08:26 am
 گوادرپورٹ

گوادرپورٹ

08:26 am

پورے ملک کی نگاہیں گوادر  پر لگی ہوئی ہیں ، یہ صرف ایک بندر گاہ نہیں بلکہ صحیح معنوں میں ملکی معیشت کا گیم چینجر ہے۔بلوچستان کیلئے تو یہ کسی نعمت  سے کم نہیں مگر پاکستاں کی معیشت اور تجارت کیلئے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جنوب اور وسط ایشیاء میں واقع ممالک کیلئے بھی گوادر پورٹ معاشی حب کی حیثیت رکھتی ہے۔بلوچستان اگر چہ مملکت پاکستان کے کل رقبہ کے 44فیصد پر محیط ہے مگر زراعت،صنعت،تجارت نہ ہونے کے باعث صوبہ کی ترقی کی رفتار بہت سست رہی،نہری اور زمینی پانی کی کمی،زمین کا ہموار نہ ہونا،پہاڑی سلسلے،صحرائی اور پتھریلی زمین زراعت کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے، ورنہ نصیر آباد اور قلات ،لورالائی، ژوب سمیت جن علاقوں میں فصل ہوتی ہے وہاں کی زمین بہت زرخیز ہے۔نصیر آباد واحد ضلع ہے جہاں نہری پانی دستیاب ہے،ستم یہ کہ ماضی کی کسی حکومت نے بلوچستان کی زرخیز زمین کو کار آمد بنانے کیلئے کوئی منصوبہ تشکیل دیا نہ اس حوالے سے کوئی ڈیٹا وضع کیا گیا،نتیجے میں آج بھی لاکھوں ایکڑ اراضی بے آب و گیاہ پڑی ہے،حالانکہ دنیا  کی بہترین کھجور پنجگور اور تربت کے علاقہ میں پیدا ہوتی ہے ،صرف ان کی پیداوار اور برآمد پر توجہ دی جائے تو بلوچستان کی معیشت کو سہارا دیا جا سکتا ہے، صوبہ میں ہینڈی کرافٹ کی صنعت پرتوجہ دی جاتی تو صرف جانوروں کی اون سے تیار شدہ قالین کی تجارت سے ہی بھاری زر مبادلہ حاصل کیا جا سکتا تھا،مگر حکومتی سر پرستی نہ ہونے سے یہ شعبہ بھی جانکنی کے عالم میں ہے،ماہی پروری اور مویشی پال سکیموں کو بڑھاوادیا جائے تو صوبہ ہی نہیں پورے ملک کی، گوشت،دودھ کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے اور چمڑے کی صنعت کو ترقی  مل  سکتی ہے،مگر  کسی وفاقی ، صوبائی حکومت نے اس ہاتھ کی تجارت پر توجہ دی  نہ اس کاروبار سے وابستہ افراد کی حوصلہ افزائی کی گئی،نتیجے میں بلوچستان کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔     معدنیات اس صوبہ کو قدرت کا تحفہ ہے مگر صرف کوئلہ،گیس اور تیل کے ذخائر پر توجہ ہے،تانبہ،نکل،بہترین ماربل جس کی عالمی منڈی میں بھی کھپت ہے،  لاوارث  پڑا ہے  ۔اگر ان پر کام کیا جاتا تو ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے اور برآمدات سے زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا تھا،کوئٹہ کے سوا پورے صوبہ میں صنعت نام کا کوئی جانور دستیاب نہیں،سبی کے قریب ہرنائی وولن ملز اپنے دور کی بہت بڑی صنعت تھی مگر قومیائے جانے کے بعد یہ مل عرصہ دراز سے بند پڑی ہے،اگر ماضی کی حکومتیں ہر بڑے شہر میں صنعتی زون قائم کرتیں اور جس طرح ماضی میں کے پی کے میں صنعتی زون قائم کئے تھے،ایسا ہوتا تو صوبہ آج ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوتا۔ گوادر پہلا قومی نہیں بلکہ عالمی سطح کا منصوبہ ہے جو صوبہ کی ترقی کا ضامن بھی ہے،اگر چہ گوادر میں مقامی آبادی کا تناسب بہت کم ہے،آبادی کی اکثریت کا ذریعہ معاش سمندر سے مچھلیاں پکڑنا ہے،مگر مچھلی کو محفوظ بنانے اور اس کی بر آمد کیلئے کوئی حکومتی منصوبہ نہیں،جس کی  وجہ سے اس شعبہ پر بھی جمود طاری ہے۔ گوادر پورٹ کی تعمیر سے مچھلی کی صنعت کو بھی فروغ حاصل ہو گا،،مقامی آبادی کو روزگار بھی ملے گا،مقامی صنعت کو بھی پنپنے کا موقع ملے گا۔ شنید ہے کہ گوادر پورٹ کے کھلے سمندر میں ڈرلنگ کے بعد تیل کے ذخائر کی اطلاع ملی ہے،سعودی عرب گوادر میں آئل ریفائنری بھی لگا رہا ہے،جس کا معاہدہ طے پا چکا ہے،ریفائنری کی تنصیب کے بعد علاقہ میں نہ صرف روزگار بلکہ کاروبار

 کے بھی وسیع مواقع پیدا ہونگے۔ گوادر کی اہمیت کا احساس حکمرانوں کو 1993ء میں ہواء،یو اے ای کی ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے یہاں ایک بڑی پورٹ بنانے  کی منصوبہ بندی کی گئی جو وسط اور جنوب ایشیائی ممالک کیلئے تجارت کا آسان اور سستا ذریعہ ثابت ہو،منصوبہ پر کام شروع کر دیا گیا،زمین کی خرید و فروخت سے علاقہ میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہواء،روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے،مگر فنڈز کی کمی ،منصوبہ بندی کے فقدان اور سیاسی عدم استحکام کے باعث گوادر پورٹ سنگا پور پورٹ اتھارٹی کو 40سالہ لیز پر دیدی گئی،تاہم لیز پر دئیے جانے کے عمل پر بلوچستان حکومت کو اعتماد میں نہ لیا گیا،جس پر وزیر اعلیٰ  ذوالفقار مگسی نے تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا  ۔بلوچستان کا یہ مسئلہ بہت پرانا ہے،ون یونٹ سے قبل بلوچستان کے حوالے سے فیصلے لاہور میں ہوتے تھے،صوبہ کا درجہ ملنے کے بعد بھی فیصلے اسلام آباد میں ہوتے ہیں،ان فیصلوں میں عوام کے منتخب نمائندوں کی رائے کو بھی کم ہی اہمیت دی جاتی ہے،البتہ آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے اپنی ہاں میں ہاں ملانے والے افراد کو شامل کر لیا جاتا ہے،اس روئیے پر بلوچ قیادت ہمیشہ شاکی رہی،مگر ان کے شکوئوں پر کسی نے رتی بھر توجہ نہ دی ۔    گوادر تیزی سے ترقی پذیر ہے اوراس کی آبادی 20لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ترقیاتی عمل بھی جاری و ساری ہے،گوادر سے کاشغر تک زمینی راستے بھی تعمیر کئے جا رہے ہیں جن کے ذریعے روس،چین،وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی آسان ہو جائے گی،تجارتی سامان جس کی نقل و حرکت پر بھاری سرمایہ خرچ ہوتا تھا اب مختصر وقت میں کم خرچہ پر لانا بھیجنا ممکن ہو جائے گا،گوادر پورٹ اب سی پیک کا اہم حصہ ہے اور سامان تجارت کی ترسیل کیلئے ملک بھر میں اعلیٰ معیار کی سڑکوں کی تعمیر بھی جاری ہے،جس سے اندرون ملک بھی سفر اور تجارتی سامان کی ترسیل آسان ہو جائے گی،جنوب   ایشیائی ممالک کیلئے بھی انفراسٹرکچر کی تعمیر ہو رہی ہے ،اس منصوبہ کی تکمیل کے بعد سارک ممالک میں تجارت کو فروغ ملے گا،چین نے اس منصوبہ پر سیکڑوں ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے،دیگر ممالک بھی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں،گوادر پورٹ کو اگر مشن کے تحت چلایا گیا تو ہانگ کانگ،سنگا پور،دبئی کی طرز پر تیز رفتار ترقی بلوچستا ن اور پاکستان کا مقدر بن سکی ہے۔
کالم

 

تازہ ترین خبریں