کار سیاست چلا رہے ، میں جدید سیاست کر رہا ہوں مجھ سے آ کر سیاست سیکھئے!
 

تازہ ترین خبریں