08:28 am
چین کی معاشی عالمی برتری

چین کی معاشی عالمی برتری

08:28 am

جنوری 2018 میں برسلز کا شاندار بوزار تھیٹر تاریخی لمحات سے متعلق عوامی جمہوریہ چین کی ویڈیو کا بیک ڈراپ تھا۔ یہ موقع تھا چینی نئے سال کے جشن کا۔ ایک گلوکار فن کا مظاہرہ کر رہا تھا اور اس کی پشت پر چلائی جانے والی ویڈیو میں چین کی کامیابیوں کو نمایاں طور پر پیش کیا جارہا تھا۔ ویڈیو میں چین کے پہلے جوہری دھماکے، عالمی تجارتی تنظیم میں شمولیت، پہلے طیارہ بردار جہاز کی تیاری اور دیگر معاملات سے دنیا کو آگاہ کیا جارہا تھا۔ حاضرین میں موجود سفارت کار، فوجی نمائندے اور دیگر حکام دم سادھے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ سوال یہ نہیں تھا کہ وہ چین کی کامیابیوں کو دیکھ کر متاثر ہو رہے تھے یا نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ متاثر ہو بھی رہے ہوں، مگر اِس سے کہیں بڑھ کر وہ حیرت زدہ بھی تھے اور تشویش میں بھی مبتلا تھے۔ چین کی بڑھتی ہوئی عسکری قوت، معیشت کے پنپتے ہوئے حجم اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت نے یورپ کے بہت سے پالیسی سازوں کو خوابِ غفلت سے جگا دیا ہے۔ یورپی یونین ایک زمانے سے غیر اعلانیہ طور پر، مشنری انداز سے چین کے بارے میں سوچتی آئی ہے۔ چین کے مستقبل کے حوالے سے مختلف اندازے لگائے جاتے رہے ہیں مگر اب اندازہ ہوتا ہے کہ بیشتر اندازے خام خیالی یا خوش فہمی پر مشتمل تھے۔

چین کی معاشی و عسکری قوت میں غیر معمولی اضافے کے ساتھ بیجنگ، واشنگٹن اور برسلز کی اسٹریٹجک تکون میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکا نے چین کو اسٹریٹجک مدمقابل کے روپ میں زیادہ دیکھا ہے۔ یورپ کے بیشتر قائدین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کسی بھی وقت کچھ بھی کہہ سکتے ہیں اور ان پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ اِس کے نتیجے میں بیشتر یورپی طاقتیں اب حکمت عملی کے حوالے سے زیادہ خود مختاری کی طرف رواں ہوئی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں افغانستان اور شام سے فوج نکالنے کا اعلان کرکے امریکا کی 17 سالہ ملٹری ڈاکٹرائن کے حوالے سے یو ٹرن لیا ہے۔ بہت سوں کے خیال میں اِسی فیصلے نے جیمز میٹس کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ اور یہ کہ اب یورپ کی سلامتی کے حوالے سے معاملات پریشان کن ہوچلے ہیں۔
دسمبر 2018 میں بیجنگ نے یورپی یونین سے تعلقات کے حوالے سے وائٹ پیپر شائع کیا۔ اس وائٹ پیپر میں درج ہے کہ کس طرح چین نے یورپی طاقتوں کے ساتھ مختلف شعبوں میں مل کر کام کیا۔ بالخصوص ہائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں۔ وائٹ پیپر میں یہ بھی درج ہے کہ بیجنگ تائیوان اور تبت کے مسئلے پر برسلز سے کیا امید رکھتا ہے۔ اور کس طور چین نے اظہار رائے کی آزادی کیلئے خطرہ بننے والی جعلی اور من گھڑت خبروں کے سدباب کیلئے بھی یورپی یونین کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ وائٹ پیپر میں یہ بھی درج ہے کہ امریکا کے یکطرفہ اقدامات کے آگے بند باندھنے کیلئے یورپ کو چین کا ساتھ دینا چاہیے۔ چینی قیادت نے اس وائٹ پیپر میں یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ جہاں کہیں بھی امریکا کے انخلا سے خلا پیدا ہوا ہے وہاں وہ اپنا کردار ادا کرکے خلا پر کرنے کو تیار ہے۔ جرمی رفکن کے الفاظ میں کہیے تو چین نے مابعدِ جدیدیت کے لمحاتِ سعید میں دو عشروں تک یورپی خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشش کی۔ یورپی یونین کے بعض حکام کہتے ہیں کہ یورپی یونین جیو پالیٹکس نہیں کرتی اور یورپ میں بہت سوں کا خیال ہے کہ جو کچھ بھی یورپی یونین کرتی ہے اس کے سیاسی عواقب برآمد نہیں ہوتے۔ یوں یورپی یونین اپنے علاقے کو بڑی طاقتوں کیلئے پلے گرائونڈ کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یورپ نے خاصی مشقت سے جو خوئے اطاعت پروان چڑھائی ہے، اس نے چین کو بھی کھل کر کھیلنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے ہیں۔ روس نے یوکرین کے حوالے سے طاقت کا غیر معمولی مظاہرہ کیا اور یوکرین سے جڑے ہوئے چند اور یورپی ممالک کو بھی کسی حد تک متاثر کیا مگر یورپی یونین کے مجموعی ماحول پر اس کا کچھ خاص منفی اثر مرتب نہیں ہوا۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں